تقویۃ الایمان (کتاب)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(تقویۃ الایمان سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search

تقویۃ الایمان (تلفظ:تَقْوِیَۃُ الْاِیْمَان) شاہ اسماعیل دہلوی کی مشہور و معروف اور متنازع ترین اردو کتابوں میں سے ایک ہے۔ اپنی اشاعت سے لے کر آج تک اس کے اثرات برابر جاری ہیں۔ اشاعت کے ساتھ ہی علما نے اس پر سخت نکتہ چینی کی اور اس کے پرتشدد جملوں پر تحفظات کا اظہار کیا۔[1] بعد میں مختلف اداروں اور شخصیات نے اس کو ترمیم کے ساتھ ہی شائع کیا ہے۔ اس پر حکومت پاکستان کی طرف سے پابندی عائد کی جا چکی ہے۔ کتاب کا ترجمہ کئی زبانوں میں ہو چکا ہے۔[حوالہ درکار]

پس منظر

اشرف علی تھانوی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ، اسماعیل دہلوی نے کتاب لکھنے کے بعد، اپنے چند ساتھیوں کے سامنے پیش کی اور کہا

میں نے یہ کتاب لکھی ہے اور میں جانتا ہوں کہ اس میں بعض جگہ ذرا تیز الفاظ آ گئے ہیں اور بعض جگہ تشدد ہو گیا ہے۔ مثلا ان امور کو جو شرک خفی تھے شرک جلی لکھ دیا گیا ہے۔ ان موجہ سے مجھے اندیشہ ہے کہ اس کی اشاعت سے شورش ہو ضرور ہو گی۔۔۔۔گو اس سے شورش ہو گی۔ مگر توقع ہے کہ لڑ بھڑ کر خود ٹھیک ہو جائیں گے۔[2]

اشاعت

اثرات

کتاب شائع ہوتے ہی، مصنف کے خدشات کے مطابق شورش اور سخت رد عمل شروع ہو گیا۔ برصغیر میں کسی کتاب کا اتنا رد نہیں کیا گیا، جتنا اس کتاب کا۔ بیسیوں لوگوں نے کتاب سے اثر لے کر، اپنا عقیدہ تبدیل کیا۔ کتاب سے پیدا ہونے والے کئی مسائل جیسے مسئلہ امتناع نظیر اور مسئلہ امکان نظیر، اثر ابن عباس، خاتم النبین کا مطلب، حیات انبیا بعد از وفات انبیا، استعانت غیر اللہ، وسیلہ وغیرہ کی وجہ سے علما ایک دوسرے کے مقابل آتے گئے اور آخر کار دوگروہوں میں بٹ گئے، ایک وہابی کہلانا لگا تو دوسرا سنی حنفی، آگے چل کر وہابی؛ اہل حدیث کہلائے، تقلید پر قائم رہنے والے؛ دیوبندی، جبکہ اس کتاب کے مخالف بریلوی مکتب فکر کے لوگ رہ گئے۔ مولانا سید احمد رضا بجنوری کتاب کے اس انتہائی اثر پر لکھتے ہیں

افسوس ہے کہ اس کتاب کی وجہ سے مسلمانان ہند و پاک جن کی تعداد بیس کروڑ سے زیادہ ہے اور نوے فیصد حنفی المسلک ہیں۔ دو گروہ میں بٹ گئے ہیں[3]

رد عمل

مناظرے

1240ھ میں جامع مسجد دہلی میں مشہور مناظرہ ہوا، جس میں مولانا منور الدین اور تمام علمائے دہلی ایک طرف اور دوسری طرف اسماعیل دہلوی اور مولوی عبد الحی تھے۔

فتوے

کتابیں

تقویۃ الایمان کے رد میں کئی رسالے شائع ہوئے۔ مولانا شاہ فضل امام حضرت شاہ احمد سعید دہلوی شاگرد رشید مولانا شاہ عبد العزیز محدث دہلوی، مولانا فضلِ حق خیر آبادی، مولانا عنایت احمد کاکوروی مصنف علم الصیغہ، مولانا شاہ رؤف احمد نقشبندی مجدّدی تلمیذ ِرشید شاہ عبد العزیز محدث دہلوی نے’’ مولوی اسماعیل دہلوی‘‘ اورمسائلِ’’ تقویۃ الایمان‘‘ کا مختلف طریقوں سے رد فرمایا حتی کہ’’ شاہ رفیع الدین صاحب محدّث دہلوی‘‘ نے اپنے فتاویٰ میں بھی ’’کتاب التوحید ‘‘اور مسائلِ’’ تقویۃ الایمان ‘‘کے خلاف واضح فتوے شائع کیے۔

رد میں کتابیں
حمایت میں کتابیں
  • اکمل البیان فی تایئد تقویة الایمان، عزیز الدین مراد آبادی، اہل حدیث
غیر جانبدار کتابیں
  • مولانا سماعیل دہلوی اور تقویۃ الایمان، ابو الحسن زید فاروقی دہلوی

حوالہ جات

  1. مولانا عبد الزاق ملیح آبادی۔ آزاد کی کہانی۔ لاہور: مکتبہ خلیل، اردو بازار، لاہور۔ صفحہ 48۔
  2. اشرف علی تھانوی۔ حکایات اولیا (ارواح ثلاثہ)۔ دیوبند: کتب خانہ رحیمیہ۔ صفحہ 98۔
  3. مولانا سید احمد رضا بجنوری۔ انوار الباری۔ بجنور: ناشر العلوم۔ صفحات جلد 11، صفحہ107۔