تبادلۂ خیال سانچہ:تحریک اصلاح و جہاد (انیسویں صدی میں)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

تحریک سید احمد کے سانچے میں کئی اہم شخصیات کے اسماء گرامی شامل نہیں ہیں. انہیں بھی شامل کیا جانا چاہیے. مثلاً : حکیم عبدالحئ حسنی، حکیم فخر الدین خیالی، شاہ ضیاء النبی، جعفر تھانیسری، ڈاکٹر عبدالعلی حسنی، سید محمد رابع حسنی، سید محمد واضح رشید حسنی، سید عبداللہ حسنی، سید سلمان حسینی. مزید نام یاد آئے تو ان شاء اللہ توجہ دلا دی جائے گی.شاہ اجمل فاروق ندوی (تبادلۂ خیالشراکتیں) 16:05, 18 ستمبر 2016 (م ع و)

تحریک سید احمد بریلوی کیا ہے؟ کیا تحریک جہاد کو یہ نام دیا جا رہا ہے، تو وہ، معروف ہے۔ لیکن اس میں تحریک جہاد کے بہت بعد کی شخصیات اور سو سال پہلے کی شخصیات و کتابوں کو بھی جوڑ دیا گیا ہے۔ جس سے یہ اصطلاح مبہم ہو گئی ہے۔ اس اصطلاح کی وضاحت و مستعمل ہونا ضروری ہے۔ جب سید احمد کا نام استعمال ہو رہا ہے تو شاہ ولی اللہ و دیگر قبل تحریک کی شخصیات کسی طرح اس کا حصہ نہیں ہیں۔ ایسے ہی تبلیغی جماعت کو تحریک جہاد سے جوڑا بلا جواز ہے۔--Obaid Raza (تبادلۂ خیالشراکتیں) 09:31, 19 ستمبر 2016 (م ع و)
یہاں تحریک مجاہدین سے مراد خاص طور پر وہ لوگ مراد لیے گئے ہیں جنھوں نے سید صاحب کی شہادت کے بعد جہاد کے کام کو آگے بڑھایا. یہاں تک کہ ۱۹۴۷ تک اس کا سلسلہ باقی رہا. تحریک سید احمد سے مراد ان کی وہ جدوجہد اور محنت ہے جو انھوں نے اور ان کے خلفا اور ان کے نہج کو اختیار کرنے والوں نے کی دعوتی و اصلاحی جد و جہد۔ تبلیغی جماعت بالکل سید صاحب کی تحریک سے متاثر ہے دیکھیے الیاس کاندھلوی کی سوانح۔ باقی شاہ ولی اللہ کا نام اور ان کے صاحبزادے کا اس لیے ہے کہ انہی کے افکار کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی گئی.
تحریک مجاہدین کی نہیں، میں تحریک سید احمد بریلوی اصطلاح کی بابت سوال کر رہا ہوں، ان کی تحریک اس دور تک محدود تھی، کیوں کہ ان کا طریقہ جہاد و اصلاح انھی تک محدود رہا۔ اس میں تسلسل نہیں ہے، ان کی سوانح لکھنے والوں کو ان کی تحریک حصہ بتانا درست نہیں۔ ان کی سوانح وتذکرہ تو دیگر مکاتب فکر بلکہ غیر مسلمین نے بھی لکھا ہے۔ یوں وہ بھی اس تحریک کا حصہ ہوئے! تحریک؛ سرحد کے مسلمانوں اور پنجاب کے سکھوں تک محدود تھی۔ اسے 1947ء تک صرف مسلکی بنیادوں پر بیان کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تبلیغی جماعت تو کیا، موجودہ مدرسہ دیوبند بھی، اس تحریک کا حصہ نہیں کہلا سکتا۔ شاہ ولی اللہ یا پہلے لوگوں نے بھی یہ طریقہ جہاد و تبلیغ نہیں اپنایا، تو ان کے افکار کو اپنے طریقے سے پھیلانے والے تحریک کے بانی ہو سکتے ہیں۔ نہ کہ شاہ ولی اللہ، شاہ ولی اللہ نے کبھی تلوار کے زور پر بدعت و شرک کا خاتمہ مسلمانوں سے نہیں کیا، نہ اس کی تعلیم دی۔ تبلیغی جماعت، نہ جہاد کی تبلیغ کرتی ہے نہ بدعات کے خلاف کچھ بولتی ہے۔ اس میں کسی شخصیت کی سوانحی نہیں جماعت کا عمل دیکھا جائے گا۔ سوانح نگاروں کو الگ سے اس میں ذکر کیا جا سکتا ہے۔ نہ کہ تحریک کا حصہ، اور اس کا عنوان تو ویسے بھی تحریک سید احمد بریلوی ہے، اس اصطلاح کا حوالہ دینا ضروری ہے۔ یا پھر اسے تحریک مجاہدین یا تحریک جہاد کے عنوان پر منتقل کریں۔--Obaid Raza (تبادلۂ خیالشراکتیں) 15:57, 19 ستمبر 2016 (م ع و)
بہتر ہے کہ اس ابہام سے بچنے کے لیے اسے عبید بھائی کے بیان کردہ عنوان پر منتقل کیا جائے، لیکن تحریک جہاد یا تحریک مجاہدین بھی مبہم عنوان ہیں۔ کوئی واضح عنوان درکار ہے تاکہ کسی بھی قسم کے ابہام سے بچا جا سکے۔ :) یہ صارف منتظم ہے—خادم—  16:32, 19 ستمبر 2016 (م ع و)