شاہ عبد القادر دہلوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

شاہ عبد القادر دہلوی علوم الہیہ میں ممتاز علما میں سے تھے۔

ولادت[ترمیم]

شاہ عبد القادرکی ولادت 1753ء کو دہلی ہندوستان میں ہوئی آپ شاہ ولی اللہ دہلوی کے تیسرے صاحبزادے تھے۔

خاندان[ترمیم]

ان کے والد شاہ ولی اللہ دہلوی کی وفات ان کے بچپن میں ہی ہو گئی تو اپنے برادر اکبر شاہ عبد العزیز دہلوی سے تحصیل علم کیا۔

نسب[ترمیم]

شاہ عبد القادر بن شاہ ولی اللہ بن عبد الرحیم بن وجیہ الدین شہید بن معظم بن منصور بن احمد بن محمود بن قوام الدین عرف قاضی قواذن بن قاضی قاسم بن کبیر عرف قاضی بدہا بن عبد المالک بن قطب الدین بن کمال الدین بن شمس الدین المفتی عرف قاضی پر ان بن شیر ملک بن عطا ملک بن ابوالفتح ملک بن عمرو الحاکم بن عادل ملک بن فاروق بن جرجیس بن احمد بن محمد شہر یار بن عثمان بن ہامان بن ہمایوں بن قریش بن سلیمان بن عفان بن عبد اللہ بن محمد بن عبد اللہ بن عمر الخطاب ۔

علم طریقت[ترمیم]

شاہ عبد القادر نےشاہ عبد العدل دہلوی سے طریقت کی تعلیم پائی۔ درس و افادہ میں مشغول اور دہلی کی اکبر آبادی مسجد میں مقیم رہتے تھے۔ ان سے عبد الحي بڈھانوی، شاہ اسماعیل دہلوی، فضل حق خیر آبادی، شاہ اسحاق دہلوی اور بہت سے لوگوں نے استفادہ کیا۔

اولاد[ترمیم]

شاہ عبد القادر کی صرف ایک بیٹی پیدا ہوئی اور اس کی شادی شاہ صاحب نے اپنے بھتیجے مولوی مصطفیٰ سے کی جس سے ایک بیٹی پیدا ہوئی جس کی شادی شاہ اسمعیل شہید سے ہوئی۔

تصنیفی کام[ترمیم]

موضح القرآن نام سے قرآن مجید اُردو ترجمہ و تشریح کے ساتھ تحریر کیا،اس کے علاوہ کوئی قابل ذکر تصنیفی، تالیفی خدمات نہیں ہیں تاہم شاہ صاحب کو صرف اسی ایک خدمت نے زندہ جاوید کر دیا ہے۔ http://www.elmedeen.com/author-500-مولانا-شاہ-عبد-القادر-صاحب

وفات[ترمیم]

شاہ عبد القادر نے 63 سال کی عمر میں19 رجب 1230ھ بمطابق 1814ء کو دہلی میں وفات ہوئی۔ اپنے جد امجد شاہ عبد الرحیم کے پاس ہی دفن ہوئے۔[1][2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Bio-bibliography.com - Authors
  2. ابو الحسن علی ندوی: تاریخ دعوت و عزیمت، حصہ پنجم، مجلس تحقیقات و نشریات اسلام،لکھنؤ، ص 387