مجلہ الداعی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

مجلہ الداعی یا الداعی دار العلوم دیوبند سے شائع ہونے والا ماہنامہ ہے، جسے مولانا وحید الزماں کیرانوی نے پندرہ رسالہ دعوۃ الحق کے بدل کے طور پر (جو 1965ء تا 1975ء شائع ہوتا رہا) 1396ھ بہ مطابق 1976ء سے شائع کرنا شروع کیا۔ پہلے یہ پندرہ روزہ تھا۔ یہ 1414ھ بہ مطابق 1993ء سے یہ ماہانہ شائع ہونے لگا۔ یہ رسالہ روز اول سے تسلسل کے ساتھ شائع ہو رہا ہے۔ اس رسالہ کے پہلے رئیس التحریر کچھ دنوں تک وحید الزماں کیرانوی ریے، ان کے بعد بدر الحسن قاسمی رہے اور ان کے بعد 1403ھ بہ مطابق 1982ء کو نور عالم خلیل امینی اس کے مدیر بنائے گئے۔[1][2][3] 1442ھ بہ مطابق 2021ء میں نور عالم خلیل امینی کے انتقال کے بعد عارف جمیل مبارکپوری مجلہ کے مدیر و ایڈیٹر بنائے گئے ہیں۔

دار العلوم دیوبند اور عربی صحافت[ترمیم]

دار العلوم دیوبند سے سب سے پہلے عربی سہ ماہی رسالہ وحید الزماں کیرانوی کی ادارت میں شوال 1384ھ بہ مطابق جنوری 1965ء سے ربیع الثانی 1384ھ بہ مطابق اپریل 1975ء تک شائع ہوتا رہا، اس کے بعد اس رسالے کی اشاعت موقوف ہوگئی، پھر 10 جون 1976ء سے پندرہ روزہ مجلہ الداعی کا اجرا عمل میں آیا، 1397ھ تک یہ رسالہ وحید الزماں کیرانوی کی ادارت ہی میں شائع ہوتا رہا، پھر 1397ھ سے 1401ھ تک ناموافق اختلافِ دار العلوم تک بدر الحسن قاسمی دربھنگوی اس رسالے کے مدیر رہے، پھر یہ رسالہ ڈیڑھ سال تک موقوف رہا اور بدر الحسن قاسمی بھی دار العلوم دیوبند سے سبکدوش ہو گئے، پھر وحید الزماں کیرانوی کی نگرانی میں 17 محرم الحرام 1403ھ م 25 اکتوبر 1983ء میں نور عالم خلیل امینی کی ادارت میں دوبارہ اس کا پہلا شمارہ شائع ہوا، خلیل امینی نے اس وقت سے 1442ھ م 2021ء تک تقریباً 40 سال؛ اس کی ادارت کے فرائض انجام دہے اور انھیں کی ادارت میں اس رسالے نے اپنی جامعیت و جاذبیت اور اصحاب علم و فضل کے پر مغز و معلومات سے بھرپور مضامین کے پیش نظر، اطرافِ عالم میں اپنا رتبہ و مقام، اپنی شناخت و پہچان بنالی۔[4]

مقاصد رسالہ[ترمیم]

اس میگزین کے مقاصد یوں تو کئی ہیں، ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں:[5]

  • مسلمانوں کے دلوں میں اسلامی بیداری پیدا کرنا
  • عرب مسلمانوں کو عجمی مسلمانوں کے مسائل سے آگاہ کرنا
  • اسلامی ثقافت اور دعوت کو شکوک و شبہات سے منزہ انداز میں پیش کرنا
  • مسلم نوجوانوں کو دین میں افراط و تفریط سے بچانا[5]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مساھمۃ دار العلوم بديوبند في الأدب العربي للأستاذ الدكتور زبير أحمد الفاروقي، ص: 64
  2. ڈاکٹر محمد اللہ خلیلی قاسمی. "دار العلوم دیوبند اور عربی صحافت". دار العلوم دیوبند کی جامع و مختصر تاریخ (ایڈیشن اکتوبر 2020ء). دار العلوم دیوبند: شیخ الہند اکیڈمی. صفحہ 398. 
  3. حقانی القاسمی. "دیوبند کے مآثر و معارف". دار العلوم دیوبند ادبی شناخت نامہ. 1 (ایڈیشن مئی 2006ء). جامعہ نگر، نئی دہلی: آل انڈیا تنظیم علمائے حق. صفحہ 39. 
  4. نایاب حسن قاسمی. "دار العلوم دیوبند اور عربی صحافت". دار العلوم دیوبند کا صحافتی منظرنامہ (ایڈیشن 2013ء). دیوبند: ادارہ تحقیق اسلامی. صفحات 126–129. 
  5. ^ ا ب مجلة الداعي، ج 17، العدد1، 1993.