وکیع بن جراح

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
وکیع بن جراح
Imam Waki Tomb.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 1 جنوری 746  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کوفہ  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات سنہ 812 (65–66 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Black flag.svg دولت عباسیہ  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
استاذ سلیمان بن مہران الاعمش، عبد الرحمٰن اوزاعی، مالک بن انس، اسرائیل بن یونس، اسماعیل بن ابی خالد، حماد بن سلمہ، سفیان ثوری، سفیان بن عیینہ، عبد اللہ بن عون  ویکی ڈیٹا پر استاد (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ الٰہیات دان، محدث، مفسر قرآن  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل علم حدیث، تفسیر قرآن  ویکی ڈیٹا پر شعبۂ عمل (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P islam.svg باب اسلام

امام وکیع بن الجراح مشہور محدث اور فقیہ تھے۔

نام[ترمیم]

ابو سفيان وكيع بن الجراح بن مليح بن عدی بن فرس بن سفيان بن الحارث بن عمرو ابن عبيد بن رؤاس الرؤاسی۔

ولادت[ترمیم]

وکیع بن جراح کی ولادت 129ھ بمطابق 746ء میں ہوئی۔ خطیب بغدادی نے وکیع کا قول نقل کیا ہے کہ وہ کہتے تھے۔ ”میری ولادت 128ھ میں ہوئی۔“ اصل کے نیشاپور اور بقول بعض سندھ کے باشندہ تھے۔

بطور محدث[ترمیم]

حدیث کے امام اور حافظ وثقہ، زاہد عابد، اکابر تبع تابعین میں سے امام شافعی و امام احمد کے شیخ تھے،فنِ حدیث کے ارکان میں شمار کیے جاتے ہیں۔ امام احمد بن حنبل کو ان کی شاگردی پر فخر تھا۔ بخاری و مسلم میں اکثر ان کی روایت سے حدیثیں مذکور ہیں۔ فنِ حدیث و رجال کے متعلق ان کی روایتیں اور رائیں نہایت مستند خیال کی جاتی ہیں۔
فقہ کا علم امام ابو حنیفہ سے حاصل کیا اور حدیث کو امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف وزفر و ابن جریح و سفیان ثوری و سفیان بن عینیہ و اور زاعی و اعمش وغیر ہم سے سنااور آپ سے عبد اللہ بن مبارک ویحییٰ بن اکثم وامام احمد بن حنبل ویحییٰ بن معین وعلی بن مدینی و ابن راہویہ و احمد بن منبع اور آپ کے بیٹے سفیان وغیرہ محدثین نے سنا اور اصحاب صحاح ستہ نے آپ سے تخریج کی۔

زہد ورع[ترمیم]

ابن اکتم کہتے ہیں کہ میں نے حضر و سفر میں آپ کی صحبت کی۔ آپ ہمیشہ روزہ رکھنے اور ہر رات قرآن کا ختم کرتے تھے اور جب تک تیسر ا حصہ قرآن کا نہ پڑھ لیتے نہ سوتے پھر اخیر رات کو اٹھ کھڑے ہوتے۔ یحییٰ بن معین کہتے ہیں کہ میں نے وکیع سے کوئی افضل نہیں دیکھا۔ اس پر لوگون نے کہا کہ کیا ابن مبارک کو بھی نہیں فرمایاکہ ابن مبارک کے بے شک فضل ہے لیکن میں نے وکیع سے کوئی افضل نہیں دیکھا۔ آپ کا دستو ر تھا کہ قبلہ کے سامنے بیٹھ کر حدیث کو یاد کرتے اور رات کو کھڑے ہوتے اور پے در پے حدیث کو لاتے اور امام ابو حنیفہ کے قول پر فتویٰ دیتے اور یحییٰ بن سعید قطان آپ کے قول پر فتویٰ دیتے تھے۔ امام احمد کہتے کہ میں نے علم کا دعویٰ کر نے والا زیادہ تر آپ سے کوئی نہیں دیکھا۔

اساتذہ[ترمیم]

یہ امام ابو حنیفہ کے شاگردِ خاص تھے اور ان سے بہت سی حدیثیں سنی تھیں۔ خطیب بغدادی نے لکھا ہے کہ اکثر امام صاحب کے قول کے موافق فتوی دیتے تھے۔ علامہ ذہبی نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔ وکیع نے ابو حنیفہ سے اختلاف بھی کیا جسے ترمذی اپنی سنن میں لکھے ہیں:

"میں نے یوسف بن عیسیٰ کو یہ حدیث وکیع کے حوالے سے روایت کرتے ہوئے سنا، انہوں نے فرمایا کہ اس مسئلے میں اہل رائے کا قول نہ دیکھو اس لیے کہ نشان لگانا (یعنی اشعار) سنت ہے اور اہل رائے کا قول بدعت ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ میں نے ابوسائب سے سنا وہ کہتے ہیں ہم وکیع کے پاس تھے کہ انہوں نے اہل رائے میں سے ایک شخص سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشعار کیا (یعنی نشان لگایا) اور امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ یہ مثلہ ہے، اس پر وکیع غصے میں آگئے اور فرمایا میں تم سے کہتا ہوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اور تم کہتے ہو کہ ابراہیم نخعی نے یوں کہا، تم اس قابل ہو کہ تمہیں قید کر دیا جائے یہاں تک کہ تم اپنے اس قول سے رجوع کرلو۔"[1]

انہوں نے امام ابو حنیفہ اور ابو یوسف سے بھی حدیث کی سماعت کی تھی۔ اور بغدادی نے ان کا شمار امام ابو حنیفہ کے تلامذہ میں کیا ہے۔ عبد الرحمن اوزاعی اور سفیان ثوری بھی ان کے استاذ تھے۔

تلامذہ[ترمیم]

ان کے تلامذہ کی فہرست بھی بہت طویل ہے۔

علی بن مدینی، عبد اللہ بن مبارک، محمد بن ادریس شافعی، یحییٰ بن معین، احمد بن حنبل، قتیبہ بن سعید اور ابو بکر بن شیبہ جیسے ممتاز محدثین کرام اور ائمہ عظام شامل ہیں۔

تصنیفات[ترمیم]

وکیع بن جراح کی تصانیف کے سلسلہ میں ارباب سیر اورتذکرہ نگاروں نے خاموشی اختیار کی ہے، چند ایک نام حسب ذیل ہیں:

  • تفسیر القرآن
  • السنن
  • المعرفۃ والتاریخ
  • الزہد

وفات[ترمیم]

آپ نے ستر سال کی عمر میں 197ھ بمطابق 812ء میں وفات پائی۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. سنن الترمذی 906
  2. موسوعہ فقہیہ ،جلد3 صفحہ 496، وزارت اوقاف کویت، اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا