اسرائیل بن یونس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اسرائیل بن یونس
معلومات شخصیت
پیدائشی نام إسرائيل بن يونس
پیدائش سنہ 718 اور سنہ 719  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
کوفہ
وفات سنہ 778 (59–60 سال) اور سنہ 779 (60–61 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
کوفہ
شہریت Black flag.svg دولت عباسیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
کنیت ابو یوسف
والد یونس بن ابی اسحاق
رشتے دار دادا:
ابو اسحاق سبیعی
بھائی:
عیسی بن یونس
عملی زندگی
نسب سبیعی ہمدانی
پیشہ محدث  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

اسرائیل بن یونس کوفی تابعی، راویان حدیث نبوی میں سے ایک، محدث ابو اسحاق سبیعی کے پوتے، محدث یونس بن ابی اسحاق کے فرزند اور عیسی بن یونس کے بھائی تھے۔ امام ابو حنیفہ کی علمی مجلس کے ساتھی تھے۔

عالم، فاضل، محدث، ثقہ، فقیہ کامل تھے، امام اعظم و امام ابو یوسف سے حدیث کو سنا اور فقہ حاصل کی اور آپ سے وکیع بن جراح اور عبد الرحمن بن مہدی نے روایت کی۔ امام احمد بن حنبل اور یحیی بن معین نے آپ کی ثقابت کی شہادت دی۔ امام بخاری و مسلم نے آپ سے تخریج کی۔

نام و نسب[ترمیم]

اسرائیل بن یونس بن اسحٰق کوفی : کنیت آپ کی ابو یوسف تھی۔ پورا سلسلہ یہ ہے۔

اسرائیل بن یونس بن ابی اسحاق، عمرو بن عبد اللہ بن علی بن احمد بن ذی یحمد بن سبیع بن سبیع بن صعب بن معاویہ بن کثیر بن مالک بن جشم بن حاشد بن جشم بن خیوان بن نوف بن ہمدان[1][2]

ولادت[ترمیم]

100ھ میں شہر کوفہ کی مردم خیز زمین میں پیدا ہوئے۔[3]

فضل و کمال[ترمیم]

انہوں نے مرکز علم کوفہ میں نشو و نما پائی اور فطری علمی ذوق کی بنا پر وقت کے اکابر علما کے فیض سے مالا مال ہوئے۔ خود ان کا خانوادہ بھی علم و فضل میں ممتاز حیثیت رکھتا تھا۔ چنانچہ ان کے دادا ابو اسحاق سبیعی کا شمار جلیل القدر تابعین میں ہوتا ہے۔ تمام علما و محققین نے بالاتفاق ان کی توثیق کی ہے۔

اسرائیل بن یونس اپنے انہی شہرہ آفاق جد امجد سے خاص طور پر مستفید ہوئے، چنانچہ ابو اسحاق سبیعی کی تمام مرویات انہیں ازبر تھیں۔ عیسی بن یونس کہتے ہیں کہ: «مجھ سے میرے بھائی اسرائیل نے بیان کیا کہ میں ابو اسحاق کی روایتوں کو اس طرح یاد کرتا تھا جیسے قرآن کی سورۃ حفظ کرتا ہوں۔»[4][5]

شیوخ[ترمیم]

سماک بن حرب، منصور بن معتمر، ابراہیم بن مہاجر، سلیمان اعمش، زیاد بن علاقہ، زید بن جبیر، عاصم بن بہدلہ، اسماعیل السدی، مجراہ بن زاہر اسلمی، عاصم احوال، ہشام بن عروہ اور یوسف بن ابی بردہ۔[6][7]

تلامذہ[ترمیم]

اسماعیل بن جعفر، وکیع بن جراح، عبد الرحمن بن مہدی، عبید اللہ بن موسی، فضل بن دکین، اسود بن عامر شاذان، محمد بن سابق، عبد اللہ بن صالح عجلی، ابو احمد زبیری، نفر بن شمیل، ابو داؤد طیالسی، عبد الرزاق بن ہمام، یحیی بن آدم، محمد بن یوسف فریابی، عبد اللہ بن رجاء سعدانی، یونس بن جعد۔[8][9][10]

وفات[ترمیم]

ان کی وفات باختلاف روایت 160ھ یا 162ھ میں ہوئی،[11] بعض نے 161ھ لکھا ہے۔[12][13]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. طبقات ابن سعد 6/ 219
  2. تاریخ بغداد ج 7، ص 20
  3. تہذیب التہذیب ج 1، ص 263
  4. میزان الاعتدال، ج 1، ص 97
  5. تذکرۃ الحفاظ، ج 1، ص 193
  6. تاریخ بغداد ج 7، ص 20
  7. تہذیب التہذیب ج 1، ص 261
  8. تذکرۃ الحفاظ ج 1، ص 193
  9. تاریخ بغداد ج 7، ص 20
  10. تہذیب التہذیب ج 1، ص 261
  11. تاریخ بغداد ج 7، ص 24
  12. سير أعلام النبلاء» الطبقة السابعة» إسرائيل نسخہ محفوظہ 15 جون 2016 در وے بیک مشین
  13. تهذيب الكمال للمزي» إسرائيل بن يونس بن أبي إسحاق الهمداني السبيعي