سفیان بن عیینہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سفیان بن عیینہ
معلومات شخصیت
پیدائش 25 دسمبر 725  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
کوفہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 25 فروری 815 (90 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
مکہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Umayyad Flag.svg خلافت امویہ
Black flag.svg خلافت عباسیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
عملی زندگی
استاد ایوب سختیانی،  شعبہ بن حجاج،  سلیمان بن مہران الاعمش،  ابن شہاب زہری،  سفیان ثوری  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں استاد (P1066) ویکی ڈیٹا پر
قابل ذکر شاگرد احمد بن حنبل،  محمد بن ادریس شافعی،  یحییٰ بن معین،  ابن ابی شعبہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شاگرد (P802) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ محدث  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل علم حدیث  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

سفیان بن عیینہ (پیدائش: 25 دسمبر 725ء— وفات: 25 فروری 815ء) محدث، ثقہ، حافظ، فقیہ، امام حجت اور آٹھویں طبقہ کے رؤسا میں سے تھے۔ امام سفیان بن عیینہ کا شمار زمرہ تبع تابعین کے ممتاز علما میں ہوتا ہے۔ جن محدثین کرام نے حدیثِ نبوی کی ترتیب و تدوین میں کارہائے نمایاں انجام دیے، ان میں سفیان بن عیینہ کا نام سر فہرست ہے۔

نام[ترمیم]

سفیان بن عیینہ بن ابی عمران میمون الہلالی الکوفی ابو محمد کنیت تھی۔

ولادت اور بچپن[ترمیم]

ابن عیینہ اُموی بادشاہ ہشام بن عبد الملک کے عہدِ ملوکیت میں کوفہ میں 15 شعبان 107ھ بمطابق 725ء میں پیدا ہوئے اور ان کے والد انہیں مکہ معظمہ میں لے گئے۔ 7 برس کی عمر میں قرآن حفظ کیا۔ ان کا غیر معمولی حافظہ تھا، خود ان کا اپنا قول ہے کہ میں جس چیز کو ضبط تحریر میں لایا وہ مجھے یاد ہو گئی۔

کوفہ واپسی[ترمیم]

ابھی بیس سال کی عمر کو نہ پہنچے تھے کے پھر کوفہ میں آئے اور امام ابو حنیفہ کے پاس تحصیل علم حدیث کے لیے بیٹھے اور ان سے روایت کی، آپ کا قول ہے کہ پہلے امام ابو حنیفہ ہی نے مجھ کو محدث بنایا ہے، پھر عمرو بن اور ضمرہ بن سعید کی مصاحبت کی اور ان سے اور زہری وابی اسحٰق سبیعی و محمد بن المنکدرو وابی زیادہ عاصم بن ابی النجو المقری و اعمش اور عبد الملک بن عمیر وغیرہم سے حدیث کو سُنا اور آپ کے چچا مصعب اور عبد الرزاق بن ہمام صنعانی ویحییٰ بن اکثم نے روایت کی اور اصحاب صحاح ستہ نے آپ سے بکثرت تخریج کی۔ امام شافعی کا قول ہے کہ اگر آپ اور امام مالک نہ ہوتے تو حجاز سے علم چلا جاتا اور یہ بھی انہوں نے کہا ہے کہ میں نے کوئی شخص ایسا نہیں دیکھا جس میں مثل آپ کے فتویٰ دینے کا مادہ موجود ہو اور پھر وہ مثل آپ کے فتویٰ دینے سے زیادہ پ رہی ز کرے۔ آپ نے ستر مرتبہ حج کیا۔

وفات[ترمیم]

یکم رجب 197ھ بمطابق 814ء میں مکہ معظمہ میں وفات پائی اور کوہ حجون کے پاس مدفون ہوئے۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. سير اعلام النبلا -جلد8 صفحہ 454