اشہب بن عبد العزیز

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اشہب بن عبد العزیز
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 757 اور سنہ 758  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ وفات سنہ 854 (96–97 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Black flag.svg دولت عباسیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
فرقہ اہل سنت و جماعت
فقہی مسلک مالکی
عملی زندگی
پیشہ عالم،  قاضی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
مؤثر مالک بن انس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مؤثر (P737) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

اشہب بن عبد العزیز قیسی پورا نام ”ابو عمرو اشہب بن عبد العزیز بن داؤد بن ابراہیم قیسی جعدی“ ہے۔ مصر کے مالکی فقیہ تھے، کہا جاتا ہے کہ ان کا اصلی نام مسکین تھا، اشہب ان کا لقب تھا،[1] مصر کے مفتی تھے اور مصر کے خراج وصول کرنے کے ذمہ دار تھے، کافی ثروت و منصب کے مالک تھے۔[2]

اساتذہ و تلامذہ[ترمیم]

اساتذہ[ترمیم]

لیث بن سعد، یحییٰ بن ایوب غافقی، سلیمان بن بلال، بکر مضر، داؤد بن عبد الرحمن عطار اور دوسرے اساتذہ سے علم حاصل کیا۔

تلامذہ[ترمیم]

حارث بن مسکین، یونس بن عبد الاعلی، بحر بن نصر، محمد بن عبد اللہ بن عبد الحکم، محمد بن ابراہیم بن مواز، سحنون بن سعید، عبد الملک بن حبیب سلمی، ہارون بن سعید ایلی اور دوسرے بڑے محدثین اور فقہا نے آپ نے علم حاصل کیا۔ سحنون کہتے ہیں کہ «اشہب پر اللہ کی رحمت ہو، ان سے سماعت میں ایک حرف بھی زائد نہیں ہوا۔»[2]

فقہ[ترمیم]

اشہب مصر میں ایک بلند پایہ فقیہ اور مفتی تھے، ابو عمر بن عبد البر فرماتے ہیں «اشہب ایک زبردست فقیہ اور حسن رائے اور حسن نظر رکھنے والے تھے، ابن عبد الحکم نے رائے میں ابن قاسم پر فضلیت دی ہے، جب یہ بات محمد بن عمر بن لبابہ اندلسی کو خبر دی گئی تو انھوں نے کہا کہ ابن عبد الحکم ہی ایسی بات کہہ سکتے ہیں چونکہ وہ اشہب کے ساتھ رہے ہیں اور ان سے خوب استفادہ کیا ہے، حالانکہ ابن قاسم ہمارے نزدیک بیوع و معاملات میں زیادہ بڑے فقیہ ہیں۔» محمد بن عبد اللہ بن عبد الحکم فرماتے تھے کہ «اشہب ابن قاسم سے سو گنا بڑے فقیہ ہیں۔»[2]

امام شافعی سے ملاقات[ترمیم]

امام شافعی سے اشہب کی ملاقات اس وقت ہوئی جب اشہب مصر آئے، امام شافعی نے فرمایا کہ «اگر اشہب کے اندر طیش نہ ہوتا تو مصر اشہب جیسے بڑے فقیہ کو کبھی نہ نکالتا» ابن عبد الحکم کہتے ہیں کہ: میں نے اشہب کو سجدہ میں امام شافعی کے لیے موت کی بد دعا کرتے ہوئے سنا ہے، میں اس کا تذکرہ امام شافعی سے کیا تو امام شافعی نے کچھ اشعار کہا جس کا اردو ترجمہ ہے:

«لوگ تمنا کرتے ہیں کہ میں مر جاؤں۔ اگر میں مر بھی گیا تو یہ راہ ایسی ہے جس کا راہی صرف میں نہیں ہوں۔ اگر علم لوگوں کے لیے نفع بخش ثابت ہو تو وہ یہ مان لیں کہ میں اگر مر بھی گیا تو مجھے بد دعا دینے والا بھی باقی رہنے کا نہیں۔»

ابن عبد الحکم کہتے ہیں کہ: پھر شافعی کی وفات ہو گئی اور اشہب نے ان کے ترکہ کی رقم سے ایک غلام خریدا۔ پھر اشہب بھی دنیا سے چل دیے اور میں نے وہی غلام اشہب کے ترکہ کی رقم سے خرید لیا۔ اشہب کی وفات اما شافعی کی وفات کے 8 دنوں کے بعد رجب سنہ 204 ہجری میں ہوئی۔ ایک قول کے مطابق ایک ماہ بعد وفات ہوئی۔[1]

امام ذہبی نے اس واقعہ پر یہ تبصرہ کیا ہے کہ «اشہب بن عبد العزیز کی امام شافعی پر بد دعا کا تعلق معاصرت کے باب سے ہے، زیادہ اہمیت نہیں دینا چاہیے، یہ باب رحم وکرم کا باب ہے، دونوں کے لیے مغفرت کی دعا کرنی چاہیے، یہ بڑا وسیع باب ہے، پہلا حادثہ عمر کی شہادت ہے اور اس کے بعد ہم کھلی آنکھوں دیکھ رہے ہیں، عمر کے تعلق سے کہا جاتا تھا کہ وہ فتنوں کے لیے دروازہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔»[2]

حوالہ جات[ترمیم]