سعودی عرب میں اسلام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

اسلام سعودی عرب کا سرکاری مذہب ہے۔ اسلام اور سعودی عرب (یا کم از کم ملک کے خطے، مغربی حجاز) کے درمیان میں تعلق منفرد ہے۔ اس کو، بعض اوقات "اسلام کا گھر" بھی کہا جاتا ہے،[1] مکہ اور مدینہ منورہ کا مسلمانوں کا بڑا اہم مقام ہے، جہاں محمد بن عبد اللہ، جو اسلامی عقیدہ کے مطابق آخری رسول ہیں، وہ مکلہ میں پیدا ہوئے، مکہ و مدینہ میں زندگی گزاری اور مدینہ میں وقات پائی اور مکہ شہر میں ہر سال حج کا اجتماع ہوتا ہے اور عالم اسلام سے ہزاروں طالب علم اور علما یہاں تعلیم کے لیے آتے ہیں۔ شاہ سعودی عرب کا سرکاری خطاب ہی "خادم الحرمین الشریفین"ہے جو مسجد الحرام، مکہ اور مسجد نبوی، مدینہ کی وجہ سے دیا گیا ہے، یہ دونوں شہر اسلام کے مقدس ترین شہروں میں سے ہیں۔[2]

اٹھارویں صدی میں، محمد بن عبد الوہاب اور علاقائی امیر، محمد بن سعود کے درمیانم یں ایک معائدہ ہوا، جو سنی اسلام میں انتہائی سخت کشیدگی کا باعث بن گیا، سب سے پہلے نجد کے علاقے میں اور اس کے بعد پورے جزیرہ نما عرب۔ جس کے حامی اس کو "سلفی تحریک" اور دیگر "وہابی تحریک" کا نام دیتے ہیں، اسلام کی یہ تشریح سرکاری مذہب بن گیا اور محمد بن سعود کی طرف سے اس تشریح اسلام اور ان کے جانشین (خاندان آل سعود)، جس نے بالآخر 1932ء میں سعودی عرب کی جدید ریاست قائم کی۔ سعودی حکومت نے اپنی پیٹرولیم مصنوعات کی آمدنی سے دنیا بھر میں دس بلین ڈالر خرچ کیے اسلام کی اس شکل کو فروغ دینے کے لیے، جس کو بعض اوقات "پیٹرو اسلام" کا نام دیا جاتا ہے۔[3]سعودی حکومت نے مسجدیں و مدرسے بنوائے، کتابیں شائع کیں، تعلیمی وظائف اور تحقیقی وظائف جاری کیے،[4] بین الاقوامی اسلامی تنظیموں کی میزبانی کی۔

لیکن یہ بات متنازع ہے کہ سعودی عرب میں سلفی/وہابیوں کی اکثریت ہے، کیوں کہ تخمینہ ہے کہ مقامی آبادی کا صرف 22.9% ہی یہ عقیدہ رکھتے ہیں (خاص نجد میں)۔[5] وہابی تحریک دو سو سال سے نجد میں غالب رہی ہے، لیکن ملک کے دیگر حصوں حجاز، الشرقیہ اور نجران وغیرہ میں ان کا غلبہ 1913ء سے 1925ء کے درمیان میں ہوا۔[6] 15 سے 20 ملین سعودی شہریوں میں سے زیادہ تر سنی مسلمان ہیں،[7] جب کہ مشرقی علاقوں میں شیعہ اثنا عشریہ کی اکثیر آبادی ہے اور جنوبی علاقوں میں زیدی شیعہ موجود ہیں۔[8]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. John R. Bradley۔ Saudi Arabia Exposed : Inside a Kingdom in Crisis۔ Palgrave۔ صفحہ 145۔ 'home of Islam' as the 1930s geopolitical construct of Saudi Arabia is … referred to "
  2. Rodenbeck، Max (اکتوبر 21, 2004). "Unloved in Arabia (Book Review)". The New York Review of Books 51 (16). http://www.nybooks.com/articles/17477. "This is, after all, the birthplace of Muhammad and of the Arabic language, the locus of Muslim holy cities, the root of tribal Arab trees, and also, historically, a last redoubt against foreign incursions into Arab and Muslim lands. The kingdom is in many ways a unique experiment. It is the only modern Muslim state to have been created by jihad,[10] the only one to claim the Koran as its constitution, and [the only Arab-]Muslim countries to have escaped European imperialism.". 
  3. Kepel 2002، صفحات۔ 69–75
  4. Kepel, Gilles (2002)۔ جہاد: The Trail of Political Islam۔ trans. Anthony F. Roberts, p.72
  5. "Demography of Religion in the Gulf"۔ Mehrdad Izady۔
  6. David Commins۔ The Wahhabi Mission and Saudi Arabia۔ I.B.Tauris۔ صفحہ 77۔ The region had been part of the Ottoman Empire for four centuries and consequently its religious culture was pluralistic, with the four Sunni legal schools, various Sufi orders and a tiny Shia community around Medina. … Hijazis naturally regarded the reintroduction of Saudi rule with much apprehension, …
  7. "Saudi Arabia, Islam in"۔ The Oxford Dictionary of Islam۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  8. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ shrefs نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔

بیرونی روابط[ترمیم]

سانچہ:آبادیات سعودی عرب