بوسنیا و ہرزیگووینا میں اسلام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مسجد شہنشاہ، سرائیوو
مسجد فرہت پاشا، بانیا لوکا جسے جنگ کے دوران شہید کر دیا گیا تھا

بوسنیا و ہرزیگووینا میں اسلام کی دیرینہ تاریخ ہے جس کی داغ بیل بوسنیا کی عثمانی فتوحات کے نتیجے میں پندرہویں صدی اور سولہویں صدی میں رکھی گئی۔ تقریبا تیس لاکھ بوسنیائی مسلمان بوسنیائی جنگ کی وجہ سے دیگر ممالک میں ہجرت کے گئے۔

ایک اندازے کے مطابق پندرہ لاکھ بوسنیائی مسلمان ان کے آبائی وطن بوسنیا و ہرزیگوینا جو ملکی آبادی کا 40 فیصد ہیں۔ [1]

نگار خانہ[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]