جزائر سلیمان میں اسلام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

امریکا کے ریاست کی بین الاقوامی مذہبی آزادی کی رپورٹ کے مطابق زیادہ ترحالیہ اطلاعات کے مطابق جزائر سلیمان میں تقریبًا 350 مسلمان ہیں۔[1] ایک موقع روئے حبالہ Adherents.com کے اندازے سے یہاں پر تقریبا 70 مسلمان ہیں جو 1996 کا تخمینہ ہے۔[2]

سونامی کی آفت سماوی اور مسلمانوں کی جانب سے امداد[ترمیم]

جب مہلک سونامی جزائر سلیمان سے ٹکرایا تھا تب گیزو اور مغربی صوبے میں 53 افراد جاں بحق ہوئے اور ہزاروں دیہاتی بے گھر ہو گئے تھے۔ ایسے وقت پربین الاقوامی مسلم ادارے نے متاثرہ علاقوں میں فوری طبی ٹیموں اور اشیافراہمی کا اہتمام کیاتھا جسے جزائریوں نے دیگر امدادوں کی طرح قبول کیا تھا۔

علاقے کے مسلمانوں کی امن پسندی کا حکومت کی جانب سے اعتراف[ترمیم]

ریڈیو ایس آئ بی سی نے جولائ 2005 میں اطلاع دی کہ یہاں کے وزیرمالیہ پیٹر بایرس (Peter Boyers) کے مطابق انڈونیشیا کے اسلامی عسکریت پسندوں نے انڈونیشیا میں واقع تربیتی کیمپوں کے لیے نوجوان سلیمان جزائریوں کو بھرتی کرنے کی کوشش کی تھی۔ تاہم وزیر موصوف نے واضح کیا تھا کہ جزائر سلیمان کے مسلمان گروہ انتہا پسند اسلام کے خلاف تھے اور ان کوششوں کو نظرانداز کر دیا۔ اس بات کی تصدیق جزائر سلیمان کی اسلامی سوسایٹی کے فیلکس ناراسیا (Felix Narasia) کی طرف سے بھی ہوئ جنہوں نے صاف لفظوں میں اعلان کیا کہ اسلامی سوسایٹی کسی بھی جزائری نوجوان کو ان مقاصد کے لیے بھرتی کرنے کے سخت خلاف ہے اور اس غرض کے لیے کیا گیا ہر رابطہ غیر قانونی اور اسلامی سوسایٹی کے دائرہ عمل سے باہر ہے۔[3]

خارجی روابط[ترمیم]

  • Pacific: Islam making inroads in Melanesia [2]

حوالہ جات[ترمیم]

ماخذ[ترمیم]