صہیونی اشتراکی عمالی جماعت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
صہیونی اشتراکی عمالی جماعت
Сионистско-социалистическая рабочая партия
تاسیس1905ء
ضم درمتحدہ یہودی اشتراکی عمالی جماعت
نظریاتاشتراکیت
صہیونیت
سیاسی حیثیتبایاں_بازو

صہیونی اشتراکی عمالی جماعت ( روسی: Сионистско-социалистическая рабочая партия )، اکثر انہیں صہیونی اشتراکی (سوشلسٹ) یا انکے روسی زبان کے ابتدائی حروف کیوجہ سے(س-س) SS بھی کہا جاتا ہے، یہ روسی سلطنت اور پولستان میں ایک یہودی اشتراکی اقلیمی سیاسی جماعت تھی اور 1904ء میں وزروزہدین (نشاة ثانیہ) کے گروہ سے ابھر کر سامنے آئ- اس جماعت نے 1905ء میں اوڈیشہ میں اپنی مقوم (مجلس مشاورت) کانفرنس کا انعقاد کیا تھا۔ [1]

اسی سال جماعت نے باسل میں ساتویں صہیونی کانگریس کیلئے بشمول نکہمن سائرکن اپنے مندوب بھیجے۔ [2] تاہم ، جبکہ مرکزی دھارے کی صہیونی تحریک نے فلسطینی علاقے کے علاوہ کسی بھی دوسرےعلاقے میں یہودی ریاست کے قیام کے نظریے کو مسترد کردیا لیکن روسی جماعت نے فلسطین سے باہر یہودی علاقائی خودمختاری کی حمایت کی۔ [3] مزید یہ کہ ، جب کہ علاقائی خودمختاری جماعت کا ہدف تھی، اس نے اپنی بیشتر توانائی روس میں انقلابی سرگرمیوں میں وقف کردی۔ [4] دوسرے روسی انقلابی گروہوں جیسے ناروڈنکس کی طرح ، یہ جماعت دہشت گردی کو مملکتی نظام کے خلاف جدوجہد میں استعمال کرنے کی حامی تھی۔ [5]

جماعت کے نمایاں شخصیات میں نکہمن سائرکن ، جیکب لیستچنسکی ، ولف لاٹسکی-بارٹولڈی اور شموئل نائجر شامل تھے۔ [4]

جماعت نے 1905ء کے انقلاب میں فعال کردار ادا کیا۔ [4]

سن 1905ء میں عالمی صہیونی تنظیم کے 7ویں اجتماع میں تنظیم نے تندوتیز بحث و مباحثے کے بعد ' یوگنڈا منصوبے ' ( مشرقی افریقہ میں یہودیوں کو آباد کرنے کی تجویز) کو باضابطہ طور پر مسترد کردیا۔ اس کے جواب میں، جماعت اور دیگر علاقہ پسند اراکین تنظیم سے دستبردار ہوگئے۔ [6]

جماعت میں تیزی سے اضافہ ہوتا گیا اور بُند (عمومی یہودی محاذ) کے بعد یہود کی دوسری بڑی جماعت بنی ۔ [6] جماعت نے بُندی تجارتی و صنعتی اتحاد کی مخالفت میں 'غیر جانبدار' صنعتی و تجارتی اتحاد قائم کیں۔ 1906ء کے آخر میں ، جماعت نے اپنے 27,000 اراکین کی رکنیت کا دعوی کیا۔ تاہم 1906ء کے بعد جماعت کے اثر و رسوخ میں تیزی سے کمی آنا شروع ہوگئی۔ بہت سے رہنما مغربی یورپ میں جلاوطنی میں چلے گئے۔ [4] جماعت کا مرکزی عضو ہفت روزہ یدش اخبار ڈیر نائر ویگ تھا، جو کہ ویلنا 1907ء – 1906ء میں شائع ہوتا. 1907ء میں حکام نے اخبار کو بند کردیا تھا۔ [7]

دوسرے بین الاقوامی شٹوٹگارٹ اجتماع 1907ء میں، بین الاقوامی اشتراکی بیورو نے اجتماع میں جماعت کو مشاورتی رائے(ووٹ) دینے کا فیصلہ کیا۔ تاہم فیصلہ ایک سال بعد ہی الٹ دیا گیا۔ [8] [9]

1911ء میں صہیونی اشتراکی عمالی جماعت ، یہودی اشتراکی عمالی جماعت اور پوالئے صہیون نے بین الاقوامی اشتراکی بیورو کی اپیل پر مشترکہ دستخط کیے ، اور بین الاقوامی سے یہودی لوگوں کے قومی کردار کو تسلیم کرنے کی درخواست کی۔ [9]

1917ء میں یہ جماعت یہودی اشتراکی عمالی جماعت کے ساتھ مل گئی ، جس نے متحدہ یہودی اشتراکی عمالی جماعت کی تشکیل دی۔ [10]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Eliyahu Eisenberg، ویکی نویس (1967). Plotzk (Płock): a History of an Ancient Jewish Community in Poland. Ada Holtzman, translator. Tel Aviv: Hamenora. 
  2. Frankel، Jonathan (1984). Prophecy and politics: socialism, nationalism, and the Russian Jews, 1862–1917. Cambridge University Press. صفحہ 686. ISBN 978-0-521-26919-3. 
  3. Ėstraĭkh, G. In Harness: Yiddish Writers' Romance with Communism. Judaic traditions in literature, music, and art. سیراکیوز، نیو یارک: Syracuse University Press, 2005. p. 30
  4. ^ ا ب پ ت Frankel, Jonathan (ed.). The Jews and the European crisis, 1914–1921. نیو یارک شہر: Oxford University Press, 1988. p. 339
  5. Geifman, Anna. Thou Shalt Kill: Revolutionary Terrorism in Russia, 1894–1917. پرنسٹن، نیو جرسی: Princeton University Press, 1993. p. 35
  6. ^ ا ب Alroey، Gur (2006). "Demographers in the service of the nation: Liebmann Hersch, Jacob Lestschinsky, and the early study of Jewish migration". Jewish History 20 (3–4): 265–282. doi:10.1007/s10835-006-9006-3. 
  7. "Newspapers and Periodicals" (PDF). YIVO Institute. اخذ شدہ بتاریخ 24 نومبر 2014. 
  8. Frankel, Jonathan. Prophecy and Politics: Socialism, Nationalism, and the Russian Jews, 1862–1917. کیمبرج: Cambridge University Press, 1981. p. 283
  9. ^ ا ب Jacobs, Jack Lester. Jewish Politics in Eastern Europe: The Bund at 100. Basingstoke: Palgrave, 2001. p. 185
  10. Jaff Schatz. Jews and the communist movement in interwar Poland. In: Jonathan Frankel. Dark Times, Dire Decisions: Jews and Communism. Studies in Contemporary Jewry. Oxford University Press US, 2005, p. 79.