فلسطینی حق رجعت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اس کارلطیفہ کو اقوام متحدہ کے قرارداد 194 کا لقب دیا گیا ہے ۔ علامتی طور پرچابیاں ان فلسطینی لوگوں کے گھروں کی رکھی گئیں ہیں جنہوں نے 1948ء میں اپنے گھروں کو چھوڑ دیا۔ اس طرح کی چابیاں اورکارٹون حنظلة‎ واپسی کے حق کے لئے فلسطینی عام علامات ہیں۔ [2][3]

فلسطینی حق رجعت یا فلسطینیوں کا واپسی کا حق (عربی: حق العودة ، حقق الاعدا ؛ عبرانی: זכות השיבה‎ ،نقل صوت: زخوت حشیوہ ) سیاسی سوچ یا اصول ہے کہ فلسطینی پناہ گزینوں ، دونوں نسل اول پناہ گزین (جو 2012ء تک 30 ہزار سے 50 ہزار تک افراد اب بھی زندہ ہیں) [4][5] اور ان کی اولاد (2012ء میں 50لاکھ افراد )کو اسرائیلی مقبوضہ علاقے میں ، [4] واپس آنے کا حق ہے اور جائداد رکھنے کا حق حاصل ہے جس کے وہ یا ان کے آباء 1948ء فلسطینی خروج کے دوران مالک تھے جب انہیں علاقہ اور املاک ترک کرنے پر مجبور کیا گیا تھا اور جو اب مقبوضہ اسرائیل اور فلسطینی علاقوں (سابقہ برطانوی انتداب فلسطینکا حصہ تھے) چاہے وہ فلسطینی نکبت ، 1948ء کی فلسطینی جنگ یا 1967ء کی چھ روزہ جنگ کے نتیجے میں چُِھوٹی ہوں۔


27 جون 1948ء کو پہلی دفعہ اقوام متحدہ کے مصالحت کنندہ فولک برنادوٹ نے وضع کیا ، [6] جسے واپسی کے حق کے محرکوں اور تجویز پیش کرنے والوں نے اس حق کو مقدس حق مانا ہے [7] مزید برآں اسے انسانی حق تسلیم کیا ہے ، جس کے فلسطینیؤں پر عام اور خاص طور پر اطلاق کو بین الاقوامی قانون کے تحت محفوظ کیا گیا ہے۔ [8] قول یہ ہے کہ جو لوگ واپسی نہیں کرسکتے ہیں یا جن کی واپسی ان کے لیے ممکن نہیں ہے، انہیں واپسی کے عوض معاوضہ ملنا چاہیے .محرکوں اور تجویز پیش کرنے والوں کا خیال ہے کہ خود اسرائیلی بیانیہ واپسی کے قانون(علیا) کے مخالف ہے جو تمام یہود کو مستقل سکونت کا تو حق دیتا ہے لیکن فلسطینیوں کے متوازی حقوق پر قدغن لگاتا ہے۔ [9]

  1. "ترجمہ سکھلائی"۔
  2. Aviv Lavie (اگست 12, 2004)۔ "Right of remembrance"۔ Haaretz۔
  3. "Palestinians mark Al-Naqba Day"۔ CBC۔ مئی 15, 2005۔
  4. ^ ا ب "U.S. State Department Affirms Support for 5 Million 'Palestinian Refugees'"۔ The Algemeiner۔ 30 مئی 2012۔ اخذ شدہ بتاریخ 31 مئی 2012۔ [U.S.] Deputy Secretary of State Tom Nides (..) affirmed the State Department's view on the number of Palestinian refugees (..) that the UN and Works Agency for Palestinian Refugees in the Near East (UNRWA) "provides essential services for approximately 5 million refugees," (..) Middle East Forum founder Daniel Pipes recently noted in an op-ed for Israel Hayom that only 1 percent of the refugees served by UNRWA fit the agency's definition of "people whose normal place of residence was Palestine between June 1946 and May 1948, who lost both their homes and means of livelihood as a result of the 1948 Arab-Israeli conflict." The other 99 percent are descendants of refugees.
  5. "According to the United Nations Relief and Works Agency – the main body tasked with providing assistance to Palestinian refugees – there are more than 5 million refugees at present. However, the number of Palestinians alive who were personally displaced during Israel's War of Independence is estimated to be around 30,000."US Senate dramatically scales down definition of Palestinian 'refugees'
  6. Howard Adelman؛ Elazar Barkan۔ No Return, No Refuge: Rites and Rights in Minority Repatriation۔ Columbia University Press۔ صفحہ 203۔ آئی ایس بی این 978-0-231-15336-2۔ As indicated earlier, the formulation of the right of return first appeared in Count Bernadotte's proposal of 27 June 1948... Bernadotte, who can correctly be viewed as the father of the right to return... But the murder of Bernadotte froze any further discussions on formulating a policy of resettlement.
  7. "Hamas: Right of return 'sacred'"۔ اپریل 22, 2007۔ مورخہ جنوری 20, 2016 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  8. Text at WikiSource.
  9. The racial contract: Israel/Palestine and Canada. 9 September 2008.