خود خلاصی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
پنسکرکر کی کتاب "خود- خلاصی" 1882ء

خود خلاصی ( Selbstemanzipation ) روسی-پولستانی یہودی ڈاکٹر اور فعالیت پسند لیؤن پنسکر نے جرمن زبان میں ایک ابتدائی صیہونی کتابچہ لکھا تھا۔

پنسکر نے سام دشمنی کی ابتدا پر بحث کی اور یہودی خود مختاری اور قومی شعور کی ترقی کے بارے میں کلام کیا۔ انہوں نے لکھا کہ یہودکبھی بھی غیر یہود کے سماجی لحاظ سے مساوی نہیں ہوسکتے جب تک کہ ان کی اپنی ریاست نہ ہو۔ انہوں نے یہودی رہنماؤں کو اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے مجتمع ہونے کے لیے کہا۔ کتابچے میں، انہوں نے یہودیوں کے خلاف حملوں کو نفسیاتی، امراضیاتی ابتری اور غیر معقول خبط کے طور پر بیان کیا ہے۔ [2]

پنسکر ابتدا میں انجذاب پسند تھا، روس میں یہودی انسانی حقوق کے بارے میں زیادہ احترام کرنے کا مطالبہ کرتا تھا۔ تاہم، 1881ء میں سلطنت روس میں بڑے پیمانے پر سام دشمن فسادات اور 1882ء کے پہلے نصف حصے میں مغربی یورپ کے دورے کے بعد، ان کے خیالات میں تبدیلی آئی۔ اس سال انہوں نے جرمن زبان میں ایک غیر موسوم مضمون شائع کیا۔ پنسکر کا نیا نقطہ نظر ان کی یہودی قوم پرست گروہ احباء صہیون کی ترقی میں ان کی شمولیت کا باعث بنا جس کے وہ صدر بنے ۔

اس مضمون نے خود احباء صہیون گروہ اور یورپ بھر میں یہود کو متاثر کیا اورصیہونیت و یہودی ریاست کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔یہ کتابچہ یکم جنوری، 1882ء کو شائع کیا گیا تھا۔ [3]

اقوال و اقتباسات[ترمیم]

"اٹھارویں اور انیسویں صدیوں کے عظیم خیالات ہمارے لوگوں پر اثر انداز ہوئےبغیر نہیں گزرے۔ ہم صرف یہودی نہیں ہم انسان بھی ہیں؛ بطور انسان ہم دیگر انسانوں جیسی زندگی جینا چاہتے ہیں اور دوسروں کی طرح ایک قوم بننا چاہتے ہیں ... " [4]

مزید دیکھیے[ترمیم]

  • یہودی آزادی
  • "ترجمہ سکھلائی"۔
  • Biography of Leon Pinsker Error in webarchive template: Check |url= value. Empty.
  • Leon Pinsker Auto-emancipation
  • Not Normal, Azure Magazine