محوری قوتیں

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
محوری قوتیں
Axis powers
فوجی اتحاد
1940–1945
دارالحکومت غیر متعین
سیاسی ڈھانچہ فوجی اتحاد
تاریخی دور دوسری جنگ عظیم
 - سہ فریقی معاہدہ 27 ستمبر 1940
 - ضد بین الاقوامی اشتمالی معاہدہ 25 نومبر 1936
 - معاہدہ فولاد 22 مئی 1939
 - تحلیل 2 ستمبر 1945
برلن، جرمنی میں جاپان، اطالیہ اور جرمنی کے پرچم

محوری قوتیں (Axis powers) (جرمن: Achsenmächte، اطالوی: Potenze dell'Asse، جاپانی: 枢軸国) جنہیں محوری اتحاد (Axis alliance)، محوری قومیں (Axis nations), محوری ممالک (Axis countries) اور صرف محور (Axis) بھی کہا جاتا ہے دوسری عالمی جنگ میں اتحادی فوجوں کے خلاف قوموں کا ایک اتحاد تھا۔

محور کا آضاز ضد بین الاقوامی اشتمالی معاہدے (Anti-Comintern Pact) سے ہوا کو جرمنی اور جاپان کے درمیان 1936 میں ہوا۔ اطالیہ نے 1937 میں معاہدے میں شمولیت اختیار کی۔

محور نے مغربی اور مشرقی اتحادیوں کے خلاف جنگ کے لئے مختلف جواز پیش کیے۔ ایڈولف ہٹلر نے 1941 میں پولینڈ کے ساتھ اس جنگ کے دوران مغربی طاقتوں کی مداخلت کو دوسری جنگ عظیم کے پھیلنے کا جواز بتایا۔

فہرست

شریک ممالک[ترمیم]

نازی جرمنی، 1944

جرمنی[ترمیم]

جرمنی میں ایڈولف ہٹلر اور نازی جماعت کی حکومت تھی۔

جاپان[ترمیم]

جنگ کے دوران جاپان کے زیر تسلط علاقے

سلطنت جاپان پر شہنشاہ شووا جسکے دور کو ہیروہیتو کہا جاتا ہے کی حکومت تھی۔

اطالیہ[ترمیم]

اطالیہ 1942

مملکت اطالیہ کے خاتمے کے بعد اطالیہ پر بینیتو موزولینی کی حکومت تھی۔

مجارستان[ترمیم]

مجارستان پر ایڈمرل مکلوس ہورتھی کی حکومت تھی۔ مجارستان محوری قوتوں میں شامل ہونے والا چوتھا ملک تھا۔

رومانیہ[ترمیم]

مملکت رومانیہ برطانوی حامی اور پولینڈ کی اتحادی تصور کی جاتی تھی۔ پولینڈ پر جرمن اور سوویت حملے، اور اسکے بعد جرمنی کے فرانس اور نشیبستان پر حملوں نے رومانیہ کو تنہا کر دیا تھا۔ 1940 میں شاہ کیرول دوم نے جرمن تحفظ حاصل کر لیا اور جنرل آئون انتونیسکیو (General Ion Antonescu) کو ملک کا وزیر اعظم مقرر کر دیا۔ دو دن بعد جنرل آئون انتونیسکیو نے بادشاہ کو تخت سے دستبردار کر کے اپنے حکمران ہونے کا اعلان کر دیا۔ 23 نومبر، 1940 کو رومانیہ بھی محوری قوتوں میں شامل ہو گیا۔

بلغاریہ[ترمیم]

مملکت بلغاریہ پر اس وقت زار بورس سوم کی حکومت تھی جب بلغاریہ نے محوری قوتوں میں شمولیت اختیار کی۔

یوگوسلاویہ[ترمیم]

25 مارچ 1941 کو اس ڈر سے کہ یوگوسلاویہ پر حملہ نہ کر دیا جائے گی، پرنس پال نے یوگوسلاویہ کو محوری قوتوں میں شمولیت کا اعلان کر دیا۔

شریک جنگ اقوام[ترمیم]

تھائی لینڈ[ترمیم]

تھائی لینڈ نے اکتوبر 1940 کوفرانسیسی ہند چین کے حصول کے لیے فرینکو تھائی جنگ شروع کی۔ اور 25 جنوری 1942 کو یہ جاپان کا ایک رسمی اتحادی بن گیا۔

فن لینڈ[ترمیم]

اگرچہ فن لینڈ نے کبھی رسمی طور پر محوری قوتوں میں شمولیت اختیار نہیں کی، لیکن اس نے سوویت اتحاد کے خلاف جنگ میں محور کا ساتھ دیا۔

سان مارینو[ترمیم]

17 ستمبر 1940 کو سان مارینو نے برطانیہ کے خلاف اعلان جنگ کیا۔ برطانیہ اور دیگر اتحادی فوجوں افواج نے اسکا جواب نہیں دیا۔

عراق[ترمیم]

مملکت عراق محوری قوتوں کی مختصر مدت کے لیے اتحادی بنی جب مئی 1941 میں اس نے برطانیہ کے ساتھ اینگلو عراقی جنگ شروع کی۔

جاپانی کٹھ پتلی ریاستیں[ترمیم]

مانچوکو
مانچوکو (منچوریا)[ترمیم]
منگجیانگ (اندرونی منگولیا)[ترمیم]
چین کی دوبارہ منظم قومی حکومت[ترمیم]
فلپائن (دوسری جمہوریہ)[ترمیم]
ہندوستان (آزاد ہندوستان کی عبوری حکومت)[ترمیم]

آزاد ہند سرکار جس کی قیادت سبھاش چندر بوس کر رہے تھے، اور وہ موہن داس گاندھی کی تحریک کے خلاف تھے محوری قوتوں کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ۔ بوس کو برطانوی حکام دوسری عالمی جنگ کے آغاز پر نے گرفتار کر لیا۔

ویتنام (سلطنت ویتنام)[ترمیم]

سلطنت ویتنام ایک قلیل مدتی جاپانی کٹھ پتلی ریاست تھی جو 11 مارچ سے 23 اگست 1945 تک قائم رہی۔

کمبوڈیا[ترمیم]

مملکت کمبوڈیا ایک قلیل مدتی جاپانی کٹھ پتلی ریاست تھی جو 9 مارچ سے 15 اپریل 1945 تک قائم رہی۔

لاؤس[ترمیم]
برما (با ماو حکومت)[ترمیم]

اطالوی کٹھ پتلی ریاستیں[ترمیم]

مونٹی نیگرو 1941
مونٹی نیگرو[ترمیم]
البانیا[ترمیم]
موناکو[ترمیم]

جرمن کٹھ پتلی حکومتیں[ترمیم]

سلوواکیہ (ٹیسو حکومت)[ترمیم]
سلوواکیہ 1941

جمہوریہ سلاواک نے صدر جوزف ٹیسو کے تحت 24 نومبر 1940 کو محوری قوتوں میں شمولیت اختیار کی۔

بوہیمیا اور موراویا کی زیر حمایت حکومت[ترمیم]
سربیا (حکومت قومی نجات)[ترمیم]
اطالیہ (اطالوی معاشرتی جمہوریہ)[ترمیم]
البانیا (جرمن کنٹرول کے تحت)[ترمیم]
مجارستان (سزالاسی حکومت)[ترمیم]
ناروے (کوسلینگ حکومت)[ترمیم]
مقدونیہ[ترمیم]
بیلاروس[ترمیم]
صوبہ لیوبلیانا[ترمیم]

جرمن اطالوی مشترکہ کٹھ پتلی ریاستیں[ترمیم]

ایڈولف ہٹلر (دائیں) بینیتو موزولینی (بائیں).
کروشیا آزاد ریاست[ترمیم]
کروشیا آزاد ریاست 1941
یونان[ترمیم]
فرانس (ویکی حکومت)[ترمیم]

متنازعہ[ترمیم]

درج ذیل ایسی ریاستیں ہیں جو براہ راست تو محور میں شامل نہیں ہوئیں لیکن کسی محور قوت کا ساتھ دیا جس سے انکی غیر جانبداری مشکوک ہو گئی۔

ڈنمارک[ترمیم]
سوویت اتحاد[ترمیم]
ہسپانیہ[ترمیم]
سویڈن[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

سلطنت جاپان


بیرونی روابط[ترمیم]