امین الحسینی مفتی اعظم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
امین الحسینی مفتی اعظم
(عربی میں: محمد أمين الحسيني خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
Al-Husayni1929head.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 1 جنوری 1895  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
یروشلم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 4 جولا‎ئی 1974 (79 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
بیروت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
رہائش یروشلم
بغداد (1939–1941)
برلن (1941–1945)
قاہرہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رہائش (P551) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Palestine-Mandate-Ensign-1927-1948.svg تعہدی فلسطین
Ottoman flag.svg سلطنت عثمانیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
رکن شوتزشتافل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رکن (P463) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ الازہر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ سیاست دان،  مفتی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
مادری زبان عربی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مادری زبان (P103) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان ترک زبان،  فرانسیسی،  عربی[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
الزام
جرم جنگی جرائم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں جرم (P1399) ویکی ڈیٹا پر
عسکری خدمات
شاخ عرب بغاوت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں عسکری شاخ (P241) ویکی ڈیٹا پر
لڑائیاں اور جنگیں پہلی جنگ عظیم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں لڑائی (P607) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

الحاج امین الحسینی مفتی اعظممفتی اعظم فلسطین سے پہچانے جاتے ہیں عرب مذہبی و سیاسی قائدین سے ہیں۔

ولادت[ترمیم]

امین الحسینی 1895ء یروشلم میں پیدا ہوئے۔

تعلیم[ترمیم]

جامعہ الازہر یونیورسٹی میں تعلیم پائی۔

سیاست[ترمیم]

1917ء میں یروشلم میں قائم شدہ عرب تحریک میں شامل ہوئے۔ اس کا مقصد فلسطین میں اسرائیلی ریاست کے قیام کو روکنا تھا۔ اپریل 1920ء میں یہودیوں کے خلاف فسادات برپا کرنے کی پاداش میں دس سال قید سخت کی سزا ہوئی۔ لیکن وہ اردن فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ اگلے سال عام معافی کا اعلان ہوا تو یروشلم واپس آ گئے اور ہائی کمشنر کے حکم پر مفتی کے عہدے پر فائز ہوئے۔ بعد ازاں مفتی اعظم کا لقب اختیار کیا۔ اور فلسطینی عربوں کے قائد بن گئے۔ دوسری جنگ عظیم کے آغاز میںلبنان سے فرار ہو کر عراق پہنچے اور رشید گیلانی کی ناکام بغاوت میں اہم کردار ادا کیا۔ عراق سے فرار ہو کر برلن گئے جہاں ہٹلر نے انہیں عرب بیورو کے قیام کی اجازت دے دی۔ جرمنی کی شکست کے بعد مصر میں پناہ لی اور عرب لیگ کی قائم کردہ فلسطینی عربوں کی کمیٹی کے صدر بنائے گئے۔ 1948ء کی عرب اسرائیل جنگ میں عرب نیشنل گارڈ کی کمان کی۔ 1951ء میں عالمی مسلم کانفرنس منعقدہ کراچی اور 1952ء میں علمائے اسلام کانفرنس (کراچی) کی صدارت کی۔ انہوں نے جنوبی وزیرستان کا بھی دورہ کیا اور وانا میں قبائلی عمائدین سے ملاقات کی۔ احمد زئی اور محسود علما نے مفتی اعظم کو کشمیر میں بھارتی فوج سے چھینی گئی ایک رائفل بطور تحفہ پیش کی۔ 1967ء میں ایک مرتبہ پھر کراچی تشریف لائے۔ مفتی اعظم کی تجویز پر ہی مولانا محمد علی جوہر کو بیت المقدس میں دفن کیا گیا۔

وفات[ترمیم]

آخری عمر میں سیاست سے کنارہ کش ہو گئے تھے۔ 1974ء میں بیروت میں انتقال کیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Amin-al-Husayni — بنام: Amin al-Husayni — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  2. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb155026852 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ