امین الحسینی مفتی اعظم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

الحاج امین الحسینی مفتی اعظممفتی اعظم فلسطین سے پہچانے جاتے ہیں عرب مذہبی و سیاسی قائدین سے ہیں۔

ولادت[ترمیم]

امین الحسینی 1895ء یروشلم میں پیدا ہوئے۔

تعلیم[ترمیم]

جامعہ الازہر یونیورسٹی میں تعلیم پائی۔

سیاست[ترمیم]

1917ء میں یروشلم میں قائم شدہ عرب تحریک میں شامل ہوئے ۔ اس کا مقصد فلسطین میں اسرائیلی ریاست کے قیام کو روکنا تھا۔ اپریل 1920ء میں ‌یہودیوں کے خلاف فسادات برپا کرنے کی پاداش میں دس سال قید سخت کی سزا ہوئی۔ لیکن وہ اردن فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ اگلے سال عام معافی کا اعلان ہوا تو یروشلم واپس آگئے اور ہائی کمشنر کے حکم پر مفتی کے عہدے پر فائز ہوئے۔ بعدازاں مفتی اعظم کا لقب اختیار کیا۔ اور فلسطینی عربوں کے قائد بن گئے۔ دوسری جنگ عظیم کے آغاز میںلبنان سے فرار ہو کر عراق پہنچے اور رشید گیلانی کی ناکام بغاوت میں اہم کردار ادا کیا۔ عراق سے فرار ہو کر برلن گئے جہاں ہٹلر نے انہیں عرب بیورو کے قیام کی اجازت دے دی۔ جرمنی کی شکست کے بعد مصر میں پناہ لی اور عرب لیگ کی قائم کردہ فلسطینی عربوں کی کمیٹی کے صدر بنائے گئے۔ 1948ء کی عرب اسرائیل جنگ میں عرب نیشنل گارڈ کی کمان کی۔ 1951ء میں عالمی مسلم کانفرنس منعقدہ کراچی اور 1952ء میں علمائے اسلام کانفرنس (کراچی) کی صدارت کی۔ انہوں نے جنوبی وزیرستان کا بھی دورہ کیا اور وانا میں قبائلی عمائدین سے ملاقات کی۔ احمد زئی اور محسود علماء نے مفتی اعظم کو کشمیر میں بھارتی فوج سے چھینی گئی ایک رائفل بطور تحفہ پیش کی۔ 1967ء میں ایک مرتبہ پھر کراچی تشریف لائے۔مفتی اعظم کی تجویز پر ہی مولانا محمد علی جوہر کو بیت المقدس میں دفن کیا گیا۔

وفات[ترمیم]

آخری عمر میں سیاست سے کنارہ کش ہوگئے تھے۔ 1974ء میں بیروت میں انتقال کیا۔

حوالہ جات[ترمیم]