حثکالا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
پہلی صف, پروٹو مثکلم: رافیل لیوی ہنور • سلیمان ڈبنو  • ٹوبیس کوہن • مارکس ایلائزر بلوخ 
دوسری صف ، برلن حثکالا: سالومن یعقوب کوہن • ڈیوڈ فریڈلنڈر • ہارٹ وگ وسیلی • موسیٰ منڈلسوہن
تیسری صف ، آسٹریا اور گالیشیا: یہوداہ لوب مائزز  • سلیمان یہوداہ لوئب رپوپورٹ • یوسف پرل • باروک جیٹیلیس
چوتھی صف ، روس: آوروم بر گوٹلوبر • ابراہیم ماپو  • سیموئیل یوسف فوین• اسحاق بائر لیوینسوہن

حثکالا یا یہودی روشن خیالی (عبرانی: השכלה؛ لفظی معنی "حکمت"، "گیان")  مرکزی اور مشرقی یورپکے یہودیوں کی  ایک فکری تحریک تھی جس کا کچھ کچھ  اثر  مغربی اور مسلم ممالک پر بھی ہوا. ۱۷۷۰ ء کی دہائی میں یہ ایک وضع شدہ نظریاتی سوچ کے طور پر ابھری جبکے ۱۸۸۱ء میں  اختتام پزیر ہوئی ساتھ ہی  یہودی قوم پرستی کا آغاز ہوا ۔

حثکالا  کے دو مقاصد تھے. اس کی کوشش تھی کہ یہودیوں کو الگ منفرد و اجتماعی شناخت کی حفاظت کی جائے اور   ثقافتی و اخلاقی تجدید, خاص طور پر سیکولر مقاصد کےلئے عبرانی  کو اجاگر کیا جائے  ،جدید پریس اور ادب  میں اس زبان کا مقام بنایا جائے۔دوسرا ساتھ ہی ساتھ  اسکی کوشش رہی  کہ زیادہ سے زیادہ یہودیوں کا  ارد گرد معاشروں میں انضمام ہو سکے،  بشمول علاقائی زبانوں کا مطالعہ ,جدید اقدار (جیسے انسانی حقوق ، اسقاط حمل کی اجازت اور ہم جنس پرستی )  کی اختیاری، ثقافت کی تبدیلی  اور یہودی پہناوے و ظہور کی تبدیلی ، ان سب کے ساتھ ساتھ اقتصادی برتری کی  کوشش.  حثکالا  نے عقلیت, آزاد خیالی ، سوچ کی آزادی اور دریافت کو ترقی دی اور بڑی حد تک یہودی  روشن خیالی کے طور پر سمجھا گیا . تحریک کو معتدل سے لے کر قدامت پرست اور انتہا پسند ہر قسم کی سوچ نے  آگھیرا ایک وسیع ذہنی اختلاف موجود رہا  , معتدل جو  زیادہ سے زیادہ سمجھوتہ کرنے کے لئے تیار رہتے اور انتہا پسند جو صفائی کرتی تبدیلیوں کی کوشش کرتے رہے.

اپنی مختلف تبدیلیوں میں  ، حثکالا نے  مرکزی اور مشرقی یورپ کے یہودیوں کو جدیدیت دینے میں اگرچہ محدود پر اہم کردار ادا  کیا ہے. اس کے سرگرم کارکنوں کو جنہیں مثکلم کہا  جاتا ہے  دونوں سرکاری اور نجی شعبوں میں تعلیمی اور ثقافتی اصلاحات لاگو کئے جانے کے لئے زور دیتے -  اپنی  دویتوادی  پالیسیوں کے باعث، یہ روایت پسندوں اور  راہبانہ اشرافیہ کے ساتھ متصادم رہے ہیں جن کی کوشش ہوتی ہے کہ پرانی یہودی اقدار اور روایات مکمل طور پر تحفظ کر سکیں اور انتہا پرست  انجذاب پسند  جن کی خواہش تھی کہ یہودیوں کو بطور الگ وضع شدہ قوم یا تو ختم کیا جائے ورنہ اس طرح کی انکی موجودگی میں کمی ضرور کیجائے اور باقی قوموں میں شامل ہوا جائے.