چار مقدس شہر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
چار مقدس شہروں کا نقشہ، فلسطین۔ 19 ویں صدی کا یہ نقشہ یہودی مقدس سرزمین کے چار شہروں کو ظاہر کر رہا ہے اور چار مربعوں پر منقسم ہے۔ یروشلم اوپری دائیں جانب مربع میں سب سے زیادہ رقبہ گھیرے ہوئے ہے۔ یروشلم کے نیچے حبرون ہے۔ تقریباً نصف کے نیچے تقسیم کرنے والا خط دریائے اردن ہے۔ اوپری بائیں مربع میں یروشلم سے بھی اوپر صفد اور اس کے ٹھیک نیچے طبریہ ہے۔ اس نقشے میں ان شہروں کے مزارات، ربیوں اور مقدس شخصیات کے مقبرے بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

چار مقدس شہر (عبرانی: ארבע ערי הקודש‎، یدِش: פיר רוס שטעט)‎ یہودی روایت کی ایک جامع اصطلاح ہے جس سے مراد چار شہر یروشلم، حبرون، صفد اور طبریہ ہیں۔ عثمانیوں کے فلسطین فتح کرنے کے بعد یہودیوں کے لیے یہی چار جائے پناہ تھے۔[1] مقدس شہر کا تصور سنہ 1640ء میں آیا،[1] شہروں کے درمیان خالوکاہ (ضرورت مندوں کے لیے فنڈ) کے لیے چندہ جمع کرنے کی خاطر ایک تنظیم بنانے کے نتیجے میں طبریہ کو چار مقدس شہر کی فہرست میں سنہ 1740ء میں شامل کیا گیا۔[1]

1906ء کی یہودی دائرۃ المعارف کے مطابق ”ارض مقدسہ کا تقدس خصوصاً تدفین کے لیے ان چار شہروں کی طرف منتقل ہو گیا ہے، یروشلم، حبرون، طبریہ اور صفد۔“[2]

یروشلم[ترمیم]

10ویں صدی قبل مسیح سے، جب کہ داؤد بادشاہ نے اس جگہ کو بیت ھا مقدش کے لیے منتخب کیا تب سے ہی یہ شہر صہیونیت کے نزدیک سب سے مقدس شہر ہے اور یہودیوں کی روحانی جگہ ہے۔[3]

حبرون[ترمیم]

یہ شہر یہودی بزرگوں کی آخری آرامگاہ کی حیثیت سے معروف ہے جہاں ابراہیم، سارہ، اسحاق، ربقہ، یعقوب، لیاہ جیسی بزرگ شخصیات مدفون ہیں۔ یہیں معارت مکفیلہ بھی واقع ہے۔ حبرون یہودیوں کی دوسری سب سے زیادہ مقدس جگہ اور ان تین شہروں میں سے ایک ہے جہاں تورات کی شخصیات نے زمین خریدیں۔ ابراہیم نے حتیوں سے ایک کھیت اور ایک زمین خریدی (پیدائش 23: 16-18)۔ بادشاہ داؤد نے ایک گھر یروشلم میں بیوسی اروناہ سے خریدا (2 سموئیل 24:24) اور یعقوب نے سکم کی دیوار کے باہر اہلِ سکم سے زمین خریدی (پیدائش 33: 18-19)۔ تاریخی طور پر حبرون داؤد کا پہلا دار السلطنت ہے۔

صفد[ترمیم]

سنہ 1942ء میں ہسپانیہ سے یہودیوں کا اخراج ہوا تو صفد میں ان کی آمد ہوئی۔ اس وقت سے یہ شہر ان کے لیے مقدس ہو گیا اور اسے قبالہ کے ماہرین کا مرکز سمجھا جانے لگا۔

طبریہ[ترمیم]

یہ شہر یہودی تاریخ میں اس طرح اہم ہے کہ یہیں یروشلم تلمود لکھی گئی تھی۔ اور یہ مسوراتیوں کا گھر ہے۔ لیکن اس کو مقدس شہر کا درجہ ربیوں کی آمد پر ملا۔ جنہوں نے 18ویں اور 19ویں صدی میں اسے یہودی تعلیم کا مرکز بنایا۔ یہودی روایت کے مطابق طبریہ میں ہی رہائی کا آغاز ہوگا اور سنہیڈرن یہاں دوبارہ تعمیر ہوگا۔[4] مسیح طبریہ کے ایک تالاب سے ظاہر ہوں گے، شہر میں داخل ہوں گے اور صفد میں ایک بلند پہاڑی پر ان کے ارد گرد ہجوم جمع ہوگا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ Wigoder, Geoffrey (ویکی نویس.)۔ The Encyclopedia of Judaism۔ Macmillan۔ صفحہ 768۔ Term applied to the Erets Israel cities of Jerusalem, Hebron, Safed and Tiberias. These were the four main centers of Jewish life after the Ottoman conquest of 1516. The concept of the holy cities dates only from the 1640s, when the Jewish communities of Jerusalem, Hebron, and Safed organized an association to improve the system of fundraising in the Diaspora. Previously, such fundraising had been undertaken by individual institutions; now it was agreed that the emissaries would be sent on behalf of each urban Jewish community as a whole, with not more than one emissary per town. After Tiberias was refounded in 1740, it also joined the association. This arrangement did not last long, however, and by the mid-19th century there was no authority strong enough to enforce a centralized collection of ḥalukkah funds. The term "Four Holy Cities" became a convenient designation by historians rather than the title of an actual functioning body. In Jewish tradition, going back to ancient times, the only city regarded as holy is Jerusalem |access-date= requires |url= (معاونت)
  2. Palestine, Holiness Of by Joseph Jacobs, Judah David Eisenstein. Jewish Encyclopedia, 1906 ed.
  3. Why Do Jews Love Jerusalem? by Yeruchem Eilfort. Chabad.org/ Ideas & Beliefs/Questions & Answers/Mitzvot & Jewish Customs
  4. Dov Noy؛ Dan Ben-Amos؛ Ellen Frankel (نومبر 2006)۔ Folktales of the Jews: Tales from the Sephardic dispersion۔ Jewish Publication Society۔ صفحہ 66۔ آئی ایس بی این 978-0-8276-0829-0۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 17 اکتوبر 2010۔