سات احکام نوح

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

سات احکام نوح (انگریزی: Seven Laws of Noah، عبرانی: שבע מצוות בני נח (شیوا متزووت ب'نئی نوح)) سات اخلاقی حکموں کا ایک مجموعہ، جو تالمود کے مطابق، خدا کی طرف سے نازل شدہ ہیں۔[1] جو نوح کے بیٹوں کے لیے تھا، مگر اب ساری انسانیت کے لیے ہے۔[2][3]

اس کے مطابق کوئی بھی غیر یہودی ان قوانین پر عمل کرتا ہے تو وہ غیر قوم کا راستباز مانا جاتا ہے اور اسے آخرت میں ایک مقام کی اور حتمی ثواب کی یقین دہانی کراتا ہے (عبرانی: עולם הבא‎) جو عولم ہبا ہے۔[4][5]

روایتی طور پر وہ سات قوانین یہ ہیں۔[6]

  1. خدا کا انکار نہ کرنا۔
  2. خدا کی توہین نہ کرنا۔
  3. قتل نہ کرنا۔
  4. حرام کاری میں ملوث نہ ہونا، زنا یا ہم جنس پرستی میں نہ پڑنا۔
  5. چوری نہ کرنا۔
  6. کوئی زندہ جانور مت کھانا۔
  7. عدالتیں قائم کرنا/قانونی نظام اور اطاعت کو یقینی بنانا۔

تلمود کے مطابق یہودی فقہا کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ سات قوانین نوح کی اولاد کو دیے گئے تھے۔ لیکن ان کا اس بات پر اختلاف ہے کہ آدم و حوا کو کون سے احکامات دیے گئے۔ ان ساتوں میں سے چھ تورات کی کتاب پیدائش سے ہے جبکہ ساتواں انصاف کی عدالتوں کا قائم کرنا ہے۔

مآخذ[ترمیم]

تورات[ترمیم]

تورات کے کتاب طوفان نوح کے مطابق ایک سیلاب نے پوری دینا کو اپنی چپیٹ میں لے لیا اور نوح، انکی زوجہ، ان کے بیٹے اور بیٹوں کی بیویوں اور کشتی نوح پر سوار جانوروں کے علاوہ سطح زمین پر پائی جانے والی تمام مخلوق کو موت کی نیند سلا دیا۔ اسی میں آگے بیان ہے کہ اس دور کی ساری انسانیت نوح کی اولاد ہیں۔ اسی لیے ان قوانین کو نوح کی طرف منسوب کرکے نوح کے سات احکام کہا جاتا ہے۔ طوفان تھمنے کے بعد اللہ عز و جل نے نوح کے ساتھ کچھ معاہدے کیے۔ جن میں درج ذیل نصیحتیں تھیں۔

  • زندہ جانوروں کا گوشت: "لیکن میں نے تمہیں جس بات کا حکم دیا ہے وہ یہ کہ تم وہ گوشت مت کھا نا جس میں جان (خون) اب تک موجود ہی ہو"۔

  • قتل اور عدالتیں: "اگر کو ئی تمہا را قتل کرے تو میں اُس سے قتل کا بدلہ لوں گا ۔ اور اگر کو ئی حیوان انسان کو مار ڈالے تو میں اُس حیوان کی جان نکال لوں گا۔ " اِس لیے کہ خدا نے انسان کو اپنی مُشابہت پر پیدا کیا ہے ۔ اس لیے جو کو ئی بھی کسی شخص کا خون بہا تا ہے تو دوسرا شخص اس کا خون بہا ئے گا ۔(9:5–6)

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. According to Encyclopedia Talmudit (Hebrew edition, Israel, 5741/1981, Entry Ben Noah, page 349), most medieval authorities consider that all seven commandments were given to Adam, although موسیٰ بن میمون (Mishneh Torah, Hilkhot M'lakhim 9:1) considers the dietary law to have been given to Noah.
  2. Encyclopedia Talmudit (Hebrew edition, Israel, 5741/1981, entry Ben Noah, introduction) states that after the giving of the تورات, the Jewish people were no longer in the category of the sons of Noah; however, Maimonides (Mishneh Torah, Hilkhot M'lakhim 9:1) indicates that the seven laws are also part of the Torah, and the Talmud (Bavli, Sanhedrin 59a, see also Tosafot ad. loc.) states that Jews are obligated in all things that Gentiles are obligated in, albeit with some differences in the details.
  3. Compare Genesis 9:4–6.
  4. Mishneh Torah, Hilkhot M'lakhim 8:14
  5. Encyclopedia Talmudit (Hebrew edition, Israel, 5741/1981, entry Ben Noah, end of article); note the variant reading of Maimonides and the references in the footnote
  6. "The Seven Noachide Laws - Jewish Virtual Library"۔ Jewishvirtuallibrary.org۔ اخذ کردہ بتاریخ 8 November 2014۔