قسطنطین اعظم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
قیصر بازنطینی روم
قسطنطین اعظم
(لاطینی میں: Flavius Valerius Aurelius Constantinusخاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
قسطنطین اعظم

قیصر بازنطینی روم
دور حکومت 306ء تا 337ء
معلومات شخصیت
پیدائشی نام (لاطینی میں: Flavius Valerius Constantinusخاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیدائشی نام (P1477) ویکی ڈیٹا پر
پیدائش 27 فروری 274[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
نیش[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 23 مئی 337 (63 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
مدفن کلیسیائے رسل مقدس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
شہریت قدیم روم
Byzantine imperial flag, 14th century, square.svg بازنطینی سلطنت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
خاندان آل قسطنطین
دیگر معلومات
پیشہ سیاست دان،عسکری افراد کار  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

قسطنطین ولد قسطنطینوس کلوروس عرف "قسطنطین اعظم" یا "قسطنطین یکم" 306ء تا 337ء "قیصر" بازنطینی روم تھا- یہ نہ صرف بازنطینی سلطنت کا بانی تھا بلکہ یہ پہلا "قیصر" تھا جس نے مسیحیت کو اپنا کر اس کو پوری سلطنت کا سرکاری مذہب بھی بنایا- قسطنطین اعظم اور شریک شہنشاہ لائیسینیس نے 313ء میں فرمان میلان جاری کیا، جو سلطنت بھر میں تمام مذاہب کے مذہبی رواداری کا حکم تھا- اس وقت کے اولین سپہ سالار، قسطنطین اعظم نے دو شریک شہنشاہوں، لائیسینیس اور ماکسنتیس کو خانہ جنگوں میں شکست دے کر واحد حاکم ٹھرا- 330ء میں اس نے روم کی بجائے ایک نئے شہر بازنطیم کو بازنطینی سلطنت کا دار الحکومت بنایا اور اس کا نام نئی روم رکھا- تاہم، قسطنطین کے اعزاز میں، لوگ اسے قسطنطنیہ کے نام سے پکارنے لگے، جو ایک ہزار سال کے لیے مشرقی رومی سلطنت کا دار الحکومت رہا-

اریوس اور ان کے دیگر ساتھی جو کہتے تھے کہ یسوع مسیح "انسان و رسول" تھے، پر قسطنطین اعظم نے بہت سختیاں ڈھائیں جن کی وجہ سے یہ لوگ اپنی جان بچا کر مختلف جگہوں اور علاقوں میں منتقل ہو گئے- جن میں کچھ عرب وادیوں میں آئے اور زہد و قناعت کی زندگی بسر کرنے لگے- یوں یہ لوگ کم ہوتے ہوتے ناپید ہو گئے- بعد میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانے میں جو چند افراد باقی رہے، صرف وہ جو جزیرہ نما عرب پرانے وقتوں میں ہجرت کر گئے تھے، ان میں سے کچھ لوگوں نے اسلام قبول کر لیا۔ [حوالہ درکار]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. عنوان : Константин Великий — شائع شدہ از: Brockhaus and Efron Encyclopedic Dictionary. Volume XVI, 1895
  2. عنوان : Константин Великий — شائع شدہ از: Brockhaus and Efron Encyclopedic Dictionary. Volume XVI, 1895