قسطنطین اعظم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
قسطنطین اعظم
قیصر بازنطینی روم
Rome-Capitole-StatueConstantin.jpg
دور حکومت 306ء تا 337ء
پیشرو قسطنطینوس یکم
جانشین قسطنطینوس دوئم
مکمل نام
فلاوی-یس ولاری-یس اوریلی-یس قسطنطین اگسٹس
شاہی خاندان آل قسطنطین
والد قسطنطینوس یکم
والدہ ہیلانہ
پیدائش 27 فروری، 272ء
نیش، جنوب مشرق سربیہ
وفات 22 مئی، 337ء

قسطنطین ولد قسطنطینوس کلوروس عرف "قسطنطین اعظم" یا "قسطنطین یکم" 306ء تا 337ء "قیصر" بازنطینی روم تھا- یہ نہ صرف بازنطینی سلطنت کا بانی تھا بلکہ یہ پہلا "قیصر" تھا جس نے عیسائیت کو اپنا کر اس کو پوری سلطنت کا سرکاری مذہب بھی بنایا- قسطنطین اعظم اور شریک شہنشاہ لائیسینیس نے 313ء میں فرمان میلان جاری کیا، جو سلطنت بھر میں تمام مذاہب کے مذہبی رواداری کا حکم تھا- اس وقت کے اولین سپہ سالار، قسطنطین اعظم نے دو شریک شہنشاہوں، لائیسینیس اور ماکسنتیس کو خانہ جنگوں میں شکست دے کر واحد حاکم ٹھرا- 330ء میں اس نے روم کی بجائے ایک نئے شہر بازنطیم کو بازنطینی سلطنت کا دارالحکومت بنایا اور اسکا نام نئی روم رکھا- تاہم، قسطنطین کے اعزاز میں، لوگ اسے قسطنطنیہ کے نام سے پکارنے لگے، جو ایک ہزار سال کے لئے مشرقی رومی سلطنت کا دارالحکومت رہا-

اریوس اور ان کے دیگر ساتھی جو کہتے تھے کہ عیسٰی "انسان و رسول" تھے، پر قسطنطین اعظم نے بہت سختیاں ڈھائیں جن کی وجہ سے یہ لوگ اپنی جان بچا کر مختلف جگہوں اور علاقوں میں منتقل ہوگئے- جن میں کچھ عرب وادیوں میں آئے اور زہد و قناعت کی زندگی بسر کرنے لگے- یوں یہ لوگ کم ہوتے ہوتے ناپید ہوگئے- بعد میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانے میں جو چند افراد باقی رہے، صرف وہ جو جزیرہ نما عرب پرانے وقتوں میں ہجرت کر گئے تھے، ان میں سے کچھ لوگوں نے اسلام قبول کر لیا۔حوالہ درکار؟

حوالہ جات[ترمیم]