تاریخ مسیحیت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

تاریخ مسیحیت یسوع مسیح اور ان کے بارہ رسولوں کے زمانے سے موجودہ زمانے تک مسیحیت اور کلیسیا کی عہد بعہد تاریخ کا احاطہ کرتی ہے۔ مسیحیت ایک توحید پرست مذہب ہے جس کی بنیاد یسوع مسیح کی زندگی اور ان کی تعلیمات ہیں اور کلیسیا سے مراد مسیحی الٰہیات یعنی وہ تحریک و تنظیم ہے جس کو یسوع مسیح نے اپنے بعد نجات کی مہم کو انسانوں کے درمیان پھیلانے کے لیے قائم کیا تھا۔ مسیحیت کا آغاز پہلی صدی عیسوی میں ایک چھوٹی یہودی جماعت کی شکل میں ہوا اور بہت کم عرصہ میں یہ مذہب مشرق وسطی اور رومی سلطنت کے علاقوں خصوصاً شمالی افریقا میں پھیل گیا۔ حالانکہ رومی شہنشاہ اس مذہب کے خلاف تھے بلکہ اس کے متبعین پر ظلم بھی کیا کرتے تھے لیکن تیسری صدی عیسوی کے بعد چوتھی صدی عیسوی میں مسیحیت رومی سلطنت کا شاہی مذہب اور یونانی و رومی تہذیب کا حصہ بن گیا۔ آرمینیا رومی سلطنت کا پہلا ملک ہے جس نے 301 عیسوی میں مسیحیت کو سرکاری مذہب قرار دیا، پھر 319 عیسوی میں جارجیا نے، اس کے بعد 325 عیسوی میں ایتھوپیا نے اور بعد ازاں 380 عیسوی تک رومی سلطنت کا سرکاری مذہب بن گیا۔ قرون وسطیٰ میں مسیحیت خوب پھیلی حتی کہ شمالی یورپ اور روس تک جا پہنچی اور بعد ازاں یہ پوری دنیا میں پھیل گئی اور روئے زمین کا سب سے بڑا مذہب بن گئی۔ اس کے متبعین کی تعداد 2.2 بلین ہے جو انسانی آبادی کے تقریباً ایک تہائی حصہ پر مشتمل ہے۔ مسیحیت کی طویل تاریخ میں اسے مذہبی اور سیاسی کشمکش اور تنازعات بھی درپیش رہے جن کی وجہ سے یہ مذہب تین بڑے فرقوں میں بٹ گیا، راسخ الاعتقاد (مشرقی و شرقی)، کاتھولک اور پروٹسٹنٹ۔

آغاز و اشاعت[ترمیم]

یسوع مسیح[ترمیم]

یسوع مسیح کی زندگی کے مطالعہ کے لیے سب سے معتبر ماخذ اناجیل اربعہ ہے، اس کے علاوہ اپاکرفا عہد نامہ جدید اور رومی خطبا کی بعض تالیفات میں بھی ان کا کچھ تذکرہ ملتا ہے۔ انجیل کے بیان کے مطابق یسوع مسیح کی پیدائش ہیرودیس کے دور حکومت میں بیت لحم میں ہوئی۔ گوکہ یسوع مسیح کی کوئی حتمی تاریخ ولادت حتمی نہیں ملتی تاہم بیشتر محققین کے نزدیک ولادت مسیح کا عہد 4 یا 8 قبل از مسیح ہے۔ لوقا اور متی دونوں انجیل اس بات پر متفق ہیں کہ یسوع مسیح، بنی اسرائیل کے بارہ قبائل میں سے یہودا کی نسل سے ہیں۔ اسی طرح دونوں اناجیل کا اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ یسوع مسیح کی پیدائش ایک معجزہ تھی اور اس معجزاتی واقعہ کو کلیسیا کی اصطلاح میں کنواری ماں سے پیدائش کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یسوع مسیح کی جائے ولادت بیت لحم ہے لیکن انھوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ ناصرہ میں گزارا۔

یسوع مسیح ایک ایسے بند یہودی ماحول میں پروان چڑھے جو مسیح کا منتظر تھا، یسوع اپنی سرگرمی شروع کرنے سے پہلے تقریباً 27 سال تک یوحنا اصطباغی کی باتوں پر عمل کرتے تھے۔ جب عمر تیس سال ہوئی تو یسوع مسیح بپتسمہ یعنی نجات کی دعوت اور خوشخبری کے لیے نکل پڑے، دریائے اردن کے علاقوں کو چھوڑا اور شمال کی طرف چلے یہاں تک کہ کفر نحوم میں قیام کیا، پھر الجلیل، یہودیہ، جنوبی لبنان، شمالی اردن، گولان اور الخلیل بلکہ یروشلم تک کی بستیوں اور دوسرے گاؤں اور دیہاتوں میں گشت کرنے لگے۔

یسوع مسیح کی تعلیمات کی بنیاد جسمانی امور کے ترک کرنے، روحانی امور پر توجہ دینے اور خاص طور سے تکبر، غرور اور گھمنڈ کو چھوڑنے پر تھی۔ اس کے علاوہ انھوں نے یہودی شریعت کے بعض محرمات کو حلال قرار دیا اور بعض دوسرے احکامات کو مشکل بنایا مثلاً طلاق۔انہوں نے حصول نجات کے لیے ایمان کی اہمیت پر خوب زور دیا، محبت اور پیار کو بھی خوب اہم قرار دیا۔ انجیل نے یسوع مسیح کے معجزات و نصائح کو بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے:

اور یسوع، فرشتہ کی بشارت دیتا تھا، ہر بیمار کو شفا عطا کرتا اور قوم کی بیماری کو دور کرتا تھا، اس کی شہرت پورے شام میں پھیل گئی، لوگ اس کے پاس تکلیف میں مبتلا، شیطانوں سے پریشان، کوڑھ اور فالج زدہ بیماروں کو لاتے پھر وہ ان تمام کو ٹھیک کر دیتا، الجلیل، بلاد شام کے دس شہر، یروشلم یہودیہ اور اردن کے علاقوں میں بہت لوگ اس کے پیچھے چل پڑے۔

یسوع مسیح، عام طور سے لوگوں کو مثالیں اور قصے بیان کرتے اور پیچیدہ باتوں کی وضاحت کرتے، اسی طرح انجیل ان کی زندگی کے واقعات و تجربات سے بھری ہوئی ہے تاکہ ان کے پیروکار اس سے نصیحت اور عبرت حاصل کریں۔ انجیل میں تفصیل کے ساتھ جو معجزات بیان کیے گئے ہیں ان کی مجموعی تعداد پینتیس ہے، نیز مثالوں اور قصوں کی تعداد چونتیس ہے اور یسوع کے ساتھ پیش آنے والے حادثات و واقعات کی کل تعداد دو سو پچپن ہے۔ انجیل صراحت کے ساتھ اعلان کرتی ہے کہ یہ یسوع کے اعمال کا مختصر حصہ ہے، کیونکہ "اگر ان کے تمام کاموں کو لکھا جاتا تو دنیا کی ساری کتابیں کم پڑ جاتیں"۔

مسیحی عقیدہ کے مطابق یسوع مسیح نے بارہ رسولوں کو بطور شاگرد منتخب کیا اور یہ بارہ شاگرد، یسوع کے پیروکاروں کی ایک بڑی جماعت سے منتخب کیے گئے تھے جو عورتوں اور ستر حواریوں پر مشتمل تھی۔ مسلسل تین سالہ سرگرمیوں کے بعد اور یروشلم میں عید فسح کی تقریبات میں شرکت کے دوران میں یہودیوں کی مجلس نے اس ڈر سے کہ کہیں ان کی تحریک سیاسی بغاوت کی شکل نہ اختیار کر لے اور رومی سلطنت کی خود مختار حکومت کے لیے خطرہ بن جائے یسوع کے قتل کا فیصلہ صادر کر دیا۔ انجیل نے یسوع کے مقدمہ کو یہودیوں کی مجلس میں پیشی اور پھر پیلاطس کے سامنے پیشی اور پیلاطس کا پھانسی دینے سے منع کرنا، ان سب کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ بہر حال شہر سے باہر گلگتا کے مقام پر یسوع کو صلیب پر لٹکا دیا گیا، صلیب کی کارروائی دیکھنے کے لیے ایک بڑی تعداد جمع تھی، تین گھنٹے بعد یسوع نے وفات پائی۔ یسوع کی موت فطری موت سے مختلف تھی، عام فطری موت نہیں تھی۔ پھر جلد ہی یسوع کو دفن کر دیا گیا تھا کیونکہ فسح کا دن قریب آگیا تھا۔ اتوار کے دن یسوع کے پیروکاروں میں سے کچھ عورتیں قبر کی زیارت کے لیے گئیں تو دیکھا کہ قبر خالی ہے، پھر آسمان سے ایک فرشتہ نے انھیں بتایا کہ یسوع مردوں کے درمیان میں سے چلے گئے۔ ان عورتوں نے جاکر شاگردوں کو بتایا، حواریوں کے ساتھ بھی بہت سی ایسی چیزیں پیش آئیں جس سے یسوع کے قبر سے چلے جانے کی تائید ہوتی ہے۔

پہلی کلیسیا: پطرس اور پولس[ترمیم]

بارہ رسولوں کی زندگی اور ان کے ساتھیوں کے احوال نیز پہلی کلیسیا کی تاریخ اور اس کی سرگرمیوں کے بارے میں ساری معلومات کے لیے سب سے بہترین ماخذ بائبل کی کتاب رسولوں کے اعمال ہے۔ اس کتاب کے مطابق قیامت مسیح کے پچاس دن بعد روح القدس یعنی پاک روح پہلی کلیسیا میں حلول کر گئی، مسیحی اس کو پروشلم میں کلیسیا کی پیدائش کے طور پر مناتے ہیں۔ بارہ رسول ہمیشہ دینی نصیحت، دعا کرنے، روٹی توڑنے، ہیکل میں حاضری اور اپنی تمام چیزوں کو ایک دوسرے میں تقسیم کرنے کی تعلیم دیتے تھے۔

وہ سب لوگ جو ایمان لائے تھے،‏ یک‌دل اور یک‌جان تھے اور اُن میں سے کوئی بھی اپنی کسی چیز کو اپنا نہیں سمجھتا تھا بلکہ وہ سب اپنی چیزیں ایک دوسرے کے ساتھ بانٹتے تھے۔‏ اور رسول بڑی مہارت سے اِس بات کی گواہی دیتے تھے کہ ہمارے مالک یسوع جی اُٹھے ہیں اور اُن سب کو خدا کی عظیم رحمت حاصل تھی۔‏ اُن میں سے کوئی بھی شخص ضرورت‌مند نہیں تھا کیونکہ جس کے پاس زمینیں اور گھر ہوتے،‏ وہ اِنہیں بیچ دیتا اور رقم لا کر رسولوں کے قدموں میں رکھ دیتا۔‏ پھر وہ رقم ہر ایک کی ضرورت کے مطابق تقسیم کی جاتی۔‏

رسولوں کے اعمال کتاب کے مطابق رسول اور حواری بھی معجزات دکھا سکتے تھے، رسولوں کی تعلیمات اور نصائح خاص طور سے پطرس کی دو نصیحت میں یہودیوں کی مجلس (مقدمہ کی مجلس) کی شکایت ہے، جس کی وجہ سے کئی مرتبہ پطرس اور یوحنا عارف اور اسی طرح پولس گرفتار کیے گئے اور جیل میں ڈالے گئے۔ مسیحی برادری میں اضافہ ہونے لگا اور اس اضافہ کی وجہ سے سلطنت نے کلیسیا پر دباؤ ڈالنا شروع کیا، چنانچہ رسولوں کے معاونین کے طور پر سات جاسوس متعین کر دیا، لیکن جب ظلم اور تشدد حد سے زیادہ ہو گیا تو وہ الجلیل اور سامریہ میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔ یروشلم سے باہر مسیحیت کو پھیلانے والے اور مسیحی تعلیمات کو فروغ دینے والے، سامریہ میں فلپس اور دمشق میں حنانیا تھے۔ پھر کچھ عرصہ بعد شاول طرطوسی نے مسیحیت قبول کیا جس کا مشہور یونانی نام پولس پڑا، مسیحیوں کا ماننا ہے کہ دمشق کی راہ میں یسوع مسیح اس پر ظاہر ہوکر اس کو غیر اقوام کے لیے اپنا نمائندہ مقرر کیا۔ پولس نے مسیحیت کی خوب ترویج و اشاعت کی خاص طور سے یہودیوں میں لبنان، قبرص اور انطاکیہ میں۔ جہاں انھوں نے ایک قومی جماعت کی شکل اختیار کر لی اور پہلی مرتبہ مسیحی کہا گیا اور انطاکیہ، پولس کے یونان اور ایشیائے کوچک میں دعوتی اسفار کا بنیادی مرکز بن گیا، لیکن اصلی یہودی مسیحیوں اور غیر اصلی یہودی مسیحیوں کے درمیان ہلاخاہ اور ختنہ کے تعلق سے ایک مشکل پیدا ہو گئی، چنانچہ 50 عیسوی کو یروشلم میں پہلی مجلس منعقد ہوئی جس میں یہ طے کیا گیا کہ غیر یہودیوں کے لیے ختنہ اور ہلاخاہ لازم نہیں ہوگا۔ یروشلم کے بعد پولس نے کئی اسفار یونان اور مقدونیہ کے کیے پھر 59 عیسوی میں روم چلا گیا، روم میں مسیحی پہلے سے موجود تھے چونکہ مسیحی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ روم میں پہلے کلیسیا کا بانی پطرس ہے، جہاں اس نے اپنی زندگی گے آخری سالوں کو گزارا اور 62 اور 67 عیسوی کے درمیان وہیں نیرو کے ظلم کی وجہ سے قتل کیا گیا۔ اور پولس 62 عیسوی میں روم کو چھوڑ کر اسبانیہ چلا گیا پھر واپس آ گیا اور گرفتار کر کے قید کر لیا گیا، جہاں جیل سے اس نے 66 یا 67 عیسوی میں تیمتھیس کے نام دوسرا خط لکھا اور پھر وہیں جیل میں نیرو کے ظلم کی وجہ سے قتل کیا گیا۔ اور مرقس، پطرس کا شاگرد تھا جو اسکندریہ چلا گیا تھا اور وہیں مصر میں کلیسیا کی بنیاد ڈالی۔ اور توما نے بھارت کا رخ کیا۔ بہر حال پہلی مسیحی تحریک زیادہ متحرک اور فعال تھی، بارہ رسولوں میں سب آخر میں وفات پانے والے یوحنا عارف تھے جو پہلے ترکی میں مقیم تھے اس کے بعد پتموس جلا وطن کر دیے گئے جہاں وفات پائی اور یہ اکیلے حواری تھے جنھوں نے فطری موت پائی۔

رسولی عہد کے بعد[ترمیم]

ابتدائی مسیحیت(101 تا 312عیسوی)[ترمیم]

دوسری صدی عیسوی کے آغاز میں مسیحیت، رومی سلطنت میں ایک چھوٹی سی جماعت کا نام تھا، اس جماعت کی ایمانی طاقت اور رومی ثقافت کے سرکاری اصولوں کی عدم پاسداری، رومی سلطنت کے دانشوروں کے لیے پریشانی کا سبب تھا، مزید برآں مسیحی حضرات، رومی شہنشاہ کی پرستش سے بھی انکار کرتے تھے جو رومی سلطنت کا ایک لازمی حکم تھا، چہ جائے کہ وہ رومی رسموں اور تہواروں کو مانتے، چونکہ یہ چیز مسیحیت میں حقیقی خودکشی اور دین سے مرتد ہونے کے مترادف تھی۔ ایک مشہور خطیب نے یہ تک کہ دیا کہ ان لوگوں کا کوئی جرم نہیں ہے اصل مجرم یسوع مسیح ہے جس نے ان لوگوں کو دھوکا دیا اور ان کے پادری ہیں جو ان پر مسلط ہیں۔ ان دانشوروں کی مخالفت کا مسیحیوں پر یہ اثر ہوا کہ قدیم مسیحی، غیر مذہبی دنیوی علوم کی مشرکانہ دین سے نسبت کی وجہ سے مخالفت کرتے تھے، یہاں تک کہ 175عیسوی میں مشہور رومی مؤرخ سیمامس نے مسیحیوں کی خوب مذمت کی ہے اور یہ الزام لگایا کہ مسیحی اپنی جہالت پر خوش تھے۔ دوسری صدی کے نصف صدی بعد حالات کچھ بدل گئے اور مسیحی سمجھ گئے کہ یسوع کی آمد ثانی جس کے وہ منتظر ہیں، اب کافی لمبے عرصے بعد ہوگی اور وہ لمبے عرصے تک زمیں پر قیام کریں گے، چنانچہ اس کے بعد مسیحیوں نے اپنے ایمان کو زمانے کے تقاضوں کے مطابق عقلی دلائل سے ثابت کرنا اور پیش کرنا شروع کر دیا، انھیں اس بات کا بھی احساس ہوا کہ اگر کلیسیا کا ایک جماعت کے طور پر باقی رکھنے کے لیے دفاع نا کیا گیا تو اس پر معاصر تعلیم یافتہ زبان غالب آجائے گی۔ چنانچہ کلیسیا کا دفاع کرنے والا پہلا مسیحی [جسٹن]] تھا جو 156 عیسوی میں ظلم کا شکار ہو کر وفات پایا، اس کے بعد تالیفات کی شکل میں دفاع کا دور شروع میں ہوا جس میں ہارپالوس، اپولینارس اور میلٹن کا نام آتا ہے جنھوں نے رومی شہنشاہ مارکس اورلیس کو اپنی تالیف پیش کی، اس کے بعد اثینا غورس اور ملتیادیس نے بھی 180 عیسوی میں کچھ تالیفات لکھی۔ اور کچھ دانشور شخصیات نے مسیحیت قبول کیا اور سادہ معاشرہ کے لیے مسیحیت کو ایک آسان مذہب بنا کر پیش کیا جس میں سر فہرست جالینوس اور اگنیشیئس ہیں۔ دوسرے صدی کے ختم ہوتے ہوتے مسیحیت ایک سادہ مذہب بن گیا اس میں کوئی مشکل باقی نا رہی یہاں تک کہ مسیحی اپنے بچوں کو غیر مسیحی مشرک اسکولوں میں بھیجتے تھے، چونکہ مسیحیت میں سوائے چند مذہبی عقائد اور اخلاق کے کوئی خاص مذہبی اصول یا شعار باقی نہیں رہا۔ تیسری صدی کے آغاز ہوتے ہی مسیحی مدارس کا جال بچھنا شروع ہوا، مسیحی کتابیں پھیلنے لگیں اور یونانی اور رومی مدارس میں مسیحی اساتذہ بھر گئے، 264عیسوی میں لاذقیہ کا پادری اناکولیس، جامعہ اسکندریہ میں فلسفہ کالج کے عمید بنے اور کاہن مالیخیون، انطاکیہ کے مدرسہ خطابت وبلاغت کے مہتمم منتخب ہوئے۔ محققین کا ماننا ہے کہ مسیحیت دوسری صدی کے اختتام تک رسم ورواج اور عادات واطوار میں یہودیت کے قریب ہو گئی۔ تاہم اس تاریخ سے مسیحیت نے ہیلینیائی دور میں شامل ہوئی جو تیسری صدی کے آغاز میں ایک نئی شمولیت تھی، بہر حال سماجی طور پر اریک کاوفمان کا کہنا ہے کہ مسیحیوں نے انجیل کی روشنی میں ایک سماجی اور اجتماعی نظام تشکیل دیا، چنانچہ مشرکوں اور بت پرستوں کے برعکس وبائی زمانے میں مسیحی اپنے مریضوں کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ دوسرے معذوروں اور مجبوروں کا بھی خوب خیال رکھتے تھے، جس نے ایک ایسے مستحکم خاندان کی تخلیق کی جو رومی سماج میں مفقود تھا اور اس مستحکم خاندانی نظام کے تحت نئی مومن عورتوں نے بڑی تعداد میں بچوں کو جنا اور ان کی پرورش و پرداخت کی۔ علاوہ ازیں ایک ایسی سماجی زندگی وجود میں آئی جو آپس میں ایک دوسرے کی معاونت کی وجہ سے ممتاز تھی۔ سب سے بڑی مصیبت جو کلیسیا کے ساتھ رومی مظالم کے زمانے میں دوسری اور تیسری صدی میں پیش آئی کہ سن 58 عیسوی سے 312 عیسوی تک مسیحیوں کی روم سے جلا وطنی کے شاہی فرمان کی وجہ سے مسیحیوں نے طرح طرح کے مظالم کا سامنا کیا، چنانچہ شہنشاہ نیرو نے مسیحیوں کو جلایا اور شہنشاہ دومیتیان نے تقریبا تہتر سالوں تک ان پر ظلم کیا اور ان مظالم کے آغاز کی تاریخ، تقویم قبطی کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اسکندریہ کا قبطی راسخ الاعتقاد کلیسیا کے مطابق ان مظالم کے دوران تراژان، مارکس اوریلیس، سیپٹیمیس سیویرس، میکسی مینس، ڈیکیس، جالینوس، اوریلین اور ڈکلیٹین سمیت سینکڑوں مسیحی قتل کیے گئے، مسیحی تاریخ میں ان دس مقتولین کو بڑے شہداء کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد گالریوس کے عہد میں حالات کچھ بہتر ہوئے جس نے مسیحیت کو آزادی کا منشور دیا، پھر شہنشاہ قسطنطین کے عہد میں حالات مزید بہتر ہوئے، اس نے مسیحیت کو شاہی ادیان میں ایک ایک دین قرار دیا۔ بہر حال ان تمام مظالم کے باوجود مسیحیت کا آبادیاتی اضافہ ہوتا رہا یہاں تک کہ مجموعی طور پر ایک اقلیتی مذہب بن گیا اور ایسی طاقت بن گیا کہ اب اس کو سرکاری طور ختم یا نظر انداز نہیں کیا جاسکتا تھا۔

مجالس اور تفرقات (312 تا 1054عیسوی[ترمیم]

مسیحیت مذہب 380 عیسوی میں رومی سلطنت کا سرکاری مذہب بن گیا، 330 عیسوی میں شہنشاہ قسطنطین نے اپنا پایہ تخت روم سے قسطنطنیہ منتقل کیا جو مشرقی مسیحیت کا مرکز اور عالمی تہذیبوں کا گہوارہ تھا چنانچہ اس عہد میں قسطنطنیہ دنیا کا سب سے بڑا تہذیبی شہر بن گیا۔ چونکہ مسیحیت نے مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں کو قبول کیا اس لیے مسیحیت کا تقسیم ہونا نا صرف رسم ورواج میں بلکہ عقائد میں بھی یقینی تھا، مسیحیوں کے مخلتف ماحول میں رہنے کی وجہ سے چوتھی صدی میں کلیسیا نے ایسے اعمال و حرکات کا سامنا کیا جسے کلیسیا کی زبان میں بدعت کہا جاتا ہے۔ لیکن پھر بھی ان تحریکوں میں اکثر کا دائرہ کار بہت محدود تھا اور کوشش کی باوجود بھی کم تھے، تاہم کچھ تحریکوں نے طاقت کی شکل اختیار کر لی مثلا: آریوسیت۔ یہی چیز 325 عیسوی میں نیقیہ میں قسطنطین اعظم اور اسقف اوسیس قرطبی کی سربراہی میں مجلس کلیسیائی اتحاد کے قائم کرنے کا سبب بنی۔ پہلی نیقیہ کونسل، سب سے پہلے منعقد ہونے والی کونسل نہیں ہے، اس سے پہلے بھی بہت سی شہری اور علاقائی کونسلیں علاقے کے پادریوں کی سربراہی میں منعقد ہو چکی تھیں۔ لیکن پہلی نیقیہ کونسل، مجلس کلیسیائی اتحاد کی پہلی ایسی کونسل تھی جس میں دنیا بھر کے پادری شریک تھے۔ اس کونسل نے آریوسیت تحریک کو بدعت اور حرام قرار دیا اور اس کونسل نے نیقیہ کا عقیدہ مرتب کیا جو آج تک چلا آرہا ہے۔ پہلی نیقیہ کونسل اس لیے بھی اہمیت رکھتی ہے کہ اس نے مسیحی تاریخ میں پہلی مرتبہ توراتی اصطلاحات کے علاوہ اپنی سرکاری اصطلاح وضع کی اور اسکا استعمال کیا، رومی فلسفہ سے پیدا ہونے والی یہ اصطلاحات، مسیحی عقائد کو نئی تعریفات دیتے اور مزید باریکی عطا کرتے۔ اسی طرح کونسل نے بطریقی کے پانچ بڑے قوانین کو تسلیم کیا، اور ایک دوسرے کے ساتھ تعامل کے قواعد متعین کیے، کونسل کے اختتام کے بعد بت پرست مذاہب، مسیحیت کے سامنے پیچھے ہٹنے لگے، اور یہ مرحلہ انقلابی اور اندرونی جنگوں کی خونی چھاپ کے نام سے چھپا خصوصا مغربی رومی سلطنت میں، اور امن و سلامتی کا فقدان مذہبی مظالم اور تشدد کے پھیلنے کا سبب بنا۔ مسیحیت، بت پرستی کے سامنے زبردست ظالمانہ مظالم سے دوچار ہوئی، مصر کے اسکندریہ میں بطریق اور اتاناسیوس کا تجربہ ایک مثال کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ پھر اس کے بعد مسیحیت کے خلاف بہت سے مظالم ہوئے، جیسے کہ شہنشاہ جولیان نے 362 عیسوی میں سرکاری فرمان کے ذریعہ مسیحیوں پر تعلیم کی پابندی عائد کر دی، اور اس طرح اس نے ایک نئے ظلم کا موسم کھول دیا۔ لیکن دوسری طرف چوتھی صدی ہی کے کلیسیا میں، مسیحی فن تعمیر، شکلوں کی عکاسی کا فن اور موسیقی نے ایک مقام حاصل کر لیا، یہاں تک کہ جورج مینوا سمیت دیگر اساطین کلیسیا اسی عرصہ میں ظاہر ہوئے۔ مثلا: جیروم، ایمبروس، جان کرسسٹم، مارون بزرگ، سمعان عمودی، افرام سریانی، آگسٹین اور آنتانوس بزرگ جو مسیحیت میں رہبانیت تحریک کا بانی تھا، ان مذکورہ شخصیات میں اکثر کو کلیسیا میں بزرگ لقب سے پکارا جاتا ہے۔

بیرونی روابط[ترمیم]

The following links give an overview of the history of Christianity:

  • History of Christianity Reading Room: Extensive online resources for the study of global church history (Tyndale Seminary).
  • Dictionary of the History of Ideas: Christianity in History
  • Dictionary of the History of Ideas: Church as an Institution
  • Sketches of Church History From AD 33 to the Reformation by Rev. J. C Robertson, M.A.,Canon of Canterbury
  •  "Church Historyدائرۃ المعارف بریطانیکا۔
  • A History of Christianity in 15 Objects online series in association with Faculty of Theology, Uni. of Oxford from September 2011

The following links provide quantitative data related to Christianity and other major religions, including rates of adherence at different points in time: