فرانسس زیویر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مشرق بعید کی طرف رسول  ویکی ڈیٹا پر (P511) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
فرانسس زیویر
(باسک میں: Frantses Xabier)،(باسک میں: Frantses Jatsu Azpilkueta ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Franciscus de Xabier.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش 6 اپریل 1506[1]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جاویر[1]  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 3 دسمبر 1552 (46 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جزیرہ شانگ چوان[2][3][1]  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن باسلیکا آف بوم جیسس  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Bandera de Navarra.svg مملکت ناوار  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد جوانس جاتسو  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
مائیکل جاتسو ازپلیکیوتا،  جوانس جاتسو ازپلیکیوتاکوا  ویکی ڈیٹا پر (P3373) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی کالج سینٹے باربے (1525–1530)  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تعلیمی اسناد ماسٹر آف آرٹس  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ مبلغ[4][5][6]،  مصنف،  مہم جو،  کاتھولک پادری  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان باسک  ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان ہسپانوی،  باسک،  لاطینی زبان  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

مقدس فرانسس زیویر (پیدائشی نام: Francisco de Jasso y Azpilicueta، مدت حیات: 7 اپریل 1506ء – 3 دسمبر 1552ء) ایک ناواری باسک رومن کیتھولک مبلغ دین تھے۔ وہ جاویر (باسک میں جابیر) مملکت ناوار (موجودہ ہسپانیہ) میں پیدا ہوئے۔ وہ یسوعی فرقے کے شریک بانی تھے۔ وہ اگناطیس لویولا کے ساتھیوں میں سے ایک تھے اور 1534ء کو مونمارٹر، پیرس میں مفلسی اور عفت کی قسم کھانے والے پہلے ساتھ یسوعیوں میں سے ایک تھے۔ انہوں نے ایشیا میں وسیع پیمانے پر مذہب کے پھیلاؤ کے لیے کام کیا اور اس وقت پرتگیزی سلطنت (خاص طور پر ہندوستان میں) میں انجیل کی تبلیغ کے کام سے گہرا پڑا۔ وہ جاپان، بورنیو، جزائر ملوک اور کچھ دوسرے علاقوں کی طرف پہلے مسیحی مبلغ دین تھے۔ دینِ مسیحیت کی تبلیغ میں فرانسس کو ہندوستان کی نسبت ان علاقوں میں کم کامیابی نصیب ہوئی اس کی بڑی وجہ ان علاقوں کی اجنبی زبان اور وہاں کے لوگوں کی مخالفت تھی۔ وہ دینِ مسیحیت کی تبلیغ کے مشن کو چین تک لانے کے قریب تھے کہ ایسا کرنے سے پہلے جزیرہ شانگ چوان میں وفات پاگئے۔

حوالہ جات[ترمیم]