عشائے ربانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

عشائے ربانی ایک مسیحی رسم جس کو ساکرامنٹ تصور کیا جاتا ہے۔ عشائے ربانی کے معنی اس کی ابتدا اور الٰہیاتی اہمیت کا مطالعہ کرنے سے معلوم کیے جاسکتے ہیں۔ اس کی تاریخی اہمیت اُس واقعہ سے ابھرتی ہے کہ یسوع مسیح نے اپنے پکڑوائے جانے سے پیشتر رات کو فسح کھاتے ہوئے اپنے شاگردوں کو اِسے منانے کا حکم دیا ”جب وہ کھا رہے تھے تو یسوع نے روٹی لی اور برکت دے کر توڑی لی اور برکت دے کر توڑی اور شاگردوں کو دے کر کہا لو کھاؤ۔ یہ میرا بدن ہے۔ پھر پیالہ لے کر شکر کیا اور ان کو دے کر کہا تم سب اس میں سے پیو۔ کیونکہ یہ میرا عہد کا وہ خون ہے جو بہتیروں کے لیے گناہوں کی معافی کے واسطے بہایا جاتا ہے۔“[1]،[2][3] اس کی الٰہیاتی اہمیت اُس تفسیر سے اُبھرتی ہے جو پولس نے اس سے کی۔ وہ لکھتا ہے : ”وہ برکت کا پیالہ جس پر ہم برکت چاہتے ہیں کیا مسیح کے خون کی شراکت نہیں؟ وہ روٹی جسے ہم توڑتے ہیں کیا مسیح کے بدن کی شراکت نہیں؟ چونکہ روٹی ایک ہی ہے۔ اس لیے جو بہت سے ہیں ایک بدن ہیں کیونکہ ہم سب اُسی ایک روٹی میں شریک ہوتے ہیں۔“[4] اس کی تاریخی اور الٰہیاتی اہمیت مِل کر اُس رفاقت کی بنیاد مہیا کرتی ہے جس کے ذریعہ سے جمع شدہ کلیسیا مسیح کی موت اور جی اُٹھنے کی یاد مناتی ہے جو اس کی روحانی زندگی کا سرچشمہ ہے۔ کلامِ مقدس میں یسوع مسیح کی میز کو کئی ایک نام دیے گئے ہیں جس میں سے ہر ایک اس کی اہمیت کے کسی نہ کسی پہلو کو بیان کرتا ہے۔ اسے مسیح کا بدن اور خون[1]، مسیح کے خون اور بدن کی شراکت[5] خداوند کی روٹی اور پیالہ،[6] روٹی توڑنا[7] اور عشائے ربانی[8] کہا گیا ہے۔ اس پاک رسم کا مطلب حسبِ ذیل اصطلاحات سے بھی بخوبی عیاں ہوتا ہے: یوخارست (شکر گزاری)، پاک شراکت، یسوع کی موت کی یادگار ضیافت، حمد و ثنا کی قربانی اور مسیح کی حضوری۔[9]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب متی باب 26 آیت 26 تا 28
  2. مرقس باب 14 آیت 22 تا 24
  3. لوقا باب 22 آیت 19 تا 20
  4. 1 کرنتھیوں باب 10 آیت 16 تا 17 اور باب 11 آیت 23 تا 28
  5. 1 کرنتھیوں باب 10 آیت 16
  6. 1 کرنتھیوں باب 11 آیت 27
  7. اعمال باب 2 آیت 42 اور باب 20 آیت 7
  8. 1 کرنتھیوں باب 11 آیت 20
  9. قاموس الکتاب صفحہ 648 - 650