کلہوڑا خاندان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ڪلهوڙا راڄ
کلہوڑا خاندان
نیم خود مختار ملک مغل سلطنت

1701–1783
دار الحکومت ازہرستان
حکومت طبقۂ امرا
تاریخ
 -  قیام 1701
 -  سقوط 1783

کلہوڑا خاندان (سندھی: ڪلهوڙا راڄ) سندھ اور موجودہ پاکستان کے کئی علاقوں پر حکومت کرتا تھا۔ اس سلطنت کو ایک کلہوڑا قبیلے نے قائم کیا جس نے سندھ پر 1701ء سے 1783ء تک فرمانروائی کی۔ انہیں ابتداًا مغل وزیر مرزا بیگ نے یہاں کی دیکھ ریکھ کے لیے مامور کیا تھا مگر بعد میں ان لوگوں نے اپنی علاحدہ سلطنت قائم کرلی۔ تاہم مغل بادشاہ انہیں کلہوڑا نواب کے طور پر ہی مخاطب ہوتے تھے۔[1]

کلہوڑا خاندان کو نادر شاہ کے حملے کے دوران قزلباشوں کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہونا پڑا تھا۔ میاں غلام شاہ کلہورو نے تنظیم جدید کرتے ہوئے اپنے اقتدار کو مضبوط کیا، مگر اسی کے بیٹے نے سندھ کو تالپور خاندان کے امرا کے ہاتھوں گنوا دیا۔ میاں عبد النبی کلہوڑو آخری کلہوڑا فرمانروا تھے۔[1]

سندھ کی کلہوڑا حکومت کا آغاز 1701ء سے ہوا جب میاں یا محمد کلہورو کو خدا یار خان کے خطاب سے نوازا گیا تھا اور مغلوں کی جانب سے اوپری سندھ کا والی بنایا گیا تھا۔ بعد میں اسے سبی کا والی بنایا گیا۔ اس نے ایک نئے شہر خداآباد کی تعمیر کی جب اسے اورنگزیب کی جانب سے دریائے سندھ اور نعرہ کی زمین عطا کی گئی۔ اس کے بعد میاں طاقتور والیوں میں سے ایک بن گئے۔ اس کے بعد وہ اپنی حکومت کو سیہون اور بکر تک وسعت دے گئے اور شمالی اور مرکزی سندھ کے فرمانروا بن گئے سوائے ٹھٹہ کے جو مغلوں کے زیرقبضہ تھا۔[1]

کلہوڑا خاندان (1701 ء – 1783ء) سے چار طاقتور حکمران پایہ تخت پر بیٹھے، جن کے نام اس طرح ہیں: میاں نصیر محمد، میاں یار محمد، میاں نور محمد اور میاں غلام شاہ۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ Sarah F. D. Ansari۔ Sufi Saints and State Power: The Pirs of Sind, 1843-1947۔ Cambridge University Press۔ صفحات 32–34۔ آئی ایس بی این 978-0-521-40530-0۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔