سیہون

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
سیہون
Shrine of Lal Shahbaz Qalandar view5.JPG 

انتظامی تقسیم
ملک Flag of Pakistan.svg پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ملک (P17) ویکی ڈیٹا پر[1]
منتظم ضلع جامشورو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں انتظامی تقسیم میں مقام (P131) ویکی ڈیٹا پر
متناسقات 26°25′10″N 67°51′34″E / 26.419313888889°N 67.859372222222°E / 26.419313888889; 67.859372222222  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں متناسقاتی مقام (P625) ویکی ڈیٹا پر
مزید معلومات
باضابطہ ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں باضابطہ ویب سائٹ (P856) ویکی ڈیٹا پر
جیو رمز 1165789  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں جیونیمز شناخت (P1566) ویکی ڈیٹا پر

سیہون یا سیہون شریف پاکستان کے صوبہ سندھ کا قدیم شہر ہے جو ضلع جامشورو میں دریائے سندھ کے کنارے آباد ہے۔ یہ شہر صوفی بزرگ لال شہباز قلندر کے مزار کی وجہ سے خاص شہرت رکھتا ہے۔سیہون شریف سندھ کے قدیم ترین شہرومیں سے ایک ہے۔ یہ شہر سکندر مقدونی کے سندھ پر حملے (327 ق م)کے دور کے نقشوں میں “پٹالا” کے نام سے درج ہے۔ سندھ کے رائے خاندان کی راجائوں کے دور (662ء-450ء) ارر برہمن خاندان کے دور (712ء-662ء) میں سیستان کے نام سے تاریخ میں درج ہے۔ سیہون دراصل میں شو واہن کا بگاڑ ہے جس کا مطلب ہے شوَ کی بستی۔ واہن سندھی زبان میں بستی کو کہتے ہیں۔ یعنے یہ شہر شوَ کے پوجاروں کی بستی تھی۔ فارسی لفظ سیستان (شوَ آستان) کا مطلب بھی یہ ہی ہے۔ پہلے یہ شہر قدیم قلعہ میں آباد تھا جو آج بھی شہر کے شمال میں موجود ہے۔ تاریخ مظہرِ شاہجہانی کے مصنف یوسف میرک لکھتے ہیں کہ یک تھنبھی اور چھٹو امرانی کا مزار سہون شہر (قلعہ والا شہر) سے آدھ میل پر ہے۔ اس کا مطلب کہ موجودہ جو سیہون شہر ہے وہ صفحہ ہستی پر نہ تھا۔ حضرت لال شہبار کے دنوں میں یہ شہر بڑھنے لگا اور حضرت قلندر شہباز کے سکونت پزیر ہونے کے بعد اس شہر کی شہرت نے بلائیں لینی شروع کیں۔ لال شہباز کی نسبت سے سیہون شریف بن گیا۔ اس شہر میں قدیم قللعہ، چھٹو امرانی کا مزار، یک تھنبھی، چار تھنبھی کے آثار بھی اس شہر کی قدامت پر روشنی ڈالتے ہیں۔ اس تحصیل میں کائی کی وادی میں قدیم غاریں اور زردشت مذہب کے دخمے موجود ہیں، نئیگ کی وادی میں لکھمیر یا لکھشمیر کی ماڑی نامی ایک قدیم ٹیلہ ہے جس کو این جی مجمدار نے اپنی کتاب “ایکسپلوریشنس ان سندھ”میں کئلکولیتھک سائیٹ قرار دیا تھا، مجمدار کے موجب منچھر جھیل کے کنارے ٹہنی (Tihni) کی بستی ہے جہاں موہن جو دڑو اور آمری تہذیب کے قدیم آثار ملے ہیں، بُلو کھوسو کی قدیم بستی، نئگ شریف میں قمبر علی شاہ کا مزار اور بدھ مذہب کا سٹوپا (Stupa) بھی سیہون تحصیل میں ہیں۔سیہون شریف کئی اولیا کا مدفن بھی ہے۔سیہون شریف پہلے ضلع کراچی میں رہا۔ بعد میں ضلع دادو کی تحصیل تھا۔ اب ضلع جامشورو کی تحصیل ہے۔ اب سیہون شریف بہت ترقی کی ہے۔ ہسپتال، گرلز اور بوائیز کالج بھی ہے۔ سیہون شریف تحصیل میں ہر اقسام کی فصلیں اگتی ہیں اور اس وقت شہر تجارت کا بھی مرکز ہے.[2][3]

خودکش دھماکا[ترمیم]

پاکستان کے صوبہ سندھ میں سیہون کے مقام پر صوفی بزرگ لعل شہباز قلندر کے مزار کے احاطے میں 16 فروری، 2017ء شام کے وقت خود کش دھماکا ہوا۔جس کے نتیجہ میں میں کم سے کم 70 افراد ہلاک اور 250 زخمی ہوئے تھے۔ہلاک شدگان میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔یہ دھماکا جمعرات کی شام درگاہ کے اندرونی حصے میں اس وقت ہوا جب وہاں زائرین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔
خودکش حملہ آور سنہری دروازے(سونے کے گیٹ) سے مزار کے اندر داخل ہوا اور دھمال کے دوران خود کو اڑا لیا۔داعش نے ”اعماق نیوز ایجنسی“ میں لعل شہباز قلندر کے مزار پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

مزید دیکھیں[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

Midori Extension.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کرکے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔