غیاث الدین بلبن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
غیاث الدین بلبن کی قبر، مہرولی

دورحکومت’’1266ء تا 1286ء

خاندان غلاماں کا آٹھواں سلطان۔ بطور غلام ہندوستان لایا گیا۔ سلطان التمش کی نگاہ مردم شناس نے اس کو خرید لیا۔ اس نے اس کو خرید لیا۔ اس نے اپنے دور حکومت میں امرا اور سرداروں کا زور توڑ کر مرکزی حکومت کو مضبوط کیا۔ بغاوتوں کو سختی سے کچل کر ملک میں امن و امان قائم کیا اور سلطنت کو تاتاریوں کے حملے سے بچایا۔

بڑا مدبر ، بہادر اور منصف مزاج بادشاہ تھا۔ علماء و فضلا کا قدر دان تھا۔ اس کے عہد میں شراب کی خرید و فروخت اور راگ رنگ کی محفلوں کے انعقاد کی اجازت نہ تھی۔ انصاف کرتے وقت ہندو مسلم اور غریب اور امیر کی تمیز روا نہ رکھتا تھا۔ مجرموں کو سخت سزائیں دیتا ۔ لیکن رعایا کے لیے بڑا فیاض اور روشن خیال تھا۔

ابتدائی زندگی

اس کی پیدائش 1200ء بتائی جاتی ہے ۔ وہ فراختائی نسل کا ترک تھا اور البری قبیلے کے سردار کا بیٹا تھا بچپن اور کم عمری میں ہی وہ منگولوں کے ہاتھوں گرفتار ہوا جنہوں نے اسے اور اس کے خاندان کے لڑکوں کو غزنی لے جا کر فروخت کر دیا بقول مؤرخین اسے خواجہ جمال الدین بصری نے خریداخواجہ صاحب نیک فطرت انسان تھے انہوں نے ان غلاموں کو اپنی اولاد کی طرح پالا جب یہ جوان ہوئے تو وہ انہیں دہلی لائے جہاں1232ء میں سلطان شمس الدین التمش نے انہیں خریدلیا۔
اس کی عملی زندگی کا آغاز سقا ( ماشکی )کی حیثیت سے ہوا تاہم جلد ہی وہ سلطان کا مقرب خاص بن گیا