محمد مجیب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
محمد مجیب
معلومات شخصیت
پیدائش 1902
لکھنؤ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 1985 (بہ عمر 83)
نئی دہلی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مدفن جامعہ ملیہ اسلامیہ،  دہلی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ اوکسفرڈ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ مصنف
ماہر تعلیم
ماہر محقق
وجہ شہرت جامعہ ملیہ اسلامیہ
اعزازات
پدم بھوشن

محمد مجیب (پیدائش: 30 اکتوبر 1902ء— وفات: 20 جنوری1985ء) انگریزی اور اردو ادب کے بھارتی مصنف، ماہر تعلیم، ماہر محقق اور جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی کے نائب امیر جامعہ تھے۔[1][2]

ابتدائی زندگی اور تعلیم[ترمیم]

مجیب 1902ء میں پیدا ہوئے۔[3] ان کے والد محمد نسیم لکھنؤ کے ایک متمول بیرسٹر تھے۔ ان کے بڑے بھائی پروفیسر محمد حبیب تھے۔

مجیب نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے تاریخ کی تعلیم حاصل کی جہاں ذاکر حسین، جو آگے چل کر بھارت کے صدر جمہوریہ بنے تھے، ان کے ساتھی تھے۔[4] اس کے بعد وہ آگے چھپوائی کی تربیت جرمنی میں پوری کر کے بھارت لوٹے تھے۔ 1926ء میں وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کا حصہ بنے۔ وہ اس تدریسی عملے کے رکن رہے جس میں ذاکر حسین اور عابد حسین شامل تھے۔[5]

کریئر[ترمیم]

مجیب جامعہ ملیہ اسلامیہ کے نائب امیر جامعہ 1948ء میں بنے۔ وہ اس ادارے کی خدمت 47 سال تک کرتے رہے جو 1973ء میں ان کی سبک دوشی تک جاری رہی۔ اس وقت کے دوران اس ادارے کو ڈیمڈ یونیورسٹی کا درجہ حاصل ہوا تھا۔

وہ اردو ادب کے ماہر محقق تھے اور بھارت کی مابعد آزادی ثقافتی ورثے کے تعلیمی نمائندے تھے۔[1]

تعلیمی میدان میں سرگرمی[ترمیم]

مجیب کئی اردو اور انگریزی کتب کو چھپوائے تھے۔ ان میں کچھ اہم کے نام اس طرح ہیں (انگریزی):World History: Our Heritage,[6] Education and Traditional Values,[7] Social Reform Among Indian Muslims,[8] The Indian Muslims,[9] Islamic Influence on Indian Society[10] اور Dr. Zakir Husain: a biography[11]

انعامات[ترمیم]

انہیں دنیائے ادب و تعلیم میں زبردست تعاون دینے کی وجہ سے حکومت ہند کی طرف سے 1965ء میں پدم بھوشن کا اعزاز دیا گیا تھا۔[12]

انتقال[ترمیم]

مجیب کا انتقال 1985ء میں بہ عمر 83 سال ہوا۔[13]

یادگار[ترمیم]

جامعہ ملیہ اسلامیہ نے سالانہ تقریر، پروفیسر محمد مجیب میموریل لیکچر قائم کیا۔ یہ مجیب کی یاد اور ان کے اعزاز میں کیا گیا۔[14]

منتخب کتابیات[ترمیم]

انگریزی[ترمیم]

  • Mohammad Mujeeb۔ A Glimpse of New China۔ Maktaba Jamia۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  • Mohammad Mujeeb۔ Ordeal 1857: A Historical Play۔ Asia Publishing House۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  • Mohammad Mujeeb۔ World history, our heritage۔ Asia Pub. House۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  • Mohammad Mujeeb۔ Education and Traditional Values۔ Meenakshi Prakashan۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  • Mohammad Mujeeb۔ Social Reform Among Indian Muslims۔ Delhi School of Social Work, University of Delhi۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  • Mohammad Mujeeb۔ Akbar۔ National Council of Educational Research and Training۔ آئی ایس بی این 978-0-88253-350-6۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  • Mohammad Mujeeb۔ Ghalib۔ Sahitya Akademi۔ آئی ایس بی این 978-81-7201-708-8۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  • Mohammad Mujeeb۔ Dr. Zakir Husain: a biography۔ National Book Trust, India; [chief stockists in India: India Book House, Bombay۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  • Mohammad Mujeeb۔ Islamic Influence on Indian Society۔ Meenakshi Prakashan۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  • Mohammad Mujeeb۔ The Indian Muslims۔ Munshiram Manoharlal۔ آئی ایس بی این 978-81-215-0027-2۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  • Mohammad Mujeeb؛ Akhtarul Wasey؛ Farḥat Iḥsās (Z̲ākir Ḥusain Insṭīṭiyūṭ āf Islāmik Isṭaḍīz)۔ Education, literature, and Islam: writings by Mohammad Mujeeb۔ Shipra Publications۔ آئی ایس بی این 978-81-7541-395-5۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  • Mohammad Mujeeb۔ Three Plays by M. Mujeeb۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔

اردو[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب Sean Oliver-Dee۔ Muslim Minorities and Citizenship: Authority, Islamic Communities and Shari'a Law۔ I.B.Tauris۔ صفحات 124–۔ آئی ایس بی این 978-1-84885-388-1۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  2. Yasmin Khan۔ The Great Partition: The Making of India and Pakistan۔ Yale University Press۔ صفحات 21–۔ آئی ایس بی این 0-300-12078-8۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  3. Shan Muhammad۔ Education and Politics: From Sir Syed to the Present Day : the Aligarh School۔ APH Publishing۔ صفحات 88–۔ آئی ایس بی این 978-81-7648-275-2۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  4. "Bapu's effort to get allowance for Prof Mujeeb"۔ Urdu Figures۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 جولا‎ئی 2016۔
  5. "Prof Mohammad Mujeeb"۔ Jamia Millia Islamia۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 جولائی 2016۔
  6. Mohammad Mujeeb۔ World history, our heritage۔ Asia Pub. House۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  7. Mohammad Mujeeb۔ Education and Traditional Values۔ Meenakshi Prakashan۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  8. Mohammad Mujeeb۔ Social Reform Among Indian Muslims۔ Delhi School of Social Work, University of Delhi۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  9. Mohammad Mujeeb۔ The Indian Muslims۔ Munshiram Manoharlal۔ آئی ایس بی این 978-81-215-0027-2۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  10. Mohammad Mujeeb۔ Islamic Influence on Indian Society۔ Meenakshi Prakashan۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  11. Mohammad Mujeeb۔ Dr. Zakir Husain: a biography۔ National Book Trust, India; [chief stockists in India: India Book House, Bombay۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  12. "Padma Awards" (پی‌ڈی‌ایف)۔ Ministry of Home Affairs, Government of India۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 جنوری 2016۔
  13. "Mujeeb, M. (Mohammad) 1902-1985"۔ WorldCat۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 جولائی 2016۔
  14. "Professor Mohammad Mujeeb Memorial Lecture"۔ Jamia Millia Islamia۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 جولائی 2016۔

بیرونی روابط[ترمیم]