سید مناظر احسن گیلانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سید مناظر احسن گیلانی
معلومات شخصیت
پیدائش 1 اکتوبر 1892  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
پٹنہ ضلع  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ وفات 5 جون 1956 (64 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی دار العلوم دیوبند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ مصنف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل اسلامیات  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

مولانا سید مناظر احسن گیلانی (پیدائش: یکم اکتوبر 1892ء— وفات: 5 جون 1956ء) برطانوی ہند کے مشہور عالم دین، مقرر اور مفسر قرآن تھے۔

ولادت[ترمیم]

مولانا مناظر احسن گیلانی استھانواں ،پٹنہ ضلع، بہار میں یکم اکتوبر، 1829ء بہ مطابق9ربیع الاول 1310ھ کو پیدا ہوئے۔

تعلیم و تربیت[ترمیم]

مناظر احسن گیلانی نے اپنی نشو و نما کا بڑا حصّہ دادھیال ”گیلانی “ میں گزرا، آپ کا خاندان خالص دینی و مذہبی تھا۔ آپ نے قرآن، اردو، فارسی نحو و صرف ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں گیلانی میں مکمل کی۔ 1324ھ بمطابق 1906ء سے 1331ھ بمطابق 1913ء تک مدرسہ خلیلیہ ٹونک (راجستھان) میں مختلف علوم و فنون منطق، فقہ، ادب اور ہیئت و ریاضی کی کتابیں پڑھیں۔ 1331ھ میں ایشیا کی عظیم اسلامی درسگاہ دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لیا اور ماہرین علوم و فنون سے بھر پور استفادہ کیا،جن میں سرِ فہرست شیخ الہند مولانا محمود الحسن، علامہ انور شاہ کشمیری، علامہ شبیر احمد عثمانی، شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی وغیرہ شامل ہیں۔

خدمات علمی[ترمیم]

1334ھ میں دار العلوم دیوبند میں تقرر ہوا اور خصوصی طور پر دار العلوم کے دو ماہ نامے ”القاسم “ اور ”الرشید“ کی ادارت آپ کے سپرد کی گئی ۔1338ھ کوعثمانیہ یونیور سٹی حیدرآباد میں شعبہ دینیات کے استاد مقرر ہوئے اور 1949ء میں اس شعبے کے صدر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔

خصوصیات گیلانی[ترمیم]

یوں تو مولانا گیلانی میں تمام دینی خصوصیات و کمالات بہ درجہ اتم موجود تھیں ِ اور انہوں نے اپنے پیش رو اکابر و مشائخ کی طرح قرآن و حدیث، فقہ و اصولِ فقہ، تزکیہ و تصوف، خطابت و سیاست کے میدانوں کی شہ سواری کی لیکن ساتھ ہی ادبی میدان میں بھی مولانا گیلانی نے اپنے قلم سے بے شمار درِ نایاب بکھیرے ہیں۔ کہیں نئی نئی اصطلاحات، تو کہیں انوکھے و البیلے طرز و انداز، کبھی خطابت کی گرمی میں ڈوبی صحافت، تو کبھی تصوّف کی مستی و وارفتگی لٹاتی تحریریں۔ اردو ادب کی کئی صنفوں کو مولانا گیلانی نے نئے اور عمدہ تجربات سے روشناش کرایااور اردوادب کے دامن کو مزید حسن و وسعت عطا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ مولانا عبد الماجد دریابادی نے مولانا گیلانی کو خاص طرزِ انشا کا مالک و موجد قرار دیا ۔[1]

وفات[ترمیم]

ملازمت سے سبک دوشی کے بعد 25 شوال 1375ھ بمطابق 5 جون 1956ء کو انتقال ہو گیا۔

تالیفات[ترمیم]

تصنیف وتالیف کے لحاظ سے وہ عصر حاضر کے عظیم مصنفین میں شمار کیے جانے کے مستحق ہیں۔ انہوں نے اپنی کتابوں میں جو مواد جمع کیا ہے، وہ بیسیوں آدمیوں کو مصنف اور محقق بناسکتا ہے۔ اس ایک آدمی نے تن تنہا وہ کام کیا ہے جو یورپ میں پورے پورے ادارے اور منظّم جماعتیں کرتیں ہیں ۔ مولانا کی چند کتابوں کے نام:

  • سوانح ِ قاسمی(3جلدیں) ،
  • ہزار سال پہلے
  • احاطہ دار العلوم میں بیتے ہوئے دن
  • اسلامی معاشیات
  • ہندوستان میں مسلمانوں کا نظامِ تعلیم و تربیت (2 جلدیں)
  • اما م ابو حنیفہ کی سیاسی زندگی۔
  • تدوین حدیث۔* تدوین قرآن۔
  • النبی الخاتم۔
  • دربار نبوت کی حاضری۔
  • مسلمانوں کی فرقہ بندیوں کا افسانہ
  • عبقات
  • مقالات احسانی[2]
  • الدین القیم
  • تدوین فقہ
  • تذکرہ شاہ ولی اللہ [3]

http://www.elmedeen.com/author-165-حضرت-علامہ-سید-مناظر-احسن-گیلانی-صاحب

حوالہ جات[ترمیم]

  1. وفیاتِ ماجدی:77
  2. دار العلوم دیوبند،ادبی شناخت نامہ ،الفرقان: نومبر، دسمبر1986
  3. مکتبہ حجاز