سید محمد عبد السمیع ندوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
حکیم مولانا سید محمد عبد السمیع حسینی ندوی ؒ[1]
پیدائش 1920
وفات 1995
رہائش اتر پردیش، بھارت

"حکیم مولانا سید محمد عبد السمیع حسینی ندوی قاسمی" صاحب زیادہ تر اپنا نام "محمد عبد السمیع ندوی" لکھتے تھے۔ آپ کے والد سید محمد عبدالحی شدھی و ارتداد کے خلاف میدان عمل میں اترنے والی پہلی جماعت جمعیت مرکزیہ تبلیغ الاسلام کے معتمد تبلیغ تھے، جس کی بنیاد 1923 کو انبالہ میں سید غلام بھیک نیرنگ نے رکھی تھی.

  • ڈاکٹر ہارون رشید صدیقی ناظر معہد دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ اپنے مضمون میں عبدالسمیع صاحب کے بارے میں لکھتے ہیں کہ
بعض لوگوں کے نزدیک نوافل و اذکار کسی کی بڑائ کا معیار ہوتے ہیں، اس میں شک نہیں کہ جو نوافل کا پابند ہو گا وہ فرائض کا بدرجہ اولی پابند ہو گا، لیکن اس کے خلاف بھی مشاہدہ ہوتا رہا ہے کہ بعض لوگ نوافل کا تو بڑا اہتمام کرتے ہیں لیکن جو ذمہ داری اجرت پر قبول فرماتے ہیں اس میں کوتاہی کرتے ہیں یہ بات بڑے ہی عیب کی ہے، اللہ کا شکر ہے کہ مولانا میں اس قسم کی کوتاہیاں نہ تھیں، وہ اپنی ذمہ داریاں کما حقہ پوری فرماتے، ساتھ میں نوافل و تطوعات بھی اپنائے رہتے.

خاندان و نسب[ترمیم]

محمد عبد السمیع ندوی ؒ بن سید محمد عبدالحی بن لیاقت حسین ؒ بن جمال علی ؒ بن کرم علی ؒ بن رحمت اللہ ؒ بن شاہ صبغۃ اللہ ؒ بن مخدوم جہانیاں ثالث ؒ بن شاہ محمد فیروز عرف پوجے بن حضرت شاہ جلال ؒ بن شاہ حسین ثانی بن حضرت قطب الدین ثانی ؒ بن شاہ علاء الدین ؒ (عرف شاہ حسین) بن مورث اعلیٰ حضرت مخدوم قطب الدین سالار بندگی بڈھ رحمۃ اللّٰہ علیہ۔

بیعت و ارادت[ترمیم]

مولانا سید محمد عبد السمیع ندوی [2] لکھنؤ سے متصل قصبہ "بجنور" کے بزرگ محمد شفیع بجنوری [3] سے بیعت تھے اور محمد شفیع بجنوریصاحب، محدث مولانا فضل رحمن گنج مراد آبادی سے تربیت یافتہ و حاجی امداد اللہ مہاجر مکی سے بیعت و مجاز تھے.

تعلیم[ترمیم]

ابتدائی تعلیم مدرسہ دارالارشاد قصبہ کوڑہ جہان آباد ، ضلع فتح پور میں حاصل کی، 1930ء میں دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں داخل ہوئے اور 1939ء میں دار العلوم ندوۃ العلماء سے فارغ ہو کر اُسی سال مزید تعلیم کے لیے دارالعلوم دیوبند چلے گئے، وہاں 1944ء تک تعلیم حاصل کی، دارالعلوم دیوبند کے دارالحدیث میں انگریزوں کے خلاف تقریر کی جس کی وجہ سے سی آئ ڈی آفس میں فائل گھل گئی، پولیس نے گرفتار کرنا چاہا تو دیوبند سے چل دیے اور مختلف شہر ہوتے ہوئے کانپور پہچے.

  • مولانا محمد رابع حسنی ندوی اپنی کتاب یادوں کے چراغ حصہ اول صفحہ ٣٣٩ میں آپ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ
مولانا نے ندوہ کے بعد دیوبند میں تعلیمی زمانہ گزارا، غالبا اس زمانے میں مہتمم دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب کے پیچھے بار بار نمازیں پڑھی ہونگی چنانچہ انکا لحن ان کے زہن میں رچ بس گیا تھا جس کا اثر ان کی قرات سے ظاہر ہوتا تھا، حتا کہ بعض وقت لوگوں کو شبہ ہو جاتا تھا کہ قاری طیب صاحب نماز پڑھا رہے ہیں.[4]

رفقا[ترمیم]

ویسے تو آپ کے رفقا کی فہرست بڑی ہے مگر یہ حضرات آپ کے تعلیم کے دوران سے لے کر تا حیات آپ کے بلا تکلف رفقا میں شامل ہیں.

  • مولانا سید محمد الحسنی
  • مولانا سید محمد ثانی الحسنی (متوفی - فروری 1982ء)
  • مولانا سید محمد مرتضی نقوی مظاہری بستوی (متوفی - نومبر 1995ء)
  • مولانا قاضی معین اللہ ندوی (متوفی - اگست 1999ء)

اساتذہ[ترمیم]

آپ نے جن اساتذہ سے تعلیم حاصل کی ان میں سے چند مشہور اساتذہ یہ ہیں-

کلکتہ میں طبابت[ترمیم]

کلکتہ کے مشہور طبیب حکیم سمیع اللہ میکش انصاری جب سابق مشرقی پاکستان منتقل ہونے لگے تو انہوں نے اپنی موجودگی میں سید محمد عبدالسمیع صاحب کو اپنے "دیسی دواخانہ" (واقع بولائ دت اسٹریٹ کلکتہ) کا ذمہ دار بنایا اور مالکانہ حقوق اپنے داماد حکیم محمد عبدالوحید کو دیدئے. سید محمد عبدالسمیع صاحب قریب دو سال 1954ء تا 1955ء اس مطب میں طبابت کرتے رہے. کلکتہ کی ہوا راس نہ آئ اس لیے کلکتہ کو خیراباد کہ کر کانپور واپس چلے آئے، آپ کا کلکتہ کا یہ دو سال کا قیام اور وہاں کے لوگوں سے شاسنائ بعد میں ندوہ کے لیے مالیات کی فراہمی کے لیے بڑی کار آمد ثابت ہوئ.

شہرت اور نام و نمود کی خواہش انسان کی ایک ایسی فطری کمزوری ہے جس سے شائد ہی کوئ شخص محفوظ ہو، تا ہم یہ دنیا ایسے افراد سے کبھی خالی نہیں رہی ہے جو دنیا کی حرص و ہوس سے بے نیاز اور کسی صلہ کی خواہش یا ستائش کی تمنا کے بغیر ایسے مشاغل میں لگے رہتے ہیں جو اہل دنیا کی نگاہ میں کسی خاص اہمیت کے حامل نہیں ہوتے اور نہ ان کے نزدیک لائق اعتناء و باعث کشش اور لائق تحسین ہوتے ہیں، ایسے لوگ قناعت پسندی کے باوجود بڑی پر سکون زندگی بسر کرتے ہیں، اور ہر کام میں اللہ تعالی کی خوشنودی اور رضا ان کا مقصد حیات ہوتا ہے. ایسے ہی لوگوں میں حکیم مولانا محمد عبدالسمیع صاحب ندوی بھی تھے، مولانا ایک اچھے عالم دین ہونے کے ساتھ ہی ایک اچھے حکیم بھی تھے، دارالعلوم سے منسلک ہونے کے بعد اس فن کو بطور پیشہ کبھی نہیں استعمال کیا بلکہ دوست احباب اور ضرورت مندوں کو نسخے بلا معاوضہ کے لکھ کر دیا کرتے تھے.

دار العلوم ندوۃ العلماء میں تقرری[ترمیم]

اکتوبر 1956ء میں دار العلوم ندوۃ العلماء کے مکتبہ"الجمعیۃ التعاونیہ" میں بحیثیت منیجر تقرر ہوا، چونکہ اس وقت تک ندوہ کے اس مکتبہ کا کام بڑا محدود تھا، اس لیے چند گھنٹے دار العلوم ندوۃ العلماء میں عربی تعلیم دینے کے لیے بھی لگا دئے گئے، جب 1958ء میں دار العلوم ندوۃ العلماء میں شعبہ تعمیر وترقی کا قیام عمل میں آیا، تو مولانا قاضی معین اللہ ندوی کو اس کا ناظر اور سید محمد عبدالسمیع صاحب کو انکا معاون مقرر کیا گیا، شعبہ کے قیام کا اصل مقصد مالیات کی فراہمی، عمومی رابطہ و تعارف اور تعمیری امور کی نگرانی کرنا تھا، اس لیے آگے چل کر مکتبہ کو بھی شعبہ کے زیر انتظام کر دیا گیا، شعبہ نے عربی پریس بھی لگایا، جس میں ندوہ کے عربی ترجمان ماہنامہ "البعث السلامی" اور پندرہ روزہ الرائد" چھپ کر شائع ہونے لگے، پھر نومبر 1963ء میں عمومی رابطہ کے لیے ایک اردو کا پندرہ روزہ "تعمیر حیات"[6] بھی شعبہ کے زیر نگرانی جاری کیا گیا۔ عبدالسمیع صاحب کچھ عرصہ رواق سلیمانی کے نگراں بھی رہے.

تاثرات[ترمیم]

  • مولانا محمد رابع حسنی ندوی اپنی کتاب یادوں کے چراغ حصہ اول صفحہ ٣٣٨ و ٣٣٩ میں آپ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ
مولانا مرحوم نرم خو اور خوش اخلاقی کی صفات کے حامل تھے، سب سے اخلاق و ہمدردی سے پیش آتے، وہ با وقار طبعیت کے آدمی تھے لیکن ان کا وقار دوسروں پر بار نہیں ہوتا تھا بلکہ وہ برادرانہ دائرہ میں رہتا تھا، ان میں انتظامی صلاحیت بھی تھی، چنانچہ ندوہ کے انتظامی دائرہ میں بھی بعض کام ان کے سپرد کئے جاتے تھے. خاص طور پر جن کاموں کا مزاج علمی ہوتا، کچھ عرصہ وہ رواق سلیمانی کے نگراں بھی رہے، مجلس انتظامی ندوۃ العلماء کے مشاورتی جلسوں کی تیاری کے موقع کے بعض کام ان کے سپرد کیے جاتے تھے، وہ ندوہ کی نصابی کتابوں کی اشاعت کی فکر کرتے تھے، اور ان کے نئے ایڈیشنوں کی ضرورت محسوس کر کے اشاعت کی تجویز کرنے کا کام بھی انجام دیتے. ندوہ کے لئے حصول تعاون کے لئے جو حضرات بھیجے جاتے ان کے سلسلہ کے امور میں متعلقہ حضرات کے مشوروں، پھر ناظم صاحب کی اجازت پر ان کے پروگرام کو طے کرنے اور بھیجنے کے کاموں میں ان کی ذمہ داری ہوتی.
مولانا سید محمد عبدالسمیع صاحب ندوی ندوہ کے ایک لائق فرزند تھے، ان کی ایک خوش نصیبی یہ بھی تھی کہ ایک طویل عرصہ تک انہیں ندوہ کی خدمت کا موقع ملا، واقف لوگ جانتے ہیں کہ مولانا کی یہ خادمانہ حیثیت محض رسمی اور خانہ پوری کی نہیں تھی بلکہ جذبہ دروں کی تسکین کا سامان تھی، ندوہ کی تحریک کو وقت کی ضرورت سمجھتے تھے اس کی فکر کی نشر و اشاعت اور اور تبلیغ و تدریج کو اہم ترین خدمت سمجھتے تھے جنانچہ وہ اپنے مفوضہ کام کو پوری لگن، تندہی اور ذوق و شوق سے کرتے تھے. دوفتری اوقات کے علاوہ بھی وہ اس کی فکر و تدبیر میں غلطاں رہتے.

تحریر و تصنیف[ترمیم]

  • "تاریخ و شخصیات قصبہ کورا جہان آباد" مطبوعہ ندوی منزل لکھنؤ.
  • "عالم برزخ"[7] (ابن قیم الجوزی کی کتاب الروح کے چند ابواب کا خلاصہ) مطبوعہ دارالحسنات سہسوان بدایوں.
  • "بابری مسجد غیر مسلم دانشوروں کی نظر میں" مطبوعہ جمعیت مرکزیہ تبلیغ الاسلام کانپور.
  • جمعیت مرکزیہ تبلیغ الاسلام کی طرف سے دعوت و تبلیغی مقاصد کے پیش نظر نکلنے والے "ماہنامہ محکمات" کا اجرا آپ ہی نے کرایا تھا اور آپ ہی "ماہنامہ محکمات" کے "ایڈیٹر" تھے.
  • دار العلوم ندوۃ العلماء سے نکلے والے "پندرہ روزہ تعمیر حیات" میں "کوائف دار العلوم" کے نام کا کالم آپ ہی کے ذمہ تھا جس میں آپ دار العلوم ندوۃ العلماء کے تعارف و خدمات کے بارے میں لکھا کرتے تھے.
  • دار العلوم ندوۃ العلماء میں طالب علمی کے زمانے میں قلمی ماہنامہ "نقاش" کے نام سے نکالتے تھے.

وفات[ترمیم]

28 دسمبر 1995ء و ١٤١٦ھ میں آپ اس دنیا سے رخصت ہو گئے،

مولوی عبدالسمیع صاحب مرحوم شعبہ "تعمیر و ترقی" دار العلوم ندوۃ العلماء کے "نائب ناظر" تھے اور نائب ناظم دار العلوم ندوۃ العلماء مولوی قاضی معین اللہ صاحب کے خاص معاونین و معتمدین میں تھے، راقم سطور ان کی وفات سے چند ہی گھنٹے پہلے رابطہ کے اجلاس سالانہ میں شرکت کے لیے حجاز روانہ ہو گیا، اس کی روانگی کے بعد ان کی وفات کا حادثہ پیش آیا، اللہ تعالی مغفرت فرمائے اور درجات بلند کرے.[8]

حوالہ جات[ترمیم]