براہوی زبان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Brahui
براہوئی
Bráhuí
مستعمل
نسلیت براہوئی
واطن مکلمین 2.2 ملین  (1998)
خاندانہائے زبان
نظام کتابت Perso-Arabic, لاطینی
سرکاری حیثیت
نظمیت از براہوی زبان بورڈ پاکستان، کاپ
رموزِ زبان
آیزو 639-3 brh
Dravidische Sprachen.png

براہوئی ایک قدیم ترین زبان ہے، ہر نئے سیکھنے والے کے لیے یہ زبان بہت مشکل ثابت ہوتی ہے، برطانیہ دور میں انگریزوں نے برصغیر کی تقریباً زبانیں سیکھ لیں لیکن جب براہوئی زبان کے بارے کسی انگریز سے پوچھا گیا تو اسنے ایک ٹین کے ڈبے میں کچھ کنکریاں ڈال کر ہلانا شروع کیا اور اس سے جو آواز نکلی اُس نے کہا کہ براہوئی زبان کی مثال ایسی ہے، یہ زبان بہت وسیع علاقے میں بولی جاتی ہے، کوئٹہ سے لیکر ایران کے بارڈر تک اور حب چوکی تک یہ زبان بولی جاتی ہے، جیسے یہ زبان جتنے بڑے علاقہ میں بولی جاتی ہے اسی طرح یہ اتنی ہی غیر معروف ہے، کراچی کی طرف حب چوکی کے بعد کوئی اس زبان کے بارے کچھ نہیں جانتا۔

ان مفروضوں سے ہٹ کر براہوئی زبان پر انگریزمستشرقین نے ابتدائی اور بہت اہم کام کیا ہے۔

براہوئی زبان پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاوہ افغانستان اور ایران کے کئی علاقوں میں بولی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے صوبہ سندھ میں بھی براہوئی بولنے والوں کی کثیر تعداد موجود ہے۔ سندھ میں رہنے والے براہوئی خود کو "'بروہی"' جبکہ بلوچستان ، افغانستان اور ایران میں براہوئی بولنے والے بلوچ کہلاتے ہیں۔

تاریخ[ترمیم]

ماہرین لسانیات براہوئی زبان کی نسبت دراوڑی زبان کی طرف کرتے ہیں-اگرچہ دراوڑی زبان پاک و ہند کے وسیع رقبے میں بولی جاتی ہے- مگر ایسے تاریخی شواہد ملے ہیں جن سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہی کہ یہ زبان صرف برصغیر پاک و ہند تک ہی محدود نہیں تھی جیسا کہ‘ دراوڑی زبانیں ‘ (مطبوعہ روس) کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ ان زبانوں کی جڑیں اورالی آلتانی زبانوں تک پھیلی ہوی ہیں۔اور فن لینڈ کی زبان پر پاے جاتے ہیں۔ دراوڑی زبان کی انیس بولیاں ہیں جن میں سے ایک براہوئی ہے، تقریباً پانچ لاکھ افراد یہ زبان بولتے ہیں۔بعض علمائے لغت کا خیال ہے کہ براہوئی زبان فارسی اور ہندی سے مماثلت رکھتی ہے۔ جبکہ بعض یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ براہوئی زبان دراوڑی زبان سے بھی زیادہ قدیم ہے

براہوئی زبان کا لسانی خاندان[ترمیم]

براہوئی زبان کے لسانی خاندان کے حوالے سے محققین منقسم ہیں۔ اس حوالے سے تین نظریئے سامنے آتے ہیں۔

-1 دراوڑی نظریہ

-2 انڈو یورپی یا ہند آریائی نظریہ

-3 تورانی یا الطائی نظریہ

اول الذکر نظریئے کے خالق انگریز اور غیر زبان مستشرقین ہیں۔ ان میں ڈاکٹر ارنسٹ ٹرمپ، بشپ کالڈویل، گرائرسن، ڈینس برے جولز بلاخ، ایم بی ایمینو، ٹی برو، ایم ایس انڈروف، ذویلیبل ہیں۔ اس نظریئے کے ماہرلسانیات براہوئی زبان کو دراوڑی خاندان سے گردانتے ہیں۔ براہوئی بولنے والے ماہر لسانیات کے مطابق براہوئی زبان انڈو یورپی یا ہند آریائی خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ ان ماہر لسانیات میں میر گل خان نصیر، میر عاقل خان مینگل، پروفیسر عبداللہ جمالدینی، پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر، اثیر عبدالقادر شاہوانی، آغا نصیر احمد خان احمد زئی کا نام آتا ہے۔ براہوئی زبان کے خاندان کے حوالے سے تیسرا نظریہ تورانی یا الطائی نظریہ آغا نصیر احمد خان احمد زئی نے متعارف کرایا ہے۔ اس حوالے سے ان کے علاوہ کوئی بھی اس پر متفق نہیں ہے۔

رسائل[ترمیم]

تلار[ترمیم]

براہوئی زبان میں فی الوقت کئی رسالے و جرائد شائع ہو رہے ہیں۔ لیکن تلار کے نام سے ایک ہفت روزہ دس سال سے مکمل تسلسل کے ساتھ شائع ہو رہا ہے۔ موجودہ دور میں تلار واحد معیاری اور زبان و ادب کا ترجمان جریدہ ہے۔

براہوئی زبان میں پوری دنیا سے اولین اور واحد روزنامہ بھی تلار ہی کے نام سے شائع ہو رہا ہے۔

حروف تہجی[1][ترمیم]

b á p í s y ş v x e z ź ģ f ú m n l g c t ŧ r ŕ d o ð h j k a i u ń ļ

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ https://sites.google.com/site/brahuilb/home