فن لینڈ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
  
فن لینڈ
(چیک میں: Finská republika خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں باضابطہ نام (P1448) ویکی ڈیٹا پر
فن لینڈ
پرچم
فن لینڈ
نشان

EU-Finland.svg 

ترانہ:
زمین و آبادی
متناسقات 65°N 27°E / 65°N 27°E / 65; 27  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں متناسقاتی مقام (P625) ویکی ڈیٹا پر[1]
پست مقام بحیرہ بالٹک (0 میٹر)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پست ترین مقام (P1589) ویکی ڈیٹا پر
رقبہ 338424.38 مربع کلومیٹر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رقبہ (P2046) ویکی ڈیٹا پر
دارالحکومت ہلسنکی[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں دارالحکومت (P36) ویکی ڈیٹا پر
سرکاری زبان فنش زبان[3]،  سونسکا[3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سرکاری زبان (P37) ویکی ڈیٹا پر
آبادی 5501043 (30 ستمبر 2016)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آبادی (P1082) ویکی ڈیٹا پر
اوسط عمر
77.29122 سال (1999)[4]
77.46585 سال (2000)[4]
77.96585 سال (2001)[4]
78.11951 سال (2002)[4]
78.36829 سال (2003)[4]
78.71463 سال (2004)[4]
78.81707 سال (2005)[4]
79.21463 سال (2006)[4]
79.26341 سال (2007)[4]
79.56829 سال (2008)[4]
79.71951 سال (2009)[4]
79.87073 سال (2010)[4]
80.47073 سال (2011)[4]
80.62683 سال (2012)[4]
80.97561 سال (2013)[4]
81.18049 سال (2014)[4]
81.48049 سال (2015)[4]
81.78049 سال (2016)[4]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اوسط عمر (P2250) ویکی ڈیٹا پر
حکمران
قیام اور اقتدار
تاریخ
یوم تاسیس 1917  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاسیس (P571) ویکی ڈیٹا پر
عمر کی حدبندیاں
شادی کی کم از کم عمر 18 سال  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شادی کی کم از کم عمر (P3000) ویکی ڈیٹا پر
لازمی تعلیم (کم از کم عمر) 7 سال  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں لازمی تعلم (کم از کم عمر) (P3270) ویکی ڈیٹا پر
لازمی تعلیم (زیادہ سے زیادہ عمر) 15 سال  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں لازمی تعلیم (زیادہ سے زیادہ عمر) (P3271) ویکی ڈیٹا پر
الحاق اور رکنیت
Flag of Europe.svg یورپی اتحاد (1 جنوری 1995–)
Flag of the United Nations.svg اقوام متحدہ (14 دسمبر 1955–)
انجمن اقتصادی تعاون و ترقی (1969–)
Flag of Europe.svg یورپی کونسل (5 مئی 1989–)
یورپی خلائی ایجنسی (1969–)
عالمی تجارتی ادارہ (1 جنوری 1995–)
بین الاقوامی بنک برائے تعمیر و ترقی (14 جنوری 1948–)
بین الاقوامی انجمن برائے ترقی (29 دسمبر 1960–)
بین الاقوامی مالیاتی شرکت (20 جولا‎ئی 1956–)
کثیرالفریق گماشتگی برائے ضمانت سرمایہ کاری (28 دسمبر 1988–)
بین الاقوامی مرکز برائےتصفیہ تنازعات سرمایہ کاری (8 فروری 1969–)
افریقی ترقیاتی بینک
ایشیائی ترقیاتی بینک (1966–)
انٹرپول[5]
تنظیم برائے ممانعت کیمیائی ہتھیار[6]
بین الاقوامی آب نگاری تنظیم[7]
Flag of UNESCO.svg یونیسکو (10 اکتوبر 1956–)[8]
Flag of UPU.svg عالمی ڈاک اتحاد[9]
عالمی بعید ابلاغیاتی اتحاد (1 ستمبر 1920–)[10]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رکن (P463) ویکی ڈیٹا پر
مشترکہ سرحدیں
سویڈن (Finland–Sweden border)
ناروے (Finland–Norway border)
روس (Finland–Russia border)
سوویت اتحاد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مشترکہ سرحدیں (P47) ویکی ڈیٹا پر
خام ملکی پیداوار
 ← کل
251884887972.766 امریکی ڈالر (2017)[11]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں فی کس جی ڈی پی (P2131) ویکی ڈیٹا پر
 ← فی کس 18149.458 بین الاقوامی ڈالر (1990)[12]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں PPP GDP per capita (P2299) ویکی ڈیٹا پر
جی ڈی پی تخمینہ
 ← فی کس 1179 امریکی ڈالر (1960)[13]
1327 امریکی ڈالر (1961)[13]
1411 امریکی ڈالر (1962)[13]
1522 امریکی ڈالر (1963)[13]
1707 امریکی ڈالر (1964)[13]
1882 امریکی ڈالر (1965)[13]
2010 امریکی ڈالر (1966)[13]
2034 امریکی ڈالر (1967)[13]
1907 امریکی ڈالر (1968)[13]
2178 امریکی ڈالر (1969)[13]
2467 امریکی ڈالر (1970)[13]
2718 امریکی ڈالر (1971)[13]
3180 امریکی ڈالر (1972)[13]
4176 امریکی ڈالر (1973)[13]
5301 امریکی ڈالر (1974)[13]
6260 امریکی ڈالر (1975)[13]
6744 امریکی ڈالر (1976)[13]
7074 امریکی ڈالر (1977)[13]
7634 امریکی ڈالر (1978)[13]
9339 امریکی ڈالر (1979)[13]
11232 امریکی ڈالر (1980)[13]
10934 امریکی ڈالر (1981)[13]
10945 امریکی ڈالر (1982)[13]
10505 امریکی ڈالر (1983)[13]
10841 امریکی ڈالر (1984)[13]
11405 امریکی ڈالر (1985)[13]
14962 امریکی ڈالر (1986)[13]
18580 امریکی ڈالر (1987)[13]
22056 امریکی ڈالر (1988)[13]
23983 امریکی ڈالر (1989)[13]
28380 امریکی ڈالر (1990)[13]
25503 امریکی ڈالر (1991)[13]
22337 امریکی ڈالر (1992)[13]
17617 امریکی ڈالر (1993)[13]
20305 امریکی ڈالر (1994)[13]
26273 امریکی ڈالر (1995)[13]
25777 امریکی ڈالر (1996)[13]
24676 امریکی ڈالر (1997)[13]
25989 امریکی ڈالر (1998)[13]
26178 امریکی ڈالر (1999)[13]
24253 امریکی ڈالر (2000)[13]
24913 امریکی ڈالر (2001)[13]
26834 امریکی ڈالر (2002)[13]
32816 امریکی ڈالر (2003)[13]
37636 امریکی ڈالر (2004)[13]
38969 امریکی ڈالر (2005)[13]
41120 امریکی ڈالر (2006)[13]
48288 امریکی ڈالر (2007)[13]
53401 امریکی ڈالر (2008)[13]
47107 امریکی ڈالر (2009)[13]
46202 امریکی ڈالر (2010)[13]
50790 امریکی ڈالر (2011)[13]
47415 امریکی ڈالر (2012)[13]
49638 امریکی ڈالر (2013)[13]
49914 امریکی ڈالر (2014)[13]
42494 امریکی ڈالر (2015)[13]
43493 امریکی ڈالر (2016)[13]
45804 امریکی ڈالر (2017)[13]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں nominal GDP per capita (P2132) ویکی ڈیٹا پر
کل ذخائر 327964400 امریکی ڈالر (1960)[14]
342971000 امریکی ڈالر (1961)[14]
304091800 امریکی ڈالر (1962)[14]
337893480 امریکی ڈالر (1963)[14]
384130412 امریکی ڈالر (1964)[14]
289463318 امریکی ڈالر (1965)[14]
188909152 امریکی ڈالر (1966)[14]
184204841 امریکی ڈالر (1967)[14]
346987405 امریکی ڈالر (1968)[14]
327209700 امریکی ڈالر (1969)[14]
455408582 امریکی ڈالر (1970)[14]
684060182 امریکی ڈالر (1971)[14]
758280979 امریکی ڈالر (1972)[14]
666703467 امریکی ڈالر (1973)[14]
749415388 امریکی ڈالر (1974)[14]
548653232 امریکی ڈالر (1975)[14]
573064058 امریکی ڈالر (1976)[14]
680322458 امریکی ڈالر (1977)[14]
1436537558 امریکی ڈالر (1978)[14]
2044853097 امریکی ڈالر (1979)[14]
2451468443 امریکی ڈالر (1980)[14]
1988162432 امریکی ڈالر (1981)[14]
2097669136 امریکی ڈالر (1982)[14]
1722253272 امریکی ڈالر (1983)[14]
3145826967 امریکی ڈالر (1984)[14]
4375152168 امریکی ڈالر (1985)[14]
2534550392 امریکی ڈالر (1986)[14]
7363946495 امریکی ڈالر (1987)[14]
7171276634 امریکی ڈالر (1988)[14]
5913980642 امریکی ڈالر (1989)[14]
10414929121 امریکی ڈالر (1990)[14]
8316763636 امریکی ڈالر (1991)[14]
5880752713 امریکی ڈالر (1992)[14]
6192945394 امریکی ڈالر (1993)[14]
11429608332 امریکی ڈالر (1994)[14]
10657228465 امریکی ڈالر (1995)[14]
7507184569 امریکی ڈالر (1996)[14]
8881026959 امریکی ڈالر (1997)[14]
10270793522 امریکی ڈالر (1998)[14]
8677454470 امریکی ڈالر (1999)[14]
8409735048 امریکی ڈالر (2000)[14]
8419384712 امریکی ڈالر (2001)[14]
9825473153 امریکی ڈالر (2002)[14]
11172948324 امریکی ڈالر (2003)[14]
12913572969 امریکی ڈالر (2004)[14]
11331633301 امریکی ڈالر (2005)[14]
7498637194 امریکی ڈالر (2006)[14]
8380475235 امریکی ڈالر (2007)[14]
8353575616 امریکی ڈالر (2008)[14]
11428834018 امریکی ڈالر (2009)[14]
9547420311 امریکی ڈالر (2010)[14]
10276064353 امریکی ڈالر (2011)[14]
11082345110 امریکی ڈالر (2012)[14]
11272358255 امریکی ڈالر (2013)[14]
10679258852 امریکی ڈالر (2014)[14]
10016274780 امریکی ڈالر (2015)[14]
10465358563 امریکی ڈالر (2016)[14]
10506846391 امریکی ڈالر (2017)[14]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کل ذخائر (P2134) ویکی ڈیٹا پر
اشاریہ انسانی ترقی
اشاریے
0.883 (2014)[15]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں انسانی ترقیاتی اشاریہ (P1081) ویکی ڈیٹا پر
شرح بے روزگاری 9 فیصد (2014)[16]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں unemployment rate (P1198) ویکی ڈیٹا پر
دیگر اعداد و شمار
کرنسی یورو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رائج سکہ (P38) ویکی ڈیٹا پر
منطقۂ وقت 00 (معیاری وقت)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منطقہ وقت (P421) ویکی ڈیٹا پر
ٹریفک سمت دائیں  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ڈرائیونگ سمت (P1622) ویکی ڈیٹا پر
ڈومین نیم fi.  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ٹی ایل ڈی (P78) ویکی ڈیٹا پر
آیزو 3166-1 الفا-2 FI  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ISO 3166-1 alpha-2 code (P297) ویکی ڈیٹا پر
بین الاقوامی فون کوڈ +358  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ملکی ڈائیلنگ کوڈ (P474) ویکی ڈیٹا پر

فن لینڈ براعظم یورپ کے شمال میں واقع ہے۔ اس کی کل آبادی 55 لاکھ ہے جن میں سے 2 لاکھ افراد غیر ملکی ہیں۔ اس کے جنوب میں خلیج فن لینڈ(سوؤمِن لاھتی)، شمال میں ناروے(نوریا)، مشرق میں روس (وینایا)اور مغرب میں سمندر اور سوئیڈن (رو ؤتسی)موجود ہیں۔

ابتدائی دور[ترمیم]

فن لینڈ میں سب سے پہلے انسان نے 7000 سال ق م میں آخری برفانی دور (Ice Age) کے بعد سے رہائش رکھنا شروع کیا۔ اس دور کے فننز(سو ؤمالائست) (فن لینڈ کے باشندے) شکاری اور گلہ بان تھے۔ مزے کی بات یہ کہ اس دور کے شکاری برف پر چلنے کے لیے درختوں کی چھال کا استعمال کرتے تھے جو موجودہ سکیینگ کی ایک شکل تھی۔ انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ رینڈیئر(برفانی ہرن)، موز(بارہ سنگھا) اور اِلک (بارہ سنگھا کی ایک ذات)گہری برف میں دھنس جاتے ہیں۔ ان کا شکار کرنے کے لیے درختوں کی چھال کا استعمال شروع ہوا۔ اگلے ہزار سال میں انسانوں کی آمد میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ 2500 سال ق م میں انہوں نے کھیتی باڑی کو اپنایا۔ 1500 سال ق م میں انہوں نے تانبے سے واقفیت پیدا کی اور اس سے ہتھیار اور آلات بنانا شروع کیے۔ تانبے کی دریافت کے ہزار سال کے بعد لوہے کا استعمال شروع ہوا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اس دور کے فننز کا اپنی ہم عصر تہذیبوں (روم اور یونان) سے کوئی خاص(قطعی) تعلق نہ تھا۔

قرونٍ وسطٰی[ترمیم]

فن لینڈ کی درج شدہ سب سے پرانی تاریخ 12 ویں صدی سے شروع ہوئی۔ 1120 میں مسیحی مشنریوں ( مبلّغوں) نے کام شروع کیا۔ اس کے لیے انہوں نے طاقت کا استعمال بھی کیا۔ سوئیڈن کے بادشاہ نے 1157 میں صلیبی جنگ میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ایک انگریز بشپ ہنری آف اُپاسالا نے بھی اس کا ساتھ دیا اور جنگ کے بعد وہ یہیں رکا اور بعد ازاں مارا گیا اور فن لینڈ کا پیٹرن سینٹ(روحانی سرپرست) بنا۔ 1172 میں فن لوگوں کو پوپ سے اجازت مل گئی کہ بیرونی جارحیت کی صورت میں وہ اپنا مذہب عارضی طور پر تبدیل کر سکتے ہیں مگر جارح افواج کی واپسی پر انہیں فوراً اپنے اصل مذہب کی طرف واپس آنا ہوگا۔ پوپ نے سوئیڈن پر زور دیا کہ وہ فن لینڈ کو اپنا حصہ بنا لیں۔

لیکن فن لینڈ سوئیڈن کے لیے لقمہ تر نہ تھا۔ یہاں کئی اور ریاستی افواج بھی حملہ آور ہوتی رہتی تھیں۔ ڈینش لوگوں کے 1191 اور 1202 میں دو بار یہاں حملہ کیا۔ اس کے علاوہ نووگراد (اب یہ علاقہ روس میں شامل ہے) نے بھی فن لینڈ پر حملہ کیا تاکہ اس پر قبضہ کر کے لوگوں کو ایسٹرن آرتھوڈکس چرچ کی طرف موڑا جاسکے۔ اس سلسلے میں سوئیڈش اور نووگراد کی افواج کے درمیان دریائے نیوا کے کنارے 1240 میں لڑائی ہوئی اور نووگراد والوں نے فتح‌حاصل کی۔ 1240 میں بریریارل) کی سربراہی میں سوئیڈن نے دوبارہ حملہ کیا اور اس دوسری صلیبی جنگ میں کامیابی حاصل کی۔ اس جنگ کے بعد سوئیڈش فوج نے ہیمے (Häme) نامی شہر بھی قبضہ کر کے وہاں قلعہ بنایا اور یہ ہیمین لِننا (Hämeenlinna) کہلایا۔

1291 میں پہلی بار ایک فن کو بشپ آف تُرکُو (Bishop of Turku)کا درجہ دیا گیا۔

اسی دوران سوئیدی لوگوں نے کثیر تعداد میں فن لینڈ میں رہائش اختیار کرنا شروع کی اور یہاں ایک لحاظ سے سوئیدی نوآبادی بننا شروع ہو گئی۔ 1323 میں فن لینڈ کو سوئیڈن کا صوبہ قرار دے دیا گیا۔ سوئیڈن کا قانون یہاں لاگو ہوا اگرچہ اس کو بھی کسی حد تک مقامی رنگ میں ڈھال دیا گیا تھا۔ 1362 تک فن لوگوں کو سوئیڈن کے بادشاہی انتخابات میں حصہ لینے کا حق مل چکا تھا۔ 1397 میں فن لینڈ یونین آف کالمار (Union of Kalmar) کا حصہ بن گیا جس میں ڈنمارک، ناروے اور سوئیڈن پہلے سے شامل تھے۔

1500 سے 1800 تک کا فن لینڈ[ترمیم]

موجودہ فن لینڈ کا دارلحکومت ہیلسنکی 1550 میں تعمیر ہوا جو فن لینڈ کا نیا دارلحکومت بنا۔ یہ شہر خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے۔ اس کو یورپ کا سب سے کم عمر دارلحکومت ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

میکائیل آگریکولا (Mikael Agricola) نے ملک میں مذہبی اصلاحات شروع کیں اور بعد ازاں 1557 کو بشپ آف تُرکُو بنا۔ اس کے مرنے کے وقت تک فن لینڈ مکمل طور سے لوتھیرین فرقے کا پیرو کار بن چکا تھا۔ میکائیل نے اپنی تعلیم جرمنی سے حاصل کی جہاں وہ لوتھیرین فرقے کے بانی سے یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرتا رہا۔

1581 میں فن لینڈ کو گرینڈ ڈچی (Grand Duchy) بنایا گیا۔

1596 اور 1597 میں فننش کسانوں نے علمٍ بغاوت بلند کیا۔ اس جنگ کو لٹھوں کی جنگ(Club War) کا نام دیا گیا کیونکہ کسانوں کے پاس ہتھیار کے نام پر صرف لاٹھیاں تھیں۔ اگرچہ طبقہ اشرافیہ (سوئیڈش) نے اس کو سختی سے کُچل دیا مگر اس سے فننش کسانوں کو کوئی فائدہ نہ ہوا اور فن لینڈ سویڈن کا “اٹوٹ انگ“ بن گیا۔

17ویں صدی کے اختتام اور 18ویں صدی کے شروع کے سال فننش لوگوں کے لیے بہت کٹھن اور سخت گزرے۔ 97-1696 میں بہت سخت قحط پڑا۔ خوراک کی کمی اور بیماریوں سے فننز کی ایک تہائی تعداد زندہ بچ سکی یعنی ہر 100 میں سے 33 انسان باقی بچے۔

1709-22 تک عظیم شمالی جنگ (Great Northern War) ہوئی۔ 1713 میں ‌روسیوں نے فن لینڈ پر حملہ کیا اور اسے بری طرح روند ڈالا۔ سوئیڈش اور فننش لوگوں کی مشترکہ فوج نے ایسو کوئیرُو (Isokyrö) نامی شہر میں روسیوں سے آخری مقابلہ کیا جس میں انہیں شکست ہوئی۔ روسیوں نے 1713 سے 1721 تک قبضہ رکھا۔ اس قبضے کے دوران ان لوگوں پر بہت ٹیکس لگائے گئے۔ سارے امیر فننش لوگ سویڈن منتقل ہو گئے لیکن بیچارے کسان کہیں کے نہ رہے۔ چارلس ہفتم نے حکم دیا کہ فننش لوگ روسی جنگ کے خلاف گیریلا جنگ شروع کریں، جس کو ہم انتقام کا نام بھی دے سکتے ہیں۔ 1721 میں امن معاہدے کے تحت چارلس ہفتم نے کو ہتھیار ڈالنے پڑے اور فن لینڈ کا مشرقی حصہ جو کاریا (Karja)(کاریا موشیوں کو کہتے ہیں) کہلاتا ہے، روس کے حوالے کرنا پڑا۔ اس علاقے کے لوگ فن لینڈ میں کاریا لائنن (Karjalainen)(مویشی چرانے والے)کہلاتے ہیں، یعنی کاریا کے علاقے کے رہنے والے۔ اسی دوران 1710 کا طاعون ہیلسنکی تک پہنچ گیا اور اس نے شہر کو ویران کر دیا۔

1741 میں پھر سے سویڈن-فن لینڈ کی روس سے جنگ چھِڑ گئی۔ اس بار بھی شکست سوئیڈش-فننش فوج کا مقدر بنی۔ اس بار مقامِ شکست وِلمان ستراند (Villmanstrand/ Lappeenranta) بنا۔ اس بار روس نے مکمل طور پر فن لینڈ پر قبضہ کر لیا لیکن اوبو (Åbo) معاہدے کے تحت 1743 میں جنگ بندی ہوئی اور سٹیٹس کو(status quo) یعنی جو جس حال میں ہے ہر چیز کو ویسے ہی چھوڑ دیا گیا جیسے وہ جنگ سے پہلے تھی، روس نے صرف فن لینڈ کے کچھ حصے پر قبضہ جمائے رکھا۔ اس کے بعد 1788 میں ماگنوس سپرینگپورٹن (Magnus Sprengporten) نے علیحدگی پسندوں کی تحریک چلائی مگر اس کے پیروکاروں کی تعداد محدود تھی اور یہ 1790 میں ختم ہو گئی۔

انیسویں صدی کا فن لینڈ[ترمیم]

فن لینڈ 1809 میں سوئیڈن کے تسلط سے نجات تو پا گیا مگر اس بار بھی وہ آزاد نہیں بلکہ روس کی غلامی میں چلا گیا۔ 21 فروری 1808 میں روسیوں نے حملہ کیا۔ جنگ میں کبھی سویڈن کا پلہ بھاری ہوتا کبھی روس کا۔ آخر کار اورا وائینن (Oravainen) نامی مقام پر روسیوں کو فیصلہ کن برتری حاصل ہوئی اور سوئیڈش فوج فن لینڈ سے باہر نکل گئی۔ اس کے بعد فن لینڈ نے روسی زار(تسار) سے امن کا معاہدہ کیا۔ اٹھارویں صدی کے دوران سوئیڈن کی لگاتار کمزوری اور روس کی بڑھتی طاقت کی وجہ سے فن لینڈ کی پارلیمنٹ ڈائیٹ (Diet) (دی یت)نے زار(تسار) ایلگزینڈر (آلیگزا ندر) کو اپنا حکمران تسلیم کر لیا۔ زار نے یہ تسلیم کیا کہ فن لینڈ کو روس کا حصہ نہیں بلکہ خود مختار ریاست کے برابر درجہ دیا جائے گا اور فن لینڈ کے اپنے قوانین ویسے چلتے رہیں گے۔ 1812 میں فن لینڈ زار(تسار) کے حکم کے تحت فن لینڈ کا دار الحکومت ترکو/اوبو سے ہیلسنکی میں منتقل کر دیا گیا۔

انیسویں صدی کے اوائل میں سائما (Saimaa) نامی نہر بننے کی وجہ سے فن لینڈ کو مغربی یورپ تک اپنی لکڑی پہنچانا آسان ہو گیا۔

انیسویں صدی کے آخر تک فن لینڈ میں قوم پرستی یعنی نیشنل ازم کافی پروان چڑھ چکا تھا۔ اسی دوران انہوں نے اپنے ادب کی طرف توجہ دی۔ 1835 میں ایلیاس لون روت (Elias Lönnrot) نامی شخص نے فننش لوک نظموں کو اکٹھا کر کے کتابی شکل میں چھاپا۔ اس کے لیے اسے 15 سال تک فن لینڈ کے مختلف حصوں میں سفر کرنا پڑا۔ پیشے کے لحاظ سے وہ خود ڈاکٹر تھا۔ اس کے بعد زبان اور کلچر کی ترقی کی طرف توجہ دی گئی۔ 1858 میں فن زبان کی گرائمر(کے قواعد) سکھانے کا پہلا اسکول قائم ہوا۔ 1889 تک آدھے سکولوں کی زبان فننش بن چکی تھی۔ اس سے پہلے یہ سارا کام سوئیڈش سے سر انجام دیا جاتا تھا۔

19ویں صدی کے اختتام تک زار(تسار) نکولس(نکولاس) دوم نے نیشنلزم کی حوصلہ شکنی کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے جن میں یہ بھی شامل تھا کہ زار(تسار) ان فننش قوانین کو جب چاہے بدل سکتا ہے جو روسی مفاد کے خلاف ہوں اور اس کام کے لیے اسے فننش پارلیمنٹ کی اجازت بھی درکار نہیں ہوگی۔

20 صدی کا فن لینڈ[ترمیم]

بیسویں صدی میں وقت کا دھارا بدل گیا۔ 1902 میں فننش کو سوئیڈش کے ساتھ ساتھ سرکاری زبان کا درجہ دے دیا گیا اور اسی دوران روسی بادشاہ زار(تسار) نے اپنا سابقہ اعلامیہ واپس لے لیا۔ 1907 میں نئی اسمبلی کا انتخاب ہوا تو پرانی اسمبلی ختم کر دی گئی۔ اس بار تمام مردوں کے ساتھ خواتین کو بھی ووٹ کا حق دیا گیا۔ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے بعد فن لینڈ دنیا کا تیسرا اور یورپ کا پہلا ملک تھا جہاں خواتین کو ووٹ کا حق دیا گیا۔ اسی طرح 1907 کے انتخابات میں دنیا میں پہلی بار خواتین نے انتخابات جیت کر پارلیمنٹ کی نشستیں حاصل کر لیں۔

1910 میں زار نے سختی سے فن قانون سازی کے اختیارات کو محدود کر دیا۔ اس نے یہ واضح کیا کہ فن لینڈ کو ایسے کسی بھی قانون بنانے کا کوئی حق نہیں ہے جس کے اثرات ملک سے باہر ہوں۔ لیکن زار(تسار) کا وقت ختم ہو چکا تھا۔ مارچ 1917 میں اس کا تختہ الٹ دیا گیا۔ جولائی 1917 میں فننش پارلیمنٹ نے اعلان کیا کہ تمام اختیارات ماسوائے خارجہ پالیسی کے، فن لینڈ کے پاس ہیں۔ 6 دسمبر 1917 کو پارلیمنٹ نے فن لینڈ کو آزاد مملکت قرار دیا۔ اسی دوران اکتوبر 1917 میں کنزرویٹو(قد امت پسند) حکومت چنی گئی۔ اسی دوران بائیں بازو کے انتہا پسندوں نے فیصلہ کیا کہ وہ طاقت کے زور پر اپنی حکومت بنائیں۔ سُرخوں(Red Finns) نے ہیلسنکی اور دیگر کئی شہروں پر قبضہ کر لیا۔ تاہم جنرل مینر ہیم(مانن رہایم) نے سفیدوں (White Finns) کی قیادت سنبھالی۔ اس دوران اپریل 1918 میں تامپرے شہر پر بھی قبضہ ہو گیا تھا۔ دریں اثناء جرمنی نے فن لینڈ پر حملہ کر دیا اور ہیلسنکی پر قبضہ کر لیا۔ مئی کے دوران بغاوت پر قابو پا لیا گیا۔ 8000 باغیوں کو موت کی سزا دی گئی اور باقی 12000 قید و بند میں ہلاک ہو گئے۔ اکتوبر 1918 میں جرمن شہزادہ چارلس فریڈرک آف ہیسسے (Frederick Charles of Hesse)کو فن لینڈ کا بادشاہ بنا دیا گیا۔ لیکن اس کا دورِ حکومت بہت مختصر ثابت ہوا۔ جرمنی نے 11 نومبر 1918 کو عارضی جنگ بندی کا معاہدہ کرتے ہوئے جنرل مینر ہیم(مانن رہایم) کو عارضی طور پر حکومت سونپ دی۔ 1919 میں فن لینڈ نے نیا آئین منظور کیا۔ جولائی 1919 میں فن لینڈ کے پہلے صدر ک۔ ج۔ سٹاہل برگ(J. K. Ståhlberg)(ستول برَی) نے جنرل مینر ہیم کی جگہ سنبھالی۔ فن لینڈ اب عوامی جمہوریہ بن گیا۔

آزادی کے بعد فن لینڈ کی زراعت میں اصلاحات کی گئیں۔ 1929-1918 کے دوران بہت سے مزارعوں کو مالکانہ حقوق دیے گئے۔

1929 میں کمیونسٹوں نے لاپُوا (Lapua) نامی شہر میں مظاہرہ کیا۔ ردٍ عمل کے طور پر دائیں بازو کے کمیونسٹ مخالفوں نے تحریک شروع کی جسے بعد ازاں لاپُوا تحریک کا نام ملا۔ 1932 میں لاپُوا تحریک نے مینتسالا (Mäntsälä) پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ صدر سٹاہل برگ (ستول برَی)نے اس پر قابو پالیا لیکن اس نے باغیوں سے نرمی سے سلوک کیا۔

دوسری جنگٍ عظیم میں فن لینڈ نے حصہ لیا۔ 1939 میں سٹالن کو اپنے شمالی محاذ پر حملے کا اندیشہ ہوا۔ اسے بچانے کے لیے اس نے فن لینڈ سے علاقے مانگے اور بدلے میں دوسرے علاقے دینے کی پیش کش کی جسے فن لینڈ نے ٹھکرا دیا۔ اس پر سٹالن نے طاقت استعمال کرنے کا سوچا۔

جنگٍ سرما یا ونٹر وار (Winter War) یا فن زبان میں تالوی سوتا (Talvisota) کی ابتدا 30 نومبر 1939 میں ہوئی۔ اس میں فن لینڈ کا بھاری جانی نقصان ہوا لیکن وہ نہایت بے جگری سے لڑے۔ روسیوں نے شمال میں جھیل لاڈوگا (Lake Ladoga) پر حملہ کیا لیکن تول وا یاری (Tolvajari)اور سوومُوس سالمی (Suomussalmi) کے محاذوں پر شکست کھائی۔ اسی دوران کاریلیان خاک نائے(Karelian Isthmus) کو مانر ہایم نے دفاعی لائن بنا کر محفوظ کیے رکھا، یہ لائن قلعوں، کنکریٹ کے مورچوں اور خندقوں پر مشتمل تھی۔ روسیوں نے اسے عبور کرنے کی بار بار کوشش کی لیکن فن لوگوں نے انہیں کامیابی سے روکے رکھا۔ لیکن 14 فروری 1940 کو روسیوں نے مانر ہایم لائن عبور کر لی اور فن لوگوں کو امن معاہدے پر مجبور ہونا پڑا۔ جنگ کا اختتام ماسکو معاہدے کی صورت میں ہوا۔ بعد ازاں فن لینڈ کو جنوب مشرقی علاقے بشمول وییپوری (Viipuri) جو اب وی بورگ (Vyborg) کہلاتا ہے اور جھیل لاڈوگا کے شمالی علاقے بھی دینے پڑے۔ اس جنگ میں 22000 فن لوگ مارے گئے۔

جون 1941 میں فن لینڈ نے جرمنی سے معاہدہ کر کے روس پر حملہ کر دیا۔ فن لوگ نے اسے جنگِ جاریہ، کانٹینیویشن وار(Continuation War) یا فننش میں یاتکو سوتا (Jatkosota) کا نام دیا۔ فن لوگ تیزی سے اپنے علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ تاہم دسمبر 1941 میں انگلینڈ نے فن لینڈ سے جنگ کا اعلان کر دیا۔ جرمنوں کو جب سٹالن گراڈ کے مقام پر 1943 میں شکست کا سامنا ہوا تو فن لینڈ نے محسوس کر لیا کہ اب اسے جنگ سے پیچھے ہٹ جانا چاہیے۔ مذاکرات مارچ 1944 میں شروع ہوئے لیکن فن لوگوں نے روسی مطالبات قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ لیکن شکست نوشتہء دیوار کی مانند تھی، اس لیے فن لوگوں نے 5 ستمبر 1944 کو روس سے جنگ بندی کا معاہدہ کیا۔

معاہدے کے بعد فن لوگوں کو کافی بڑا علاقہ روس کے حوالے کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ جنگ کا تاوان بھی انہیں روس کو دیا۔ اس جاری جنگ کے دوران 85000 فن لوگ لقمہ اجل بنے۔

1947 کو فن لینڈ نے روس سے آخری بار امن معاہدہ کیا۔

موجودہ فن لینڈ[ترمیم]

1991 میں روس کے زوال کے بعد 1947 کا معاہدہ بے اثر ہو گیا اور اسے 1992 کے نئے معاہدے سے بدل دیا گیا۔ اس معاہدے میں دونوں ملکوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ انہیں اپنے تنازعات دوستانہ طریقے سے حل کرنے چاہیں۔

روس کے لیے ہوئے علاقوں سے ساڑھے چار لاکھ پناہ گزینوں کی صورت میں فن لینڈ کی معیشیت پر اضافی بوجھ پڑا۔ تاہم فن لینڈ نے آہستگی کے ساتھ اس مسئلے کو سنبھال لیا۔ 1970 کی دہائی میں فن لینڈ کی معیشت نے اڑان بھرنی شروع کی۔ 1980 کی دہائی میں فن لینڈ کی معیشت نے بہت تیزی سے ترقی کی لیکن جلد ہی 1990 کی دہائی کے بحران سے یہ ترقی رک گئی۔ اس دوران بہت بڑی تعداد میں بے روزگاری پھیل گئی۔ لیکن صدی کے اختتام تک فن لینڈ نے اپنے آپ کو سنبھالا اور اب ایک خوش حال ملک ہے۔

دوسری جنگٍ عظیم سے پہلے فن لینڈ کا اہم پیشہ زراعت کا تھا۔ 1945 کے بعد میٹل ورک(دھاتی صنعت کاری)، انجینئری(مہندیسی) اور الیکٹرانکس(برقیات) کی صنعتوں نے کافی ترقی کی۔ ابھی بھی فن لینڈ اپنے دوسرے ہمسائیہ سکینڈے نیوین (سکاندی ناویائی) ممالک کی نسبت کم صنعتی ملک ہے۔ فن لینڈکی آمدنی کا بڑا ذریعہ ٹمبر یعنی لکڑی ہے۔

1995 میں فن لینڈ نے یوروپی یونین میں شمولیت اختیار کی۔ 2002 میں فننش مارک کا استعمال ترک کر کے یورو کو استعمال کرنا شروع کیا۔ اسی دوران 2000 میں تاریا ہالونین(Tarja Halonen) کو چھ سال کی مدت کے لیے ملک کی پہلی خاتون صدر منتخب کیا گیاتھا۔ اسی سال ہیلسنکی کی 450 ویں سالگرہ منائی گئی۔ 2006 میں ہونے والے دوسرے صدارتی انتخابات میں بھی انہوں نے کامیابی حاصل کی اور دوسرے اور آخری دورِ صدارت کے لیے عہدہ سنبھالا۔

آج فن لینڈ کی آبادی 55 لاکھ ہے۔

فہرست متعلقہ مضامین فن لینڈ[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

  1.   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں OSM relation ID (P402) ویکی ڈیٹا پر "صفحہ فن لینڈ في خريطة الشارع المفتوحة"۔ OpenStreetMap۔ اخذ شدہ بتاریخ 10 جولا‎ئی 2019۔ Check date values in: |accessdate= (معاونت)
  2.  : اشاعت 1987 — صفحہ: 388 — ناشر: WSOY — ISBN 978-951-0-14253-0 — اقتباس: Kun Suomen asiain komitea ja kenraalikuvernööri Steinheil olivat asettuneet tukemaan maan pääkaupunkisuunnitelmaa, tehtiin huhtikuussa 1812 päätös Helsingin korottamisesta Suomen pääkaupungiksi.
  3. ^ ا ب مکمل کام یہاں دستیاب ہے: https://www.finlex.fi/fi/laki/ajantasa/1999/19990731 — عنوان : Suomen perustuslaki — باب: 17 — اقتباس: Suomen kansalliskielet ovat suomi ja ruotsi.
  4. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر​ ڑ​ ز ژ س http://data.uis.unesco.org/Index.aspx?DataSetCode=DEMO_DS
  5. https://www.interpol.int/Member-countries/World — اخذ شدہ بتاریخ: 7 دسمبر 2017 — ناشر: انٹرپول
  6. https://www.opcw.org/about-opcw/member-states/ — اخذ شدہ بتاریخ: 7 دسمبر 2017 — ناشر: تنظیم برائے ممانعت کیمیائی ہتھیار
  7. https://www.iho.int/srv1/index.php?option=com_wrapper&view=wrapper&Itemid=452&lang=en — اخذ شدہ بتاریخ: 8 دسمبر 2017 — ناشر: بین الاقوامی آب نگاری تنظیم
  8. http://www.unesco.org/eri/cp/ListeMS_Indicators.asp
  9. http://www.upu.int/en/the-upu/member-countries.html — اخذ شدہ بتاریخ: 4 مئی 2019
  10. https://www.itu.int/online/mm/scripts/gensel8 — اخذ شدہ بتاریخ: 4 مئی 2019
  11. https://data.worldbank.org/indicator/NY.GDP.MKTP.CD?locations=FI — اخذ شدہ بتاریخ: 18 اکتوبر 2018 — ناشر: عالمی بنک
  12. https://data.worldbank.org/indicator/NY.GDP.PCAP.PP.CD — اخذ شدہ بتاریخ: 11 جون 2019 — ناشر: عالمی بنک
  13. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر​ ڑ​ ز ژ س ش ص ض ط ظ ع غ ف ق ک گ ل​ م​ ن و ہ ھ ی ے اا اب ات اث اج اح اخ اد اذ ار از اس اش اص اض اط اظ اع اغ اف اق https://data.worldbank.org/indicator/NY.GDP.PCAP.CD — اخذ شدہ بتاریخ: 27 مئی 2019 — ناشر: عالمی بنک
  14. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر​ ڑ​ ز ژ س ش ص ض ط ظ ع غ ف ق ک گ ل​ م​ ن و ہ ھ ی ے اا اب ات اث اج اح اخ اد اذ ار از اس اش اص اض اط اظ اع اغ اف اق https://data.worldbank.org/indicator/FI.RES.TOTL.CD — اخذ شدہ بتاریخ: 1 مئی 2019 — ناشر: عالمی بنک
  15. http://hdr.undp.org/en/countries/profiles/FIN
  16. http://data.worldbank.org/indicator/SL.UEM.TOTL.ZS