پاکستان کی زبانیں

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
پاکستان کی زبانیں
Pakistan ethnic map.svg
دفتری زبان(یں)انگریزی زبان, اردو
قومی زبان(یں)اردو[1]
بنیادی زبان(یں)پنجابی زبان (38.78%), پشتو زبان (18.24%), سندھی زبان (14.57%), سرائیکی زبان (12.19%) اردو (7.08%)[ا], بلوچی زبان (3.02%)
اقلیتوں کی زبان(یں)ہندکو (2.24%); براہوی زبان (1.24%); کشمیری زبان (0.17%); بروشسکی زبان; کالاشہ زبان; کھوار زبان; شینا زبان; بلتی زبان
اشاراتی زبان(یں)Pakistani Sign Language
کی بورڈ کا عمومی خاکہ
اردو کلیدی‌تختہ
Urdukey.jpg

اسلامی جمہوریہ پاکستان آپسی محبت اور اتحاد کی ایک اعلیٰ مثال ہے کیونکہ یہاں پہ مختلف علاقوں اور مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ متحد رہتے ہیں۔ جہاں پہ ہماری بہت سے زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں سے ایک ہماری قومی زبان اردو ہے۔ اس کے علاوہ چار صوبائی زبانیں اور بہت سے اور زبانیں بولی جاتی ہیں۔

پاکیستان میں علاقائی زبانیں کی جغرافیائی تقسیم۔

پاکستان میں کئی زبانیں بولی، لکھی اور سمجھی جاتی ہیں۔ ایتھنولوگ پاکستان میں 74 زبانوں کی فہرست دیتا ہے۔ ان میں سے 66 مقامی اور 8 غیر مقامی ہیں۔ انگریزی پاکستان کی سرکاری زبان ہے، تمام معاہدے اور سرکاری کام انگریزی زبان میں ہی طے کیے جاتے ہیں، جبکہ اردو پاکستان کی قومی زبان ہے۔
پاکستان کی صوبائی زبانوں میں پنجابی اور سرائیکی,صوبہ پنجاب، پشتو صوبہ خیبر پختونخوا، سندھی صوبہ سندھ، بلوچی صوبہ بلوچستان اور شینا صوبہ گلگت بلتستان میں تسلیم شدہ زبانیں ہیں۔[2]
پاکستان میں رائج دوسری زبانوں اور لہجوں میں، آیر، بدیشی، باگری، بلتی، بٹیری، بھایا، براہوی، بروشسکی، چلیسو، دامیڑی، دیہواری، دھاتکی، ڈوماکی، فارسی، دری، گواربتی، گھیرا، گوریا، گوورو، ہریانی زبان، گجراتی، گوجری، گرگلا، ہزاراگی، ہندکو، جدگلی، جنداوڑا، کبوترا، کچھی، کالامی، کالاشہ، کلکوٹی، کامویری، کشمیری، کاٹی، کھیترانی، کھوار، انڈس کوہستانی، کولی (تین لہجے)، لہندا لاسی، لوارکی، مارواڑی، میمنی، اوڈ، ارمری، پوٹھواری، پھالولہ، سانسی، ساوی، شینا (دو لہجے)، توروالی، اوشوجو، واگھری، وخی، وانیسی اور یدغہ شامل ہیں۔[3] ان زبانوں بعض کو عالمی طور پر خطرے میں شمار کیا جاتا ہے کیونکہ ان زبانوں کو بولنے والوں کی تعداد نسبتاً نہایت قلیل رہ گئی ہے۔ وجود کے خطرات میں گھری یہ زبانیں زیادہ تر ہند فارس شاخ اور ہند یورپی زبانوں کے خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ پاکستان کے ضلع چترال کو دنیا کا کثیرالسانی خطہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے اس ضلع میں کل چودہ زبانیں بولی جاتی ہیں-

شماریات

بڑی زبانوں کی مردم شماری کی تاریخ
درجہ زبان 2017 کی مردم شماری 1998 کی مردم شماری 1981 کی مردم شماری 1961 کی مردم شماری 1951 کی مردم شماری
1 پنجابی زبان* 38.78% 44.15% 48.17% 56.39% 57.08%
2 پشتو زبان 18.24% 16.42% 13.35% 8.47% 8.16%
3 سندھی زبان 14.57% 14.1% 12.7% 12.59% 12.85%
4 سرائیکی زبان* 12.19% 10.53% 9.54%
5 Urdu 7.08% 7.57% 7.60% 7.57% 7.05%
6 بلوچی زبان 3.02% 3.57% 3.02% 2.49% 3.04%
7 دیگر 6.12% 4.66% 5.62% 12.49% 11.82%
  • 1951ء اور 1961ء کی مردم شماری میں سرائیکی کو پنجابی کے ساتھ شامل کیا گیا تھا۔

زیل میں پاکستان کی سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانوں کی فہرست دی جا رہی ہے۔ پاکستانیوں کی مادری زبانوں کے لحاظ سے تناسب بھی زیل میں شامل ہے۔

عظیم ترین زبانوں کے بولنے والوں کی تعداد
زبان 1998ء مردم شماری 2008ء اندازہ بولنے والوں کے گنجان علاقے
1 پنجابی زبان 76,367,360 44.17% 58,433,431 44.15% پنجاب، پاکستان
2 پشتو زبان 26,692,890 15.44% 20,408,621 15.42% خیبر پختونخوا
3 سندھی زبان 24,410,910 14.12% 18,661,571 14.10% اندرون سندھ
4 سرائیکی 18,019,610 10.42% 13,936,594 10.53% جنوبی پنجاب
5 اردو 13,120,540 7.59% 10,019,576 7.57% شہری سندھ
6 بلوچی زبان 6,204,540 3.59% 4,724,871 3.57% بلوچستان
  • نوٹ: 1951ء اور 1961ء کی مردم شماری میں سرائیکی کو پنجابی زبان میں ہی شمار کیا گیا تھا جبکہ 1998ء میں اسے بطور الگ زبان شمار کیا گیا ہے۔

دیگر زبانیں

لسانی اقلیتوں میں بولی جانے والی دوسری زبانوں میں درج شامل ہیں۔ [4]

مزید دیکھے

حوالہ جات

  1. "Article: 251 National language". اخذ شدہ بتاریخ 23 جولا‎ئی 2018. 
  2. "پاکستان کی زبانیں". 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 17 مارچ 2009. 
  3. گارڈن، ریمنڈ (2005). "پاکستان کی علاقائی زبانیں". 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 17 مارچ 2009. 
  4. Gordon, Raymond G., Jr. (2005). Languages of Pakistan. In Ethnologue Languages of the World (15th ed.). Dallas, TX: SIL International.

بیرونی روابط