قانون آزادی ہند 1947

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
قانون آزادی ہند۔18جولائی ۔ 1947
Indian Independence Act 1947
طویل عنوان An Act to make provision for the setting up in India of two independent Dominions, to substitute other provisions for certain provisions of the Government of India Act, 1935, which apply outside those Dominions, and to provide for other matters consequential on or connected with the setting up of those Dominions.
باب 10 & 11 Geo. 6 c. 30
تواریخ
شاہی منظوری 18 جولائی 1947
حیثیت:

قانون آزادی ہند ۔4جولائی 1947ء کو ایک مسودہ قانون برطانوی پارلیمنٹ میں پیش کیاگیا ۔15جولائی کو دارالعوام نے اس کی منظوری دے دی،16جولائی 1947ء کو دارالامراء نے بھی اس کو منظورکیا ۔18جولائی 1947ء کو شاہ برطانیہ نے اس کی منظوری دے دی،18جولائی 1947 (Indian Independence Act 1947) برطانوی پارلیمنٹ کے ایک قانون تھا جس کے تحت تقسیم ہند علم میں لائی گئی اور دو نئی عملداریاں مملکت پاکستان اور مملکت بھارت وجود میں آئیں۔ قانون کو شاہی اجازت 18 جولائی 1947 کو حاصل ہوئی۔ اور دو نئے ممالک پاکستان 14 اگست کو اور بھارت 15 اگست کو وجود میں آئے۔

اس قانون کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

1۔دو نئے ممالک پاکستان 14 اگست کو اور بھارت 15 اگست کو وجود میں آئے۔

2۔دونوں ممالک مکمل طور پر آزادوخود مختار ہوں گے ان پر برطانوی حکومت مکمل طور پر ختم کردی جائے گی۔

3۔دونوں ممالک کی اپنی مجالس قانون ساز ہوں گی جو ان ممالک کے لئے آئین بنائیں گی۔

4۔ جب تک نیا آئین نہیں بنتا اس وقت تک 1935ء کا آئین رائج رہے گا دونوں ممالک کی اسمبلیاں اس آئین میں ترمیم کا اختیار رکھتی ہیں۔

5۔حکومت برطانیہ اور ہندوستانی شاہی ریاستوں کے درمیان تمام معاہدے ختم کئے جاتے ہیں۔

6۔حکومت برطانیہ کو یہ اختیارات نہیں ہیں کہ وہ کسی ملک کی قانون ساز اسمبلی کے بنائے ہوئے قانون کو رد یا منظور کریں یہ اختیارات اس ملک کے گورنر جنرل کو حاصل ہیں۔

7۔شاہ برطانیہ کے خطابات میں سے شہنشاہ ہند“ کا خطاب ختم کیا جاتا ہے۔