پاکستان کی نوابی ریاستیں

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
Coat of arms of Pakistan
بسلسلہ
پاکستان کی سابقہ انتظامی اکائیاں

پاکستان کی نوابی ریاستیں (Princely states of Pakistan) برطانوی راج کی سابقہ نوابی ریاستیں تھیں جنہوں نے تقسیم ہند کے بعد 1947ء اور 1948ء کے درمیان نئے ڈومنین پاکستان کے ساتھ الحاق کر لیا تھا۔

نوابوں کا اختیار[ترمیم]

برصغیر سے اگست 1947ء میں قانون آزادی ہند 1947 کے تحت برطانیہ کی واپسی پر برطانوی راج کے تحت سینکڑوں نوابی ریاستیں ان تمام ماتحت اتحاد اور دیگر معاہدوں جو برطانوی راج کے ساتھ کیے گئے تھے سے مکمل آزاد ہو گئیں۔ وہ نو آزاد ریاستوں بھارت یا پاکستان میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کرنے کے لیے آزاد تھیں۔ بصورت دیگر انکو یہ اختیار بھی تھا کہ وہ دونوں سے علاحدہ خود مختار ریاست کے طور پر رہیں۔

صرف دو نوابوں نے اگست 1947ء کو آزادی کے بعد پہلے مہینے میں پاکستان کے ساتھ الحاق کیا۔ لیکن مسلم اکثریتی آبادی کی ریاستوں میں سے زیادہ تر نے ایک سال کے اندر پاکستان کے ساتھ الحاق کر کیا۔ ریاست ہنزہ اور ریاست نگر سب سے آخری ریاستیں تھیں جنہوں نے 1974ء میں پاکستان کے ساتھ الحاق کیا۔

پاکستان کی نوابی ریاستیں[ترمیم]

سوات[ترمیم]

والی سوات، مینگل عبد الودود کے اگست 1947ء میں پاکستان سے الحاق کرنے والے پہلے حکمران بنے۔[1] آخری والی مینگل جہاں زیب (1908-1987)، 1969 تک مکمل حکمرانی کرتے رہے جب پاکستان نے مقامی بے امنی کے بعد سوات کا انتظام سنبھال لیا۔

خیرپور[ترمیم]

یاست خیرپور

عامر علی مراد دوم حکمران خیرپور نے 3 اکتوبر 1947ء کو پاکستان کے ساتھ الحاق کر لیا۔[2]

بہاولپور[ترمیم]

اس کے علاوہ 3 اکتوبر 1947ء کو کچھ تاخیر کے بعد بہاولپور کے نواب (یا امیر)، صادق محمد خان پنجم نے پاکستان سے الحاق کا اعلان کر دیا، یوں وہ پاکستان سے الحاق کرنے والے تیسرے حکمران بنے۔[3]

چترال[ترمیم]

مہتار چترال مظفر الملک نے 15 اگست 1947ء کو پاکستان سے الحاق کا اعلان کر دیا تھا۔[4] تاہم رسمی طور پر الحاق 6 اکتوبر تک موخر کر دیا گیا تھا۔[5]

ہنزہ[ترمیم]

ہنزہ جموں و کشمیر کے شمال ایک چھوٹی بوابی ریاست تھی جو تکنیکی طور پر کشمیر کے مہاراجا کے ماتحت تھی۔ 3 نومبر 1947ء کو میر ہنزہ نواب محمد جمال خان (1912-1976) نے محمد علی جناح کو ایک تار بھیجا جس میں انہوں نے پاکستان اپنی ریاست کے پاکستان سے الحاق کی خواہش بیان کی۔[6] یہ عمل کشمیر کے 27 اکتوبر کو مہاراجا ہری سنگھ کے بھارت سے الحاق کے فیصلے کے ایک ہفتے بعد آیا جب کشمیر میں بھارتی افواج داخل ہو گئین۔ ہنزہ کا باضابطہ الحاق 18 نومبر کو ہوا۔[7] 25 ستمبر 1974ء کو مقامی مظاہروں کے بعد میر ہنزہ کی حکمرانی ختم کرتے ہوئے ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے وزیر اعظم ہنزہ کو شمالی علاقہ جات میں شامل کرتے ہوئے وفاقی حکومت کے تحت منطنق کر دیا۔

نگر[ترمیم]

18 نومبر 1947ء کو نگر جو کشمیر کے شمال میں ایک اور چھوٹی وادی ریاست تھی جس میں ہنزہ کی زبان اور ثقافت مشترک تھی پاکستانسے الحاق کر لیا۔[8]

امب[ترمیم]

31 دسمبر 1947ء کو نواب امب محمد فرید خان نے پاکستان سے الحاق کر لیا۔[9] 1969ء تک امب پاکستان کے اندر ایک خود مختار ریاست کے طور پر قائم رہی۔ نواب کی وفات کے بعد اسے شمال مغربی سرحدی صوبہ (موجودہ خیبر پختونخوا) میں شامل دیا گیا۔

پھلرا[ترمیم]

پھلرا امب کے قریب ایک چھوٹی نوابی ریاست تھی جس کی آبادی 1947ء میں 7،000 افراد پر مشتمل تھی۔ اسے شمال مغربی سرحدی صوبہ (موجودہ خیبر پختونخوا) میں شامل دیا گیا۔[10]

دیر[ترمیم]

نواب دیر جہان خان نے 1947ء میں پہلی کشمیر جنگ میں پاکستان کی حمایت میں اپنی اقواج کو بھیجا تھا، لیکن پاکستان سے الحاق 18 فروری 1948ء کو عمل میں آیا۔[11]

خانیت قلات[ترمیم]

خانیت قلات 15 اگست 1947ء سے 27 مارچ 1948ء تک آزاد ریاست کے طور پر قائم رہی اور اس کے بعد اس نے پاکستان کے ساتھ الحاق کر لیا۔ بلوچستان ریاستی اتحاد جنوب مغربی پاکستان کے علاقے میں 3 اکتوبر 1952ء اور 14 اکتوبر 1955ء کے درمیان موجود ریا۔ یہ اتحاد ریاست قلات، ریاست خاران، ریاست لسبیلہ اور ریاست مکران کے درمیان قائم ہوا اور اس کا دارالحکومت قلات شہر تھا۔ 14 اکتوبر 1955ء یہ خانیت ختم ہو گئی اور یہ مغربی پاکستان میں شامل ہو گئی۔

مکران[ترمیم]

21 مارچ 1948ء کو خاران، مکران اور لسبیلہ کے حکمرانوں نے اعلان کیا کہ وہ سب پاکستان کے ساتھ الحاق کر ریے ہیں۔[12] بلوچستان ریاستی اتحاد جنوب مغربی پاکستان کے علاقے میں 3 اکتوبر 1952ء اور 14 اکتوبر 1955ء کے درمیان موجود ریا۔ یہ اتحاد ریاست قلات، ریاست خاران، ریاست لسبیلہ اور ریاست مکران کے درمیان قائم ہوا اور اس کا دارالحکومت قلات شہر تھا۔ 14 اکتوبر 1955ء یہ خانیت ختم ہو گئی اور یہ مغربی پاکستان میں شامل ہو گئی۔

خاران[ترمیم]

21 مارچ 1948ء کو خاران، مکران اور لسبیلہ کے حکمرانوں نے اعلان کیا کہ وہ سب پاکستان کے ساتھ الحاق کر ریے ہیں۔[12] بلوچستان ریاستی اتحاد جنوب مغربی پاکستان کے علاقے میں 3 اکتوبر 1952ء اور 14 اکتوبر 1955ء کے درمیان موجود ریا۔ یہ اتحاد ریاست قلات، ریاست خاران، ریاست لسبیلہ اور ریاست مکران کے درمیان قائم ہوا اور اس کا دارالحکومت قلات شہر تھا۔ 14 اکتوبر 1955ء یہ خانیت ختم ہو گئی اور یہ مغربی پاکستان میں شامل ہو گئی۔

لسبیلہ[ترمیم]

21 مارچ 1948ء کو خاران، مکران اور لسبیلہ کے حکمرانوں نے اعلان کیا کہ وہ سب پاکستان کے ساتھ الحاق کر ریے ہیں۔[12] بلوچستان ریاستی اتحاد جنوب مغربی پاکستان کے علاقے میں 3 اکتوبر 1952ء اور 14 اکتوبر 1955ء کے درمیان موجود ریا۔ یہ اتحاد ریاست قلات، ریاست خاران، ریاست لسبیلہ اور ریاست مکران کے درمیان قائم ہوا اور اس کا دارالحکومت قلات شہر تھا۔ 14 اکتوبر 1955ء یہ خانیت ختم ہو گئی اور یہ مغربی پاکستان میں شامل ہو گئی۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

پاکستان کی انتظامی تقسیم

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Office of the Census Commissioner, Pakistan, Population Census of Pakistan, 1961: Census Report of Tribal Agencies (1961), p. 1/34
  2. Farhan Hanif Siddiqi, The Politics of Ethnicity in Pakistan: The Baloch, Sindhi and Mohajir Ethnic Movements (Routledge Contemporary South Asia Series, 2012), p. 130
  3. Umbreen Javaid, Politics of Bahawalpur: From State to Region, 1947-2000 (2004), p. 115
  4. Kuldip Singh Bajwa, Jammu and Kashmir War, 1947-1948 (2003), p. 141
  5. Axmann (2008), p. 273
  6. Z. H. Zaidi, ed., Jinnah Papers: The states: Historical and Policy Perspectives and Accession to Pakistan, vol. VIII (Quaid-i-Azam Papers Project, Government of Pakistan, 2003), p. 113
  7. Pakistan Horizon, vol. 56, Issues 1-2, p. 57: "Hunza and Nagar acceded to Pakistan on November 18, 1947, but the northern regions have not been merged into Pakistan proper, pending the determination of the status of Jammu and Kashmir."
  8. Pakistan Horizon, vol. 56, Issues 1-2, p. 57: "Hunza and Nagar acceded to Pakistan on November 18, 1947, but the northern regions have not been merged into Pakistan proper, pending the determination of the status of Jammu and Kashmir."
  9. Z. H. Zaidi, CHRONOLOGY OF ACCESSION OF STATES TO PAKISTAN in Quaid-i-Azam Mohammad Ali Jinnah Papers: The States (‎Quaid-i-Azam Papers Project, 1993), p. xxxix
  10. Sir Terence Creagh Coen, The Indian Political Service: A Study in Indirect Rule (1971), p. 144
  11. Z. H. Zaidi, CHRONOLOGY OF ACCESSION OF STATES TO PAKISTAN in Quaid-i-Azam Mohammad Ali Jinnah Papers: The States (‎Quaid-i-Azam Papers Project, 1993), p. xxxix
  12. ^ ا ب پ Siddiqi (2012), p. 60: "The rulers of the states of Kharan, Makran and Lasbela announced their decision to join the Pakistan dominion on 21 March 1948 and their respective rulers signed the official documents."