سندھی زبان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(سندھی سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
سندھی
سنڌي सिन्धी ਸਿੰਧੀ
Word Sindhi in Perso-Arabic.svg
مقامی  سندھ، پاکستان اور گجرات، بھارت۔ دنیا کے مختلف حصے میں بھی تارکین وطن، ہانگ کانگ، سلطنت عمان، فلپائن، انڈونیشیا، سنگاپور، متحدہ عرب امارات، مملکت متحدہ، ریاستہائے متحدہ امریکا، کینیڈا، آسٹریلیا، چین، فرانس، جاپان، ملائیشیا، سعودی عرب، قطر
علاقہ دنیا
مقامی متکلمین
75 ملین (2015)[1]
عربی، دیوناگری، Khudabadi alphabet، Laṇḍā، سندھی رومن، گرمکھی[2]
رسمی حیثیت
دفتری زبان
پاکستان (سندھ)
بھارت
منظم از سندھی زبان کا با اختیار ادارہ (پاکستان)،
National Council For Promotion Of Sindhi Language (بھارت)
زبان رموز
آیزو 639-1 sd
آیزو 639-2 snd
آیزو 639-3 مختلف:
snd – سندھی
lss – Lasi
sbn – سندھی Bhil
گلوٹولاگ sind1272  سندھی[3]
sind1270  سندھی Bhil[4]
lasi1242  Lasi[5]
کرہ لسانی 59-AAF-f
اس مضمون میں بین الاقوامی اصواتی ابجدیہ کی صوتی علامات شامل ہیں۔ موزوں معاونت کے بغیر آپ کو یونیکوڈ حروف کی بجائے سوالیہ نشان، خانے یا دیگر نشانات نظر آسکتے ہیں۔ بین الاقوامی اصواتی ابجدیہ کی علامات پر ایک تعارفی ہدایت کے لیے معاونت:با ابجدیہ ملاحظہ فرمائیں۔
Word Sindhi in Perso-Arabic.svg
یہ مضمون سندھی زبان کے دائیں سے بائیں بعض الفاط پر مشتمل ہے۔ موزوں معاونت کے بغیر آپ کو سندھی زبان کی بجائے علامات یا خانے نظر آسکتے ہیں۔

سندھی زبان (Sindhi language) ہند آریائی گروہ کی زبان اور جنوبی ایشیاء کے علاقہ سندھ کی زبان ہے جو پاکستان کا صوبہ ہے۔ پاکستان میں سندھی بولنے والوں کی تعداد تقریبن چار کروڑ اور بھارت میں تقریباً 70 لاکھ ہے اور سندھی کو پاکستان اور بھارت دونوں ملکوں میں قومی زبان کا درجہ حاصل ہے۔ اگرچہ سندھی انڈو آریان گروہ کی زبان ہے لیکن اس میں دراوڑی اثرات بھی پائے جاتے ہیں، جو اس کو خاص انفرادیت اور اہمیت دیتا ہے۔ سندھی بولنے والے زیادہ افراد پاکستان کے صوبہ سندھ میں ہیں اور بقیہ دنیا کے باقی حصوں میں خاص کر بھارت کے کئی حصوں میں آباد ہیں جو 1947ء میں تقسیم ہند کے بعد سندھ سے ہجرت کر کے بھارت گئے اور وہاں آباد ہو گئے۔ سندھی عام طور پر ترمیم شدہ عربی رسم الخط میں لکھی جاتی ہے۔ حکومت بھارت نے 1948ء میں عربی رسم الخط کی جگہ دیوناگری رسم الخط کو اردو، سندھی، جیسی زبانوں کے لیے بھارت میں رائج کیا۔

جغرافیائی تقسیم[ترمیم]

سندھی جنوب مشرقی پاکستان کے سکولوں میں پہلی زبان کے طور پر پڑھائی جاتی ہے۔ سندھی وسیع ذخیرہ الفاظ کی وجہ سے محررین اور مصنفین کو راغب کرتی ہے جس کی وجہ سے ادب اور شاعری کا ایک وسیع ذخیرہ رکھتی ہے۔ سندھی کے کئی لہجے پاکستان کے باقی صوبوں پنجاب، بلوچستان، سرحد کے کئی علاقوں اور بھارت کی ریاست گجرات اور راجستھان میں بولے جاتے ہیں

سندھی زبان کے قدیم لہجے

سندھی بولی کے علاقے کے بنیاد پر بہت سارے قدیم لہجے ہیں:

1. لاسی لہجہ: یہ لہجہ لسبیلہ اور بلوچستان میں بولا جاتا ہے۔ پاکستان بننے کے بعد بھی سندھی سبی تک اور مکران و گوادر تک دوسری بڑی زبان ہے۔

2. لاڑی لہجہ: یہ لہجہ لاڑھ میں حیدرآباد اور نیچے ٹھٹہ, بدين اور ملير کراچي تک بولا جاتا ہے۔ یہ سندھی کا مستند لہجہ ہے جس میں آج کل کتاب لکھے جاتے ہیں اور سندھی میڈیا بھی اسی لہجے کو اپناتی ہے ميمني لھجہ بھي اسي سے نکلا ہے۔

3. کچھی لھجہ: یہ لھجہ کچھ گجرات میں بولا جاتا ہے اور کچھیوں کی بڑی تعداد کراچی میں صدیوں سے آباد ہے سندھی زبان کے عظیم شاعر شاھ عبدالطيف بھٹائي نے خود کچھ بھونجھ گجرات میں شاعری کی ہے۔

4. ميمني يا کاڻھياواڑھی لہجہ: یہ لہجہ کاٹھیاواڑ گجرات میں بولا جاتا ہے۔ ميمٹی یا کاٹھیاواڑھی سننے کے بعد آپ کو لگے گا کہ وہ ٹوٹی پھوٹی سندھی میں بات کر رہے ہے ميمني یا کاٹھیاواڑی بولنے والے لوگ پانج صدیا پھلے کاروبار کے لیے ٹھٹھہ سے گجرات گٸے تھے تو ان کي سندھی زبان کو میمنی کا نام دیا گیا

5. تھری يا ڈاھٹکی لہجہ: یہ لہجہ تھرپارکر اور راجستھان میں بولا جاتا ہے۔ تاريخي طور پے تھر اور راجستھان سندھو تھذیب کے مضبوط حصے ہے

6. وچولی یا اترادی لھجہ : يه لھجہ اتر یا اپر سندھ میں نوشھروفيروز سے لاڑکانہ, سکھر اور کافی علاٸقوں میں بولا جاتا  ہے۔

7. سرو يا سرائیکی لہجہ: یہ لہجہ سندھ اور پنجاب میں ملتان سے لے کر بہاولپور تک بولا جاتا ہے تاريخي طور پے ملتان خود سندھ کا حصہ تھا۔

8. خوجکی لہجہ: یہ لہجہ بھی قدیم لہجہ ہے، جس کو اسماعیلی داعیوں نے ملتان، منصورہ اور گجرات میں بنا کے مذھبی گیت گنان لکھے جو آج کل پوری دنیا کے اسماعیلی پڑھتے ہیں۔

9. جدگالی لھجہ: يه لھجه ايران اور بلوچستان میں بولا جاتا ہے یہ لھجہ سننے کے بعد آپ کو لگے گا کے یے سندھی زبان کا ايک لھجہ ہے۔

10. سواھلی کچھی لھجہ: يه لھجہ ايسٽ آفريکا کے ملکوں میں بولا جاتا ہے جو آفریکا کی سواھلی زبان اور سندھی کے کچھی لھجے کا مکسچر ہے، کچھ کے لوگوں نے 18ويں صدي میں آفریکا کی طرف ھجرت کی تھی جن کو اب سواھلی کچھی بولا جاتا ہے تنزانیا, کينيا میں سواھلي کچھي لھجہ بولنے والوں کی اکثریت ہے صرف کینیا میں 55000 تک سواھلی کچھی بولنے والے سندھی آباد ہے.


پاکستان کی زبانیں

تاریخ[ترمیم]

سندھی چودھویں صدی عیسوی سے اٹھارویں صدی عیسوی تک تعلیم و تدریس کی مشہور زبان رہی ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب شاہ عبداللطیف بھٹائی اور کئی دوسرے شعرا نے سندھی زبان میں اپنا صوفیانہ کلام لکھا اور انسان اور خدا کے درمیان رشتے کی وضاحت کی۔ قرآن کا پہلا ترجمہ سندھی میں کیا گیا، جو بارہویں صدی عیسوی یا اس سے پہلے، قرآن کا پہلا ترجمہ ہے۔

پاکستان کے صوبہ سندھ میں بولی جانے والی اکثریتی زبان ’’سندھی‘‘ ہے۔ وادیٔ سندھ کی قدیم تہذیب سے اندازہ لگا کر ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ سندھی زبان سندھ میں آریاؤں بلکہ دراوڑوں سے پہلے کی زبان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین نے سندھی زبان کو اس خطے کی اصلی زبان بتایا اور اسے پروٹو ڈراویڈین قرار دیا، یعنی دراوڑوں سے پہلے کی زبان۔ یہ دعویٰ کرنے والوں میں ڈاکٹر نبی بخش بلوچ، ڈاکٹر غلام علی الانا اور سراج الحق میمن وغیرہ شامل ہیں۔ بعض مستشرقین کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ’’سندھی‘‘ دراوڑی زبان سے تعلق رکھتی ہے۔ دیگر قدیم زبانوں مثلاً سنسکرت، عربی وغیرہ سے بھی سندھی کا بہت قریبی تعلق رہا ہے۔

ڈاکٹر غلام حیدر سندھی نے لکھا ہے کہ میں نے سندھی زبان کے نقوش معلوم کرنے کے لیے جب سوات اور شمالی علاقہ جات کا دورہ کیا، تو پتا چلا کہ سوات کالام میں بولی جانے والی زبان گاؤری اور دیگر زبانوں کا سندھی کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ اس نے یہ بھی لکھا ہے کہ دورانِ تحقیق یہ بھی معلوم ہوا کہ خالص سندھی سات اصوات ان وادیوں میں بولی جانے والی زبانوں میں ابھی تک موجود ہیں۔ یہ بات بھی تحقیق میں سامنے آئی ہے کہ کالامی یا گاؤری زبان اور سندھی میں تذکیر و تانیث، جمع واحد، حروفِ جار اور اسم صفت کی ترتیب و تراکیب وغیرہ میں بھی کافی مشابہت نظر آتی ہے۔ڈاکٹر غلام حیدر سندھی لکھتے ہیں کہ اس کی وجہ ان کی آپس میں لسانی قربت اور وہ تاریخی تعلق ہے جو مدتوں پہلے سندھی اور ان وادیوں میں بولی جانے والی زبانوں کے درمیان رہا ہوگا۔ سندھی زبان میں باون حروف تہجی ہیں۔ ان میں بارہ ایسے ہیں جو تلفظ کی حد تک سندھی، اردو، پنجابی اور سرائکی میں مشترک ہیں، مگر لکھنے میں ان کی اشکال مختلف ہیں۔

جیسا کہ پہلے بتایا گیا کہ سندھی ایک قدیم زبان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سندھی ادب بھی قدیم ہے۔ سندھی لوک ادب کے علاوہ سندھی زبان میں شاعری اور نثر کا ایک وسیع ذخیرہ موجود ہے۔ سندھی لوک داستانوں میں لیلا چنیسر اور عمر ماروی کی داستانیں بہت مشہور ہیں۔ اسی طرح پاکستان میں بہت کم لوگ ایسے ملیں گے کہ سندھی شاعری میں “شاہ عبداللطیف بھٹائی” اور “سچل سرمست” کے ناموں سے ناواقف ہوں۔


رسم الخط[ترمیم]

سندھی میں مختلف رسم الخط ہیں جن میں سے تین رسم الخط موجودہ دور میں استعمال میں ہیں، جن میں دو رسم الخط مشہور ہیں۔

عربی[ترمیم]

پاکستان میں سندھی ترمیم شدہ عربی رسم الخط میں لکھی جاتی ہے، سندھی کےعربی رسم الخط لکھنے والے ابوالحسن سندھی ہیں سندھی میں کل 52 حروف تہجی ہیں۔ عربی حروف کے علاوہ اس میں دوسرے آریائی حروف بھی شامل ہیں۔ اس رسم الخط کی انیسویں صدی میں ہندوستان کے برطانوی دور حکومت میں حوصلہ افزائی کی گئی۔

جھ ڄ ج پ ث ٺ ٽ ٿ ت ڀ ٻ ب ا
ɟʱ ʄ ɟ p s ʈʰ ʈ t ɓ b ɑ: ʔ
ڙ ر ذ ڍ ڊ ڏ ڌ د خ ح ڇ چ ڃ
ɽ r z ɖʱ ɖ ɗ d x h c ɲ
ڪ ق ڦ ف غ ع ظ ط ض ص ش س ز
k q f ɣ ɑ: o: e: ʔ ʕ z t z s ʃ s z
ي ء ھ و ڻ ن م ل ڱ گھ ڳ گ ک
j i: h ʋ ʊ o: ɔ: u: ɳ n m l ŋ ɡʱ ɠ ɡ

دیوناگری[ترمیم]

بھارت میں معیاری عربی رسم الخط کے علاوہ دیوناگری رسم الخط بھی رائج ہے، 1948ء سے رائج کیا گیا۔

ə a ɪ i ʊ u: e ɛ o ɔ
ख़ ग़
k x ɡ ɠ ɣ ɡʱ ŋ
ज़
c ɟ ʄ z ɟʱ ɲ
ड़ ढ़
ʈ ʈʰ ɖ ɗ ɽ ɖʱ ɽʱ ɳ
t d n
फ़ ॿ
p f b ɓ m
j r l ʋ
ʃ ʂ s h

رومن سندھی[ترمیم]

رومن سندھی آج کل موبائیل انباکس میں میسیج میں استعمال ہوتی ہے۔ رومن سندھی اسکرپٹ (رسم الخط) کے سب سے بڑے دائی مصنف حلیم بروھی مرحوم تھے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Nationalencyklopedin "Världens 100 största språk 2007" The World's 100 Largest Languages in 2007
  2. "Script"۔ Sindhilanguage.com۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  3. ہرالڈ ہیمر اسٹورم؛ رابرٹ فورکل؛ مارٹن ہاسپلمتھ (ویکی نویس.)۔ "سندھی"۔ گلوٹولاگ 3.0۔ یئنا، جرمنی: میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ فار دی سائنس آف ہیومین ہسٹری۔
  4. ہرالڈ ہیمر اسٹورم؛ رابرٹ فورکل؛ مارٹن ہاسپلمتھ (ویکی نویس.)۔ "سندھی Bhil"۔ گلوٹولاگ 3.0۔ یئنا، جرمنی: میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ فار دی سائنس آف ہیومین ہسٹری۔
  5. ہرالڈ ہیمر اسٹورم؛ رابرٹ فورکل؛ مارٹن ہاسپلمتھ (ویکی نویس.)۔ "Lasi"۔ گلوٹولاگ 3.0۔ یئنا، جرمنی: میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ فار دی سائنس آف ہیومین ہسٹری۔

مآخذ[ترمیم]

For further reading:

  • Chopra, R. M., The Rise, Growth And Decline of Indo-Persian Literature, 2012, Iran Culture House, New Delhi, Chapter on"Persian in Sindh".

بیرونی روابط[ترمیم]

سانچہ:Interwiki Wikivoyage-Logo-v3-icon.svg Sindhi phrasebook سفری راہنما منجانب ویکی سفر