سندھی ادبی بورڈ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
سندھ ادبی بورڈ
Sindhi Adabi Board
تشکیل دسمبر، 1951ء
قسم علمی و ادبی ادارہ
مقصد سندھی، زبان و ادب، تاریخ اور ثقافت ترویج، تدوین و اشاعت
صدر دفتر ضلع جامشورو
مقام سندھ یونیورسٹی، ضلع جامشورو، پاکستان
علاقہ خدمت
سندھ
سرکاری زبان
سندھی
سیکریٹری
اللہ دتو وگھیو
اہم عضو
بورڈ آف گورنرز
بنیادی تنظیم
وزارت تعلیم، حکومت سندھ
بجٹ 30 ملین
عملہ 63
ویب سائٹ http://www.sindhiadabiboard.org

سندھٰ ادبی بورڈ پاکستان کا ایک علمی و ادبی ادارہ ہے جو وزارت تعلیم، حکومت سندھ کے ماتحت کام کرتا ہے، جس کا مقصد سندھی زبان، ادب، تاریخ اور ثقافت پر کتب کی تدوین و اشاعت ہے۔

پس منظر و قیام[ترمیم]

اگست، 1940ء میں اس وقت کے وزیر تعلیم سندھ جی ایم سید کی کوششوں سے سندھی ا دب، تاریخ اور ثقافت کی ترویج و اشاعت کے لئے سندھی ادب کے لئے مرکزی مشاورتی بورڈ کا قیام عمل میں آیا، جس کے چیئرمیں مشہورمعروف سیاستدان میراں محمد شاہ تھے۔ ان کی سربراہی میں سندھ کے نامور علما و فضلا علامہ آئی آئی قاضی، سید علی محمد راشدی، ڈاکٹر عمر بن محمد داؤد پوتہ، مولانا دین محمد وفائی،بھیرومل مہرچند آڈوانی، عثمان علی انصاری، ڈاکٹر ایچ ایم گربخشانی اور دیگر پر مشتمل پندرہ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ 1948ء میں میں حکومت سندھ مرکزی مشاورتی بورڈ کا نیا تنظمی ڈھانچہ تشکیل دیا جس کے چیئرمیں میراں محمد شاہ، وائس چیئرمین ڈاکٹر عمر بن محمد داؤد پوتہ اور سکیریٹری عثمان علی انصاری مقرر ہوئے۔[1][2]

دسمبر 1951ءمیں حکومت سندھ نے عوام کے لئے ایک منظم ادبی ادارہ فراہم کرنے کی غرض سے سندھی ادب کے لئے مرکزی مشاورتی بورڈ کو ختم کر کے سندھی ادبی بورڈ کے نام سے ایک نیا ادارہ بنایا۔ 1955ء میں حکومت سندھ نے سندھی ادبی بورڈ کو خودمختار حیثیت دے دی اور اس کے ساتھ اسے چلانے کے لیے بورڈ کا آئین بھی منظور کیا۔[1]

فہرست چئیرمین[ترمیم]

  1. محمد ایوب کھوڑو (وزیر اعلیٰ سندھ)
  2. اللہ بخش سرشار عقیلی
  3. نیاز احمد (کمشنر حیدر آباد)
  4. مخدوم محمد زماں طالب المولیٰ (پہلی مرتبہ)
  5. علامہ غلام مصطفیٰ قاسمی
  6. مخدوم محمد زماں طالب المولیٰ (دوسری مرتبہ)
  7. پروفیسر عبد الجبار جونیجو
  8. حسین شاہ راشدی
  9. عبد الحمید آخوند (قائمقام)
  10. محمد ابراہیم جویو
  11. غلام ربانی آگرو
  12. عرفان اللہ خان مروت (وزیر تعلیم)
  13. مظہر الحق صدیقی (قائمقام)
  14. ڈاکٹر حمیدہ کھوڑو (وزیر تعلیم)
  15. ارباب غلام رحیم (وزیر اعلیٰ سندھ)
  16. جسٹس (ریٹائرڈ) عبدالقادر ہالیپوتہ (نگراں وزیر اعلیٰ سندھ)
  17. مخدوم جمیل الزماں (موجودہ)

اہم کارنامے[ترمیم]

  • سندھ کے تایخ کے قدیم فارسی مآخذ چچ نامہ، تحفۃ الکرام، مکلی نامہ، ترخان نامہ، بیگلار نامہ اور تذکرہ جات مثلاً مقالات الشعرا، حدیقۃ اولیا، گلزارِ ابرار وغیرہ کی تدوین، متن کی اشاعت اور سندھی و اردو زبان میں تراجم۔
  • سندھی لوک ادب کی 40 جلدوں میں اشاعت
  • جامع سندھی لغات کی 5 جلدوں میں اشاعت
  • مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی کی سندھی زبان میں تالیف کردہ مشہور تفسیر ہاشمی کی تدوین و اشاعت

مطبوعات[ترمیم]

سندھی ادبی بورڈ اب تک فارسی، سندھی، اردو، انگریزی، عربی زبانوں 500 سے زائد کتب شائع کر چکی ہے[2]۔ ان میں سے کچھ مشہور کتب کے نام ذیل میں ہیں:

  • چچ نامہ
  • تحفۃ الکرام
  • تاریخ معصومی
  • تاریخ طاہری
  • جامع سندھی لغات
  • ترخان نامہ
  • منشور الوصيت و دستور الحکومت
  • بیگلار نامہ
  • جنت السندھ
  • تاریخ سکھر
  • حدیقۃ الاولیا
  • تحفۃ الطاہرین
  • گلزار ابرار
  • مقالات الشعرا
  • مکلی نامہ
  • برہانپور کے سندھی اولیا
  • سومرن جو دور
  • تاریخ سندھ (عہد کلہوڑا)
  • لُب تاریخ سندھ
  • تاریخ تمدن سندھ
  • دودو چنیسر
  • تاریخ ریگستان
  • سندھی لوک ادب (40 جلدیں)

رسائل و جرائد[ترمیم]

  • سہ ماہی مہران
  • سرتیوں
  • گل پھل

حوالہ جات[ترمیم]