اوستائی زبان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اوستائی
Avestan
علاقہ مشرقی سطح مرتفع ایران
نسلیت آریہ
دور آہنی دور، اواخر کانسی دور
کوئی مقامی متن نہیں
اوستائی حروف تہجی (پہلوی متن; independent ad-hoc development)
گجراتی متن ( مستعمل از بھارتی زرتشتی)
زبان رموز
آیزو 639-1 ae
آیزو 639-2 ave
آیزو 639-3 ave
گلوٹولاگ aves1237[1]
کرہ لسانی 58-ABA-a
Bodleian J2 fol 175 Y 28 1.jpg
Yasna 28.1, Ahunavaiti Gatha (Bodleian MS J2)
اس مضمون میں بین الاقوامی اصواتی ابجدیہ کی صوتی علامات شامل ہیں۔ موزوں معاونت کے بغیر آپ کو یونیکوڈ حروف کی بجائے سوالیہ نشان، خانے یا دیگر نشانات نظر آسکتے ہیں۔ بین الاقوامی اصواتی ابجدیہ کی علامات پر ایک تعارفی ہدایت کے لیے معاونت:با ابجدیہ ملاحظہ فرمائیں۔

اوستائی زبان (Avestan language) (تلفظ: /əˈvɛstən/) [2] جسے سابقہ طور پر زند کہا جاتا تھا ایک ایرانی زبان ہے جو زرتشت صحیفوں یعنی اوستا کے لیے استعمال ہوتی تھی، جو اس کی وجہ تسمیہ بھی ہے۔

اوستا ایک قدیم ترین مشرق ایرانی زبان ہے جو اب معدوم ہو چکی ہے اور جس کے متعلق جتنی بھی معلوما ت ہیں وہ زرتشتیوں کتاب اوستا سے معلوم ہوتی ہیں، جس سے اس کا نام بھی ماخوذ ہے۔ اس کا تعل قدیم ہندو اروپائی زبانوں کے خاندان سے ہے اور اس کے قریب ترین زبان ویدی سنسکرت، یعنی قدیم سنسکرت ہے۔ یہ تعلق اتنا قدیم ہے کہ ماسوائے لکھائی اور س کی بجائے ہ تلفظ کے ساتھ، ان دنوں زبانوں میں بے انتہا مماثلت ہے۔ یہ البتہ ہے کہ اوستا کی اخری لکھائی 587 قبل مسیح کے بعد ممکن نہیں رہی جبکہ سنسکرت اج تک لکھی جا رہی ہے اور اس کے بولنے والے بھی موجود ہیں اور یہ نظر اتا ہے کہ دونوں زبانوں کا ماخد ایک ہی زبان ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگرچہ زبانوں میں کم تفاوت ہے لیکن ان زبانوں سے جڑے مذہبی عقائد میں زمین اسمان کا فرق ہے۔ ھندو سنسکرت دیوی دیوتاوں اور مشرکانہ عقائد رکھتے ہیں جبکہ اوستا بولنے والے تقریبا توحید کے قریب ہیں۔ اوستا کے بولنے والے کون تھے اور انہیں کس نام سے پکارہ جاتا تھا، اس کے متعلق بہت کم معلوم ہے۔

وجہ تسمیہ[ترمیم]

اسے اپستاک کی وجہ سے اوستا کہتے ہیں جس سے مراد ہے ٹھوس بنیاد۔

ایرانی زبانوں کے خاندان سے تعلق[ترمیم]

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اوستا قدیم ترین ایرانی زبان سے جس سے بعد میں بالترتیب فارسی باستانی،، فارسی میانہ اور پھر پہلوی فارسی نے ارتقا کی۔ اور اخر مین اس کی کوکھ سے موجودہ فارسی نے جنم لیا۔ اس کا ہلکا سا تعلق قدیم شمالی زبانوں کے ساتھ بھی ہے جیسے ؛ باختری، سوگدین اور خوتاناسی زبانیں لیکن یہ جگہ مزید تحقیق طلب ہے۔ موجودہ دور مین اس کا تعلق اسی، پشتو اور بلوچی سے بھی جوڑا جا سکتا ہے۔ اسے ژند بھی کہا جاسکتا ہے لیکن یہ کہنا درست نہیں کیونکہ یہ اوستا کے بعد کی چیزہے۔ ژند سے مراد ہے گزارش یا ایک طرح کا ترجمعہ اور ان سے مراد اوستا کا پہلوی میں ترجعہ تھا۔ اس کو جب فارسی دری میں دبارہ ترجمعہ کیا گیا تو اسے پا ژند کہا جانے لگا۔

نمونہ عبارت[ترمیم]

لاطینی حروف تہجی
اوستائی حروف تہجی
گجراتی متن
ahiiā. yāsā. nəmaŋhā. ustānazastō.1 rafəδrahiiā.maniiə̄uš.2 mazdā.3 pouruuīm.4 spəṇtahiiā. aṣ̌ā. vīspə̄ṇg.5 š́iiaoϑanā.6vaŋhə̄uš. xratūm.7 manaŋhō. yā. xṣ̌nəuuīṣ̌ā.8 gə̄ušcā. uruuānəm.9:: (du. bār)::ahiiā. yāsā. nəmaŋhā. ustānazastō. rafəδrahiiā.maniiə̄uš. mazdā. pouruuīm. spəṇtahiiā. aṣ̌ā. vīspə̄ṇg. š́iiaoϑanā.vaŋhə̄uš. xratūm. manaŋhō. yā. xṣ̌nəuuīṣ̌ā. gə̄ušcā. uruuānəm.::
Bodleian J2 fol 175 Y 28 1.jpg

અહીઆ। યાસા। નામંગહા। ઉસ્તાનજ઼સ્તો।૧ રફ઼ાધરહીઆ।મનીઆઉસ્̌।૨ મજ઼્દા।૩ પોઉરુઉઈમ્।૪ સ્પાણ્તહીઆ। અષ્̌આ। વીસ્પાણ્ગ્।૫ સ્̌́ઇઇઅઓથઅના।૬વંગહાઉસ્̌। ક્સરતૂમ્।૭ મનંગહો। યા। ક્સષ્̌નાઉઉઈષ્̌આ।૮ ગાઉસ્̌ચા। ઉરુઉઆનામ્।૯:: (દુ। બાર્)::અહીઆ। યાસા। નામંગહા। ઉસ્તાનજ઼સ્તો। રફ઼ાધરહીઆ।મનીઆઉસ્̌। મજ઼્દા। પોઉરુઉઈમ્। સ્પાણ્તહીઆ। અષ્̌આ। વીસ્પાણ્ગ્। સ્̌́ઇઇઅઓથઅના।વવંગહાઉસ્̌। ક્સરતૂમ્। મનંગહો। યા। ક્સષ્̌નાઉઉઈષ્̌આ। ગાઉસ્̌ચા। ઉરુઉઆનામ્।::

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ہرالڈ ہیمر اسٹورم؛ رابرٹ فورکل؛ مارٹن ہاسپلمتھ (ویکی نویس.)۔ "Avestan"۔ گلوٹولاگ 3.0۔ یئنا، جرمنی: میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ فار دی سائنس آف ہیومین ہسٹری۔
  2. John C. Wells، Longman pronunciation dictionary، Harlow, England: Longman، صفحہ 53، آئی ایس بی این 0-582-05383-8 entry "Avestan"