اوستا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

پارسی مذہب کی مقدس کتاب۔ اس کی زبان قدیم پہلوی ایرانی سے ملتی جلتی ہے۔ کہتے ہیں کہ اس کے 21 پارے تھے جو بارہ ہزار چمڑوں پر سنہرے خطوں میں لکھے ہوئے تھے۔ ہنحامنشی فرمان راؤں کے زوال کے بعد ضائع ہوگئی۔ اس وقت فقط ایک مکمل پارہ ، و ندیداد موجود ہے اور باقی چند اجزا ہیں۔

یہ کتاب بہت قدیم ہے۔ اسے کبھی ژند اوستا یا زند اوستا بھی کہا جاتا ہے۔

اوستا کے چار حصے ہیں 1) ایستا جس میں 72 باب ہیں۔ گھتا یعنی مقدس بھجن بھی انھیں میں شامل ہیں۔ 2) ویسپ ید یعنی حمدیں 3) وندیداد جس میں‌طہارت ، ریاضت اور عبادت کے قاعدے قانون درج ہیں۔ 4) یشت یعنی فرشتوں کی مدحیات ، ان کے بارے میں عام عقیدہ یہی ہے کہ یہ زرتشت کا کلام ہے ۔ سکندر اعظم نے 331 ق م ایران فتح کیا تو اوستا کا زیادہ حصہ ضائع ہوگیا۔ ساسانیوں کے عہد میں پراگندہ اوستا کو جمع کیا گیا۔ تو 348 فصلیں مل سکیں۔ جنھیں‌21 کتابوں میں منقسم کیاگیا۔ عربوں اور مغلوں کے حملوں سے اس کا اور حصہ بھی ضائع ہوا۔ اب موجودہ اوستا صرف 83000 الفاظ ہیں۔

این کتاب توسط زرتشت از طرف خدا آورده شده البتہ در دوران ساسانیان بہ آن اضافہ کرده اند کہ کاملا از متن آن به این مهم می توان پی برد