حافظ محمد سعید

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
حافظ محمد سعید
حافظ محمد سعید

معلومات شخصیت
پیدائش 10 مارچ 1950 (68 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
سرگودھا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
رہائش پنجاب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رہائش (P551) ویکی ڈیٹا پر
قومیت پاکستان
مذہب اسلام
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ پنجاب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ سیاست دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان اردو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
تنظیم جماعۃ الدعوۃ
لشکر طیبہ

لشکر طیبہ، جماعت الدعوہ اور مرکز دعوۃ والارشاد کے بانی۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد ان کی سوچ میں انقلابی تبدیلیاں واقع ہوئیں۔ اور انہوں نے ایک مشن کا آغاز کیا۔ اس کے بعد باقاعدہ تنظیم سازی کے بعد انہوں نے سن انیس سو چھیاسی میں ایک ماہانہ میگزین ’الدعوہ‘ کی اشاعت سے کیا۔ اسی وقت مرکز دعوۃ والارشاد کی تشکیل بھی عمل میں آئی۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ اس تنظیم کا کام تبلیغ و فلاح کرنا تھا۔ اس مقصد کے لیے مختلف رسائل اور جرائد کے علاوہ مختلف فلاحی کاموں کا بھی سہارا لیا گیا۔

ان میں سرفہرست تعلیمی اداروں کا قیام تھا۔ مرکز الدعوۃ کے زیراہتمام ملک کے مختلف علاقوں میں مدارس کھولے گئے۔ حافظ سعید نے زیادہ توجہ پنجاب کے دیہات اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر پر مرکوز رکھی۔ یہ بہت ہی عجیب بات تھی کہ انہو نے پنجابی مجاہدین کو سر گرم رکھا-

حافظ سعید نے اپنی سرگرمیوں کا محور لاہور کے نواح میں واقع قصبے مریدکے میں قائم مرکزطیبہ کو بنایا۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

حافظ محمد سعید کی پیدائش 1948 میں اس وقت ہوئی جب ان کا خاندان انڈیا سے ہجرت کرکے پاکستان پہنچا۔ ہجرت کے اس سفر میں ان کے خاندان کے 36 افراد شہید ہوئے۔ خاندان کا کوئی بچہ زندہ نہ رہا۔ حافظ محمد سعید کا بچپن سرگودھا میں گزرا جہاں انہوں نے اپنی والدہ سے قرآن حفظ کیا اور گائوں کے اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ میٹرک کے بعد مزید تعلیم کے لیے اپنے ماموں اور معروف سلفی عالم دین حافظ عبداللہ بہاولپوری کے پاس بہاولپور چلے گئے۔

لشکر طیبہ[ترمیم]

اس دوران بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ایک نئی علیحدگی پسند تحریک نے جنم لیا۔ اب تو جیسے حافظ سعید کی برسوں پرانی خواہش پوری ہو گئی۔ بعض لوگ تو اس امکان کو بھی مسترد نہیں کرتے کہ کشمیر میں آزادی کی نئی تحریک میں حافظ سعید اور ان کے ساتھیوں کا اہم کردار تھا۔

اسی کی دہائی کے ختم ہوتے ہوتے، حافظ سعید نے کشمیر میں جاری تحریک میں باضابطہ طور پر شمولیت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا اور اس مقصد کے لیے عسکریت پسندوں کی بھرتی کا کام شروع کر دیا گیا۔ انیس سو نوے تک ان کے پاس اتنی تعداد میں تربیت یافتہ ہتھیار بند ’جہادی‘ موجود تھے جنکے بل بوتے پر انہوں نے لشکر طیبہ کے نام سے ایک نئی تنظیم کی بنیاد رکھی۔

دیکھتے ہی دیکھتے حافظ محمد سعید کی تنطیم لشکر طیبہ بھارتی کشمیر میں سرگرم عمل عسکری تنظیموں میں ایک مؤثر گروپ کے طور پر سامنے آئی۔ تنظیم کی زیادہ تر رکنیت پاکستانیوں کی تھی۔ یہ سلسلہ دس برس چلتا رہا۔ اس دوران لشکر طیبہ کی عسکری کارروائیاں اتنی زیادہ تعداد میں ہونے لگیں کہ خود حافظ سعید اپنی اصل تنظیم مرکز الدعوۃ کی بجائے لشکر طیبہ کے نام سے پہچانے جانے لگے۔

اور پھر امریکا میں گیارہ سمتبر دو ہزار ایک کے حملے ہو گئے۔

ان حملوں نے پاکستان اور بھارت میں عسکریت پسندی کی تحریکوں کو جیسے ایک نئے دور میں داخل کر دیا اور کچھ گروہوں کو باضابطہ طور پر دہشت گرد قرار دیا گیا۔ کشمیر کے بارے میں پاکستانی اور بھارتی حکومتوں کے درمیان خاموش معاہدے ہوئے جنکے نتیجے میں کشمیر میں عسکری کارروائیوں کا سلسلہ سرد پڑتا چلا گیا۔

جماعت الدعوہ[ترمیم]

لشکر طیبہ اس وقت ایک نئی صورت حال سے دو چار ہوئی جب نومبر دو ہزار ایک میں بھارتی پارلیمنٹ پر ہونے ]] کواس تنظیم کا سربراہ مقرر کر کے اس کے دفاتر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر منتقل کر دیے اور خود ایک بار پھر مرکز الدعوہ کے کاموں میں مصروف ہو گئے۔ لیکن اس تنظیم کا نام انہوں نے بدل کر جماعت الدعوہ رکھ دیا۔ 2008 میں اس تنظیم پر پابندی لگا دی گئی اور حافظ محمد سعید کو نظر بند کر دیا گیا۔

فلاحی انسانیت فاؤنڈیشن[ترمیم]

فلاحی انسانیت فاؤنڈیشن اس وقت سامنے آئی جب جماعت الدعوة پر پابندی لگائی گئی یہ ایک فلاحی جماعت ہے اس کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اس کے مدیر حافظ عبد الرؤف ہیں۔ اس تنظیم نے بہت سے پروجیکٹس بھی ترتیب دیے ہیں، جن میں واٹر پروجیکٹ بھی ہے۔ اس کا کام بلوچستان، سندھ و دیگر ایسے علاقے جہاں سے پانی دور دراز سے لایا جاتا ہے تاکہ ان کے لیے آسانی مہیا ہو۔ اس کی طرف سے ملک بھر میں ہسپتال بھی چل رہے ہیں، جن میں کراچی میں دی ماڈرن، مریدکے میں العزیز، گوجرانوالہ میں اماں عائشہ اور الدعوہ ریسکیو سینٹر سمیت دیگر ہسپتال کام کر رہے ہیں۔ الدعوہ ریسکیو سینٹر دریائے نیلم کے پاس بھی قائم ہے، جس کا کام دریا میں ڈوبنے والوں کو نکالنا ہے۔ اس کے علاوہ میڈیکل کیمپس بھی ہیں، جو فری کیمپنگ کرکے لوگوں کو آسانیاں فراہم کرتے ہیں۔ جیل خانہ جات میں بھی یہ کام کرتے ہیں۔ ملک میں جو بھی وباء پھیلی ہو اس سے بچنے کے لیے فوری طور پر یہ بچوں کو احتیاطی تدابیر فراہم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ عیادت کمیٹی ہے، اس کا کام مریضوں کی عیادت کرنا ہے۔ رمضان میں سحری و افطاری کا اہتمام کرتے ہیں۔ اس تنظیم کی طرف سے لاہور،کراچی اور اسلام آباد میں ریسکیو سینٹر کام کر رہے ہیں۔ یہ تنظیم ہزاروں افراد کو فوری طبّی امداد کی ٹریننگ دے چکی ہے۔ اس تنظیم کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ سلمان شاہد اس تنظیم کے کراچی اور بیرونی ممالک کے ذمّہ دا رہیں۔

حافظ سعید اور پنجابی زبان[ترمیم]

حافظ سعید نے پنجابی کو پاکستان کی قومی زبان بنانے کی بات کی ہے۔ اُنکی مطابق پنجابی پاکستانیوں کی سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے۔،تب بھی اسے قوم زبان نہیں بنایا گیا۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]