سید علی گیلانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

پاکستان کے 73یوم آزاد ی کے موقع پر بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی کو نشانِ پاکستان کا اعزاز دیا گیا۔ یہ اعزاز پاکستان کے صدر عارف علوی نے ایوان صدر میں ایک خصوصی تقریب میں عطا کیا۔ یہ اعزاز اسلام آباد میں حریت رہنماوں نے وصول کیا۔ اسی ماہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے 14 اگست کو بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی کو نشانِ پاکستان دینے کا اعلان کیا تھا۔

29 ستمبر 1929 کو پیدا ہونے والے 88 سالہ سید علی گیلانی مقبوضہ کشمیر پر 72 سال سے جاری بھارتی قبضے کے خلاف جدوجہد کی توانا آواز ہیں۔ سید علی گیلانی اوریئنٹل کالج پنجاب یونیورسٹی کے گریجویٹ بزرگ رہنما سید علی گیلانی نے بھارتی قبضے کے خلاف جدوجہد کا آغاز جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم سے کیا تھا۔

ایوانِ صدر اسلام آباد میں منعقد کی گئی جشنِ آزادی کی مرکزی تقریب میں صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پرچم کشائی کی۔

تقریب میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے علاوہ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی بھی شریک ہوئے۔

پاکستان کا یہ سب سے بڑا اعزاز9 نومبر 1959کو ایرانی بادشاہ محمد رضا شاہ پہلوی کو دیا گیا تھاسید علی شاہ گیلانی  مقبوضہ  کشمیر کے  سیاسی رہنما کا تعلق ضلع بارہ مولہ کے قصبے سوپور سے ہے۔ مقبوضہ  کشمیر کے پاکستان سے الحاق کے حامی ہیں۔بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی جماعت اسلامی جموں و کشمیر کے رکن رہے ہیں جبکہ انہوں نے جدوجہد آزادی کے لیے ایک الگ جماعت "تحریک حریت" بھی بنارکھی ہے جو کل جماعتی حریت کانفرنس کا حصہ ہے۔ بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی معروف عالمی مسلم فورم "رابطہ عالم اسلامی" کے رکن ہیں۔ حریت رہنما یہ رکنیت حاصل کرنے والے پہلے کشمیری حریت رہنماہیں۔ ان سے قبل سید ابو الاعلی مودودی اور سید ابو الحسن علی ندوی جیسی شخصیات برصغیر سے "رابطہ عالم اسلامی" فورم کی رکن رہ چکی ہیں۔ مجاہد آزادی ہونے کے ساتھ ساتھ وہ علم و ادب سے شغف رکھنے والی شخصیت بھی ہیں اور علامہ اقبال کے بہت بڑے مداح ہیں۔ وہ اپنے دور اسیری کی یادداشتیں ایک کتاب کی صورت میں تحریر کرچکے ہیں جس کا نام "روداد قفس" ہے۔ اسی وجہ سے انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ بھارتی جیلوں میں گزارا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

گیلانی (نسب)