جموں و کشمیر میں انسانی حق تلفی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
جموں و کشمیر میں انسانی حق تلفی
مقام جموں و کشمیر
تاریخ جاری ہے
نشانہ سویلین
ہلاکتیں ہزاروں کے
مرتکبین بھارتی فوج

جموں و کشمیر میں انسانی حق تلفی ایک بہت اہم معاملہ ہے جس میں کشمیر کے عوام یا کشمیر کے رہنے والوں کے اجتماعی قتل، زبردستی غائب، عصمت دری، تشدد، بچے سپاہی کے استعمال، سیاسی جبر، اظہار آزادی کا جبر کیے جاتے ہے۔

بھارتی مرکزی ریزرو پولیس فورس اور بارڈر پروٹیکشن پر یہ الزام لگایا ہوا ہے کہ وہ شدید طور پر کشمیر میں انسانی حق تلفی کر رہے ہیں۔[1] یہ الزام کو بھارتی فوج اور دیگر نیم فوجی گروپوں پر بھی لگایا ہوا ہے۔[2]

انسانی حق تلفی کی وجہ سے کشمیر میں تمام عسکریت پسند آزادی تنظیم پیدا ہوئے ہیں۔ لہذا بھارت کی طرف سے جموں و کشمیر میں انسانی حق تلفی کی وجہ سے کشمیری عوام کو آزادی اور خود ارادیت چاہنے لگے۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Hindwan، Sudhir (1998). Verma، Bharat. ed. "Policing the police". Indian Defence Review (Lancer) 13 (2): 95. آئی ایس ایس این 0970-2512. 
  2. Clayton Hartjen؛ S. Priyadarsini (2011)۔ The Global Victimization of Children: Problems and Solutions (اشاعت 2012)۔ Springer۔ صفحہ 106۔ آئی ایس بی این 978-1461421788۔ 
  3. Jim Yardley (27 September 2010)۔ "India Reopens Kashmir’s Schools, but Many Stay Away"۔ نیو یارک ٹائمز۔ اخذ کردہ بتاریخ 7 March 2012۔ 

بیرونی روابط[ترمیم]