2016ء اوڑی حملہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
2016ء اوڑی حملہ
بسلسلہ جموں اور کشمیر میں علیحدگی
مقام اوڑی، ضلع بارہ مولہ، جموں و کشمیر، بھارت
تاریخ 18 ستمبر2016
5.30 صبح (IST)
حملے کی قسم دہشت گردی، ماس شوٹنگ
ہلاکتیں 22 (18 جوان، 4 حملہ آور)[1]
زخمی 19 - 30[2][3]
مرتکبین 4 دہشت گرد
مشتبہ مرتکبین جیش محمد[حوالہ درکار]
دفاع کنندگان بھارتی فوج

2016ء اوڑی حملہ جموں و کشمیر کے اوڑی سیکٹر میں لائن آف کنٹرول کے نزدیک فوج کے ہیڈکوارٹر پر ہوا، ایک دہشت گرد حملہ ہے جس میں 17 بھارتی فوجی ہلاک ہو گئے۔ فوجی دستوں کی جوابی کارروائی میں چاروں حملہ آور مارے گئے۔[4] پچھلے تقریباً 20 سالوں میں بھارتی فوج پر کیا گیا یہ سب سے بڑا حملہ ہے۔ اوڑی حملے میں پاکستان میں موجود دہشت گردوں کا ہاتھ بتایا گیا ہے۔ ان کی منصوبہ بندی کے تحت ہی فوج کے کیمپ پر خودکش حملہ کیا گیا۔ حملہ آوروں سے غیر مسلح اور سوتے ہوئے جوانوں پر تابڑ توڑ فائرنگ کی گئی تاکہ زیادہ سے زیادہ جوانوں کو مارا جا سکے۔[5]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Uri aftermath LIVE: Infiltration bids have increased this year: Army | The Indian Express
  2. Uri terror attack: 17 soldiers killed, 19 injured in strike on Army camp، Times of India, 18 ستمبر 2016.
  3. Uri terror attack: List of jawans who died fighting terrorists، The Indian Express, 18 ستمبر 2016.
  4. اوڑی حملہ: غیر ہتھیار بند جوانوں پر تابڑ توڑ فائرنگ کر افسران میس میں خود کو اڑا لینا چاہتے تھے دہشت گرد
  5. "Militants attack Indian army base in Kashmir 'killing 17'"۔ 18 ستمبر 2016۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 18 ستمبر 2016۔