آسیہ اندرابی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
آسیہ اندرابی
Asiya Andrabi
پیدائش1962[1]
پیشہChairman of Dukhtaran-e-Millat
نسلعربی النسل قبیلہ سید
مادر علمیجامعہ کشمیر
شریک حیاتDr. Qasim Faktoo
اولاد2

آسیہ اندرابی بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی ایک خاتون سیاسی رہنما اور دختران ملت کی بانی لیڈر ہیں [2]۔ وہ کشمیر ی علیحدگی پسند ہیں۔ وہ کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کی حامی ہیں۔ زندگی کا کافی حصہ وہ بھارتی جیلوں میں گزار چکی ہیں۔ آسیہ اندرابی کشمیری خواتین کی تنظیم دختران ملت کی بانی ہیں۔ دختران ملت کشمیر کی بھارت سے علیحدگی کے لیے کام کرنے والی آل پارٹیز حریت کانفرنس کا حصہ ہے، جس کا بنیادی مقصد کشمیر کی بھارت سے علیحدگی ہے [3]۔ آسیہ اندرابی کشمیر علیحدگی پسند خواتین میں سب سے اہم ہیں۔ اُن کے حمایت کرنے والے انھیں آئرن لیڈی کہتے ہیں۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

آسیہ اندرابی 1962 میں پیدا ہوئی [4] ۔ آسیہ اندرابی نے بائیو کیمسٹری میں گریجویشن کیا۔ اور کشمیر یونیورسٹی سے عربی میں پوسٹ گریجویٹ کیا۔ بعد ازاں اس نے کشمیر میں بھارتی قبضہ کے خلاف مزاحمت کو اپنا مقصد بنا لیا، وہ کشمیر میں علیحدگی پسند خواتین میں سب سے نمایاں اور اہم ہیں [5] ۔ آسیہ اندرابی کی شادی 1990 میں کشمیری حریت پسند تنظیم حزب المجاھدین کے بانی رکن قاسم فاکتو سے ہوئی۔ ان کے خاوند 1992 سے جیل میں قید ہیں۔ آسیہ اندرابی پہلے سے ہی کشمیر میں ایک بڑی خواتین جہادی تنظیم کی سربراہ کے طور پر مشہور تھیں۔ وہ اس تنظیم میں شامل خواتین کو 'دختران ملت کی سپاہ' کے نام سے تعبیر کرتی ہیں۔[6] [7] آسیہ اندرابی نے کمشیر کی وادی میں کئی مظاہروں میں حصہ لیا۔ وہ 2010 میں "مسرت عالم" کی ریلی حمایت کرنے کے لیے زیادہ مشہور ہے جس کے لیے اس نے اپنا دختران ملت کا نیٹ ورک کشمیر بھر میں ریلیاں نکالنے کے لیے استعمال کیا [6]۔ ستمبر 2013 میں آسیہ اندرابی کے تین بھتیجے دہشت گردوں سے تعلق رکھنے کے سلسلے میں پاکستان میں پکڑے گئے[حوالہ درکار] ۔

25 مارچ 2015 کو آسیہ نے کشمیر میں پاکستان کا قومی ترانہ گاتے ہوئے پاکستانی پرچم لہرایا [8]۔ بعد ازاں انھوں نے پاکستان کے قومی دن پر سرینگر میں بھی پاکستانی پرچم لہرایا [9]۔ آسیہ اندرابی نے وادی کشمیر کی سیاست میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔ ۔

12 ستمبر 2015 کو حریت پسند رہنما سیدہ آسیہ اندرابی نے ایک گائے ذبح کر کے اس کی ویڈیو جاری کرتے ہوئے جموں و کشمیر میں گائے کا گوشت فروخت کرنے کی پابندی پر احتجاج کیا [10] ۔

28 اگست 2010 کو جموں و کشمیر کی پولیس نے انھیں مبینہ طور پر انڈیا کے خلاف تحریک چلانے اور تشدد پر ابھارنے کے سلسلے میں گرفتار کر لیا [11] [12]۔ 17 ستمبر 2015 کو اس کے خلاف مختلف مقدمات درج کر کے دوبارہ اسے گرفتار کر لیا گیا جن میں پاکستانی پرچم لہرانے اور پاکستان سے ٹیلیفونک رابطے رکھنے کا الزام بھی شامل تھا۔ ذرائع کے مطابق آسیہ اندرابی کو خراب حالت میں سرینگر رام باغ وومین پولیس اسٹیشن بھیجا گیا۔ عدالت نے اس کی ضمانت منظور کر لی لیکن اس کے باوجود اسے پھر سے گرفتار کر لیا گیا اور کشمیریوں نے اس کی گرفتاری پر احتجاج کیا۔

ذاتی زندگی[ترمیم]

آسیہ نے بائیو کیمسٹری میں بی ایس سی کے بعد کشمیر یونیورسٹی سے عربی میں پوسٹ گریجویشن کر رکھی ہے [6] [13]۔ 1990 میں آسیہ نے عاشق حسین فاکتو سے شادی کی۔ 2015 میں آسیہ کے شوہر ڈاکٹر فاکتو کو جیل میں قید ہوئے 23 برس ہو چکے ہیں [6]۔

اس نے اپنے شوہر کے ساتھ صرف دو برس گزارے۔

ان کا چھوٹا بیٹا احمد بن قاسم سرینگر میں طالب علم ہے جبکہ بڑا بیٹا محمد بن قاسم آسیہ اندرابی کی بڑی بہن کے ساتھ ملائیشیا میں رہائش پزیر ہے۔ وہ اپنی یونیورسٹی کی کرکٹ ٹیم کا کپتان بھی ہے۔

آسیہ کے زیادہ تر رشتہ دار پاکستان، سعودی عرب، انگلینڈ اور ملائیشیا میں منتقل ہو گئے ہیں۔اس کا ایک بھتیجا ذوالقرنین پاکستانی فوج میں کپتان ہے، دوسرا بھتیجا ارتیاض النبی ایروناٹیکل انجینئر اور بین الاقوامی اسلامیہ یونیورسٹی اسلام آباد میں لیکچرار ہے۔ [14] [15] [16]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Inside Kashmir's New Islamist movement". The Hindu. 19 اگست 2010. 24 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 25 اگست 2016. 
  2. Rasool، Khurram (15 January 2013). "The woman we don't know". Kashmirreader.com. 21 جنوری 2013 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 24 جولا‎ئی 2013. 
  3. "Life and times of Asiya Andrabi – PKKH.tv". 11 March 2014. اخذ شدہ بتاریخ 25 اگست 2016. 
  4. "Inside Kashmir's New Islamist movement". The Hindu. 19 August 2010. اخذ شدہ بتاریخ 25 اگست 2016. 
  5. http://www.kashmirlit.org/asiya-andrabi-a-lifetime-of-fighting-for-freedom/
  6. ^ ا ب پ ت "For the first family of militancy, a troubled road – Times of India". اخذ شدہ بتاریخ 25 اگست 2016. 
  7. "Dr Qasim Faktoo completes 22 yrs in incarceration". Greater Kashmir. 02 اپریل 2015 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 24 مارچ 2015. 
  8. TIMES NOW (24 March 2015). "I Hoisted Pakistan Flag & Sung Pakistani National Anthem – Asiya Andrabi". اخذ شدہ بتاریخ 25 اگست 2016 – YouTube سے. 
  9. "J&K: Separatist Asiya Andrabi booked for unfurling Pakistan flag on its national day in Srinagar". 25 March 2015. 07 مئی 2015 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 25 اگست 2016. 
  10. "Hurriyat leader Asiya slaughters cow to defy ban in Srinagar". اخذ شدہ بتاریخ 25 اگست 2016. 
  11. "Dukhtaran-e-Milat chief Asiya Andrabi, two others taken into NIA custody - Times of India". The Times of India. اخذ شدہ بتاریخ 06 جولا‎ئی 2018. 
  12. "NIA arrests Dukhtaran-e-Millat chief Asiya Andrabi, 2 aides in sedition case". India Today (بزبان انگریزی). اخذ شدہ بتاریخ 06 جولا‎ئی 2018. 
  13. "Life and times of Asiya Andrabi". Rahiba R Parveen. Pakistan Ka Khuda Hafiz(Policy Institute of Pakistan). 11 March 2014. اخذ شدہ بتاریخ 03 اپریل 2015. 
  14. "Asiya Andrabi meets Pak PM's adviser, seeks release of nephews – The Times of India". اخذ شدہ بتاریخ 25 اگست 2016. [مردہ ربط]
  15. "Asiya Andrabi's 3 nephews arrested in Pakistan for "terror links"". 11 September 2013. اخذ شدہ بتاریخ 25 اگست 2016 – The Hindu سے. 
  16. "Asiya Andrabi held in Srinagar – The Times of India". اخذ شدہ بتاریخ 25 اگست 2016. [مردہ ربط]