ذوالفقار علی بھٹو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(ذولفقار علی بھٹو سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
ذوالفقار علی بھٹو
Zulfiqar ali bhutto.jpg 

مناصب
وزیر خارجہ پاکستان   ویکی ڈیٹا پر منصب (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دفتر میں
15 جون 1963  – 31 اگست 1966 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png محمد علی بوگرہ 
شریف الدین پیرزادہ  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
Flag of the President of Pakistan.svg صدر پاکستان   ویکی ڈیٹا پر منصب (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دفتر میں
20 دسمبر 1971  – 13 اگست 1973 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png یحییٰ خان 
فضل الہی چوہدری  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
مکلم ایوان زیریں پاکستان   ویکی ڈیٹا پر منصب (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دفتر میں
14 اپریل 1972  – 15 اگست 1972 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png عبد الجبار خان 
فضل الہی چوہدری  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
Flag of the Prime Minister of Pakistan.svg وزیر اعظم پاکستان   ویکی ڈیٹا پر منصب (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دفتر میں
14 اگست 1973  – 5 جولا‎ئی 1977 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png نور الامین 
محمد خان جونیجو  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش 5 جنوری 1928[1][2][3]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لاڑکانہ  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 4 اپریل 1979 (51 سال)[1][2][3]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
راولپنڈی  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجۂ وفات پھانسی  ویکی ڈیٹا پر وجۂ وفات (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن مزار قائد عوام  ویکی ڈیٹا پر مقام دفن (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات سزائے موت  ویکی ڈیٹا پر طرزِ موت (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت پاکستان پیپلز پارٹی  ویکی ڈیٹا پر سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زوجہ نصرت بھٹو  ویکی ڈیٹا پر شریک حیات (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد بینظیر بھٹو، مرتضیٰ بھٹو، صنم بھٹو، شاہنواز بھٹو  ویکی ڈیٹا پر اولاد (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد شاہ نواز بھٹو  ویکی ڈیٹا پر والد (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
خاندان بھٹو خاندان  ویکی ڈیٹا پر خاندان (P53) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ جنوبی کیلیفونیا
کرائسٹ چرچ
جامعہ کیلیفورنیا، برکلے
سٹی لا کالج  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سیاست دان[4]، سفارت کار، وکیل  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو، انگریزی[5]  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
الزام
جرم قتل  ویکی ڈیٹا پر جرم (P1399) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ذو الفقار علی بھٹو پاکستان سابق وزیر اعظم لاڑکانہ سندھ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سر شاہ نواز بھٹو مشیر اعلیٰ حکومت بمبئی اور جوناگڑھ کی مسلم ریاست میں دیوان تھے۔ پاکستان میں آپ کو قائدِعوام‎ یعنی عوام کا رہبر اور بابائے آئینِ پاکستان بھی کہا جاتا ہے۔ آپ پاکستان کی تاریخ کے مقبول ترین وزیر اعظم تھے۔

ذو الفقار علی بھٹو نے 1950 میں برکلے یونیورسٹی کیلیفورنیا سے سیاسیات میں گریجویشن کی۔ 1952ء میں آکسفورڈ یونیورسٹی سے اصول قانون میں ماسٹر کی ڈگری لی۔ اسی سال مڈل ٹمپل لندن سے بیرسٹری کا امتحان پاس کیا۔ پہلے ایشیائی تھے جنھیں انگلستان کی ایک یونیورسٹی ’’ساؤ تھمپئین‘‘ میں بین الاقوامی قانون کا استاد مقرر کیا گیا۔ کچھ عرصہ مسلم لا کالج کراچی میں دستوری قانون کے لیکچرر رہے۔ 1953ء میں سندھ ہائی کورٹ میں وکالت شروع کی۔

1958ء تا 1960ء صدر ایوب خان کی کابینہ میں وزیر تجارت، 1960ء تا 1962ء وزیر اقلیتی امور، قومی تعمیر نو اور اطلاعات، 1962ء تا 1965ء وزیر صنعت و قدرتی وسائل اور امور کشمیر جون 1963ء تا جون 1966ء وزیر خارجہ رہے۔ دسمبر 1967ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔ 1970ء کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی نے مغربی پاکستان میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ دسمبر 1971ء میں جنرل یحیٰی خان نے پاکستان کی عنان حکومت مسٹر بھٹو کو سونپ دی۔ وہ دسمبر 1971ء تا 13 اگست 1973 صدر مملکت کے عہدے پر فائز رہے۔ 14 اگست 1973ء کو نئے آئین کے تحت وزیراعظم کا حلف اٹھایا۔

1977ء کے عام انتخابات میں دھاندلیوں کے سبب ملک میں خانہ جنگی کی سی کیفیت پیدا ہو گئی۔ 5 جولائی 1977ء کو جنرل محمد ضیا الحق نے مارشل لا نافذ کر دیا۔ ستمبر 1977ء میں مسٹر بھٹو نواب محمد احمد خاں کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیے گئے۔ 18 مارچ 1978ء کو ہائی کورٹ نے انھیں سزائے موت کا حکم سنایا۔ 6 فروری 1979ء کو سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کی توثیق کر دی۔ 4 اپریل کو انھیں راولپنڈی جیل میں پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔

وراثت اور تاریخی نظر[ترمیم]

ذیڈ اے بھٹو کی وراثت آئین پاکستان ہے۔ پاکستان میں بھٹو کا احترام و اہمیت ویسی ہی رہے گی جیسے بھارت میں جواہر لعل نہرو کی ہے۔ استحکام پاکستان میں بھٹو کی اہمیت ایک تاریخی حیثیت رکھتی ہے اور اس کے سحر سے بچنا ممکن نہیں۔ چئیرمین بھٹو پاکستان ایٹمی طاقت کے معمار ہیں۔

ہنری کیسنگر کی دھمکی[ترمیم]

یکم جنوری 1974ء کو ذو الفقار علی بھٹو نے پاکستان کے بینکوں کو نیشنالائز کر لیا[6] جسے عالمی بینکار کنٹرول کرتے تھے۔ عالمی بینکاروں کو للکارنے کی وجہ سے بھٹو کو 4 اپریل 1979ء کو پھانسی کے پھندے پر اپنی جان سے ہاتھ دھونے پڑے۔

"پھر ہم تمہیں ایک دہشتناک مثال بنا دیں گے" ہینری کیسنگر
"Then we will make a horrible example of you!" (Henry Kissinger-1976)[7]

آپ کے متعلق شعرا کی آراء[ترمیم]

دیا تھا صبح مسرت نے اک چراغ ہمیں
اسی کو تم نے سر شام کھو دیا لوگو[8]
  • آغا شورش کاشمیری جناب بھٹو شہید کے بدترین نقادوں میں سے تھے لیکن بھٹو نے جرأت کرتے ہوئے قادیانیوں کو جب غیر مسلم اقلیت قرار دیا تو شورش کاشمیری نے ذو الفقار علی بھٹو کو جنتی قرار دیتے ہوئے کہا تھا:
ناموس مصطفٰی کے نگہہ دار زندہ باد
میر اُمم کے غاثیہ بردار زندہ باد!
نوے برس کا ایک قضیہ کیا ہے طے
بادہ گسار احمد مختار زندہ باد
سرکر لیا ہے ختم نبوت کا معرکہ
زندہ دلان لشکر احرار زندہ بار
جھکتا نہیں ہے پرچم دین ہدیٰ کبھی
رکتی نہیں ہے دین کی للکار زندہ باد
ازبسکہ ذوالفقار علی بے نیام ہے
خنجر ہوا ہے قافلہ سالار زندہ باد
اہل وفا کے دل میں پیمبر کی ہے لگن
اہل وفا کے عشق کی رفتار زندہ باد
برطانوی نژاد نبوت کا ارتحال
نرغے میں آ گئے ہیں سیہ کار زندہ باد
بھٹو کا نام زندہ جاوید ہوگیا
شورش شکست کھا گئے اشرار زندہ باد[9]
علی کی ذوالفقار تھا، وطن کا افتخار تھا
وہ زندگی کے گلستان میں بے خزاں بہار تھا
وہ راہنمائے مملکت، وطن کا تاجدار تھا
سر عدو کے واسطے وہ تیغ بے نیام تھا
وہ قائد عوام تھا، وہ قائد عوام تھا
وہ ہنس پڑا تو کھل اٹھی کلی کلی، کرن کرن
کہ اس کے دم سے بن گئی گلی گلی چمن چمن
بنا رہا تھا دیس کو ارم ارم، عدن، عدن
وہ شیر دل جوان تھا، وہ مرد نیک نام تھا
وہ قائد عوام تھا، وہ قائد عوام تھا
وہ ولولوں کا تاجور وہ حوصلوں کا ترجماں
وہ دشمنوں کے واسطے تھا اک برق بے اناں
وہ منزلوں کی جستجو میں ہر گھڑی رواں دواں
کہ اس کے فکر آہنی کی زد میں صبح و شام تھا
وہ قائد عوام تھا، وہ قائد عوام تھا
جگر میں درد قوم کا نظر میں مسکراہٹیں
وہ سن رہا ہے روح زندگی کی سرسراہٹیں
وہ گن رہا ہے وقت کے ہر وقت کی آہٹیں
کہ اس کے دل میں قوم کا عجیب احترام تھا
وہ قائد عوام تھا، وہ قائد عوام تھا

بھٹو کیس ری ٹرائل[ترمیم]

بھٹو کی پھانسی کے 32 سال بعد پی پی پی کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری کے ریفرنس پر سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت شروع کرتے ہوئے لارجر بینج تشکیل دینے کا حکم دیا ہے۔

منسوب ادارے[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12029242h — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. ^ ا ب فائنڈ اے گریو میموریل شناخت کنندہ: https://www.findagrave.com/cgi-bin/fg.cgi?page=gr&GRid=11724172 — بنام: Zulifikar Ali Bhutto — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  3. ^ ا ب Brockhaus Enzyklopädie online ID: https://brockhaus.de/ecs/enzy/article/bhutto-zulfikar-ali — بنام: Zulfikar Ali Bhutto — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  4. اجازت نامہ: CC0
  5. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12029242h — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  6. Kazim Alam
  7. BUSINESS RECORDER
  8. قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو__اختر سردار چودھری، قلم کار پاکستان
  9. قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو ۔۔صدیوں کا بیٹا، نوائے وقت پاکستان
سیاسی عہدے
ماقبل 
محمد علی بوگرہ
وزیر خارجہ پاکستان
1963–1966
مابعد 
شریف الدین پیرزادہ
ماقبل 
یحیٰی خان
صدر پاکستان
1971–1973
مابعد 
فضل الٰہی چوہدری
ماقبل 
یحیٰی خان
وزیر خارجہ پاکستان
1971–1977
مابعد 
عزیز احمد
ماقبل 
یحیٰی خان
وزیر دفاع پاکستان
1971–1977
مابعد 
محمد ضیاء الحق
ماقبل 
سردار عبدالرشید خان
وزیر داخلہ پاکستان
1971–1972
مابعد 
عبد القیوم خان
ماقبل 
عبدالجبار خان
سپیکر قومی اسمبلی
1972–1973
مابعد 
فضل الٰہی چوہدری
ماقبل 
نورالامین
وزیراعظم پاکستان
1973–1977
مابعد 
محمد خان جونیجو
ماقبل 
عبد القیوم خان
وزیر داخلہ پاکستان
1977
مابعد 
انعام الحق خان
سیاسی جماعتوں کے عہدے
ماقبل 
نیا عہدہ تخلیق ہوا
چئیرمین پاکستان پیپلز پارٹی
1967–1979
مابعد 
نصرت بھٹو