کوثر نیازی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
کوثر نیازی
وزارت مذہبی امور
مدت منصب
14 اگست 1973ء – 5 جولائی 1977 ء
صدر فضل الہی چوہدری
وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 1934  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 1994 (59–60 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اسلام آباد  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت پاکستان پیپلز پارٹی  ویکی ڈیٹا پر سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

کوثر نیازی سیاست دان، عالم دین، شاعر، ادیب، صحافی، مقرر اور دانشور تھے۔

نام[ترمیم]

پیدائشی نام محمد حیات خان جنہیں عام طور پر مولانا کوثر نیازی کے طور پر جانا جاتا ہے۔

پیدائش[ترمیم]

ان کا جنم 1934ء موسی خیل گاؤں،پنجاب میں ہوا۔ ان کے والد فتح خان نیازی لیق خیل اور چچا مظفر خان نیازی لیق خیل اس علاقے کے معروف افراد میں سے تھے۔ وہ ایک مذہبی اسکالر اور مقرر تھے اور انہوں نے سیاست میں اپنا نام بنایا تھا ۔

وفاقی وزیر[ترمیم]

ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ایک پاکستانی سیاست دان اور مذہبی رہنما تھے۔ نیازی، بھٹو کی وزارت عظمی کے کابینہ میں،1974ء سے 1977ء کے دوران پاکستان میں سب سے زیادہ طاقتور وفاقی وزیر تھے۔ نیازی بھٹو کے قریبی مددگاروں میں سے ایک تھے اور بھٹو کا مکمل اعتماد جو موت تک بھٹو کے وفادار رہے۔ بھٹو کے فیڈرل کیبینٹ کے ارکان بھی تھے- ایک وزیر کی حیثیت سے انھوں نے خدمات انجام دیں اور 6 سال تک بھٹو کے مددگار بھی رہے۔ وہ پاکستان ممبر پارٹی کے رکن بھی رہ چکے تھے۔ انہوں نے 1976ء تک مذہبی اور اقلیتی امور کے وزیر کے طور پر خدمات انجام دیں اور اس کے بعد انہیں وفاقی وزیر اطلاعات مقرر کیا گیا تھا۔ مولانا کوثر نیازی کا کہنا ہے کہ ضیاء الحق نے ذو الفقار علی بھٹو کو معزول اور بالآخر تباہ کر دیا تھے۔ اس کے بعد کے سالوں میں، مولانا کوثر نیازی کو محترمہ بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت کے دوران اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین کے طور پر خدمت کرنے کے لیے نامزد کیا گیا تھا ۔

ہفت روزہ شہاب[ترمیم]

کوثر نیازی نے ہفت روزہ ’’شہاب‘‘ کا اجرا کیا اس کا دفتر داتا دربار مارکیٹ میں تھا۔

وفات[ترمیم]

1994ء میں وفات پائی۔

حوالہ جات[ترمیم]