سرن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
یورپین آرگنائزیشن
فور نیوکلیئر ریسرچ
Organisation européenne
pour la recherche nucléaire
فائل:CERN official logo.jpg
CERN member states .svg
رکن ممالک
قیامستمبر 29، 1954؛ 66 سال قبل (1954-09-29)[1]
صدر دفاترMeyrin، کینٹن جنیوا، سویٹزرلینڈ
ارکان
باضابطہ زبانs
انگریزی اور فرانسیسی
صدر کونسل
Sijbrand de Jong[2]
Fabiola Gianotti
ویب سائٹhome.cern

یورپی ادارہ برائے جوہری تحقیق (انگریزی: یورپین آرگنائزیشن فور نیوکلیئر ریسرچ، فرانسیسی: Organisation européenne pour la recherche nucléaire) جس کا مخفف سرن ہے اور اسی نام سے مشہور ہے، یورپ کا ایک تحقیقی ادارہ ہے جس نے 1954ء سے جنیوا میں ذراتی طبیعیات کی سب سے بڑی تجربہ گاہ قائم کی۔ یہ تجربہ گاہ جنیوا کے شمال مغربی مضافاتی علاقے میں فرانس سوئس سرحد پر قائم ہے۔(46°14′3″N 6°3′19″E / 46.23417°N 6.05528°E / 46.23417; 6.05528) اس وقت اس کے 21 رکن ممالک ہیں۔[3] اسرائیل پہلا (اور اب تک کا واحد) غیر یورپی ملک ہے، جسے مکمل رکنیت دی گئی ہے۔[4] جب کہ پاکستان اور ترکی معاون رکن ہیں۔

عام طور پر سرن کی اصطلاح اس تجربہ گاہ کے لیے استعمال کی جاتی ہے جس میں 2013ء تک 608 جامعات و تحقیقی اداروں کا،[5] 2،513 افراد پر مشتمل عملہ، 12,313 معاونین عملہ، شاگرد، مہمان سائنسدان اور انجینئرز شریک ہو چکے تھے۔[6]


CERN Control Center


تعارف[ترمیم]

"سرن تاریخ کا سب سے بڑا انسانی معجزہ ہے‘ آپ اگر انسانی کوششوں کی معراج دیکھنا چاہتے ہیں تو آپ زندگی میں ایک بار سرن ضرور جائیں‘ آپ حیران رہ جائیں گے لیکن سرن ہے کیا؟ ہمیں یہ جاننے سے قبل کائنات کے چند بڑے حقائق جاننا ہوں گے۔

ہماری کائنات 13ارب 80 کروڑ سال پرانی ہے‘ زمین کو تشکیل پائے ہوئے پانچ ارب سال ہو چکے ہیں‘ ہماری کائنات نے ایک خوفناک دھماکے سے جنم لیا تھا‘ یہ دھماکہ بگ بینگ کہلاتا ہے‘ بگ بینگ کے بعد کائنات میں 350ارب بڑی اور 720 ارب چھوٹی کہکشائیں پیدا ہوئیں‘ ہر کہکشاں میں زمین سے کئی گنا بڑے اربوں سیارے اور کھربوں ستارے موجود ہیں‘ یہ کائنات ابھی تک پھیل رہی ہے‘ یہ کہاں تک جائے گی‘ یہ کتنی بڑی ہے اور اس میں کتنے بھید چھپے ہیں ہم انسان تمام تر سائنسی ترقی کے باوجود اس کا صرف 4فیصد جانتے ہیں‘ کائنات کے96فیصد راز تاحال ہمارے احاطہ شعور سے باہرہیں۔

یہ96 فیصد نامعلوم بھی دو حصوں میں تقسیم ہیں‘ 44فیصد حصہ وہ ہے جس کے بارے میں ہم یہ جانتے ہیں کہ ہم اسے نہیں جانتے‘ سائنس دان اس 44 فیصد حصے کو ’’ڈارک میٹر‘‘ کہتے ہیں‘ یہ ڈارک میٹر سپر انرجی ہے‘ ہمارا سورج اس انرجی کے سامنے صحرا میں ذرے کے برابر ہے‘ سائنس دان کائنات کے باقی 52 فیصد نامعلوم کے بارے میں کہتے ہیں ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ ہم اسے نہیں جانتے‘ ہمیں کائنات کو سمجھنے کے لیے اس کی بنیاد سمجھنا ہو گی۔

یہ جاننا ضروری ہے بگ بینگ کیسے اور کیوں ہوا تھا اور اس کے فوری بعد کیا ہوا تھا جس سے کائنات نے جنم لیا ‘ انسان کے پاس یہ حقیقت جاننے کے لیے دو طریقے ہیں‘ ہم کوئی ایسی ٹائم مشین بنائیں جو ہمیں 13ارب 80 کروڑ سال پیچھے اس وقت میں لے جائے جب بگ بینگ ہوا اور کائنات وجود میں آنے لگی‘ یہ ظاہر ہے ممکن نہیں‘ دوسرا طریقہ ‘سائنس دان لیبارٹری میں ’’بگ بینگ‘‘ کریں اور کائنات کی پیدائش کے پورے عمل کا مشاہدہ کر لیں‘ یہ طریقہ مشکل ہے لیکن ناممکن نہیں چنانچہ سائنس دانوں نے 1952ء میں اس پر کام شروع کر دیا۔

اس نادر کام کے لیے جنیواکے مضافات میں فرنے میں جگہ تلاش کی گئی اور سوئٹزرلینڈ اور فرانس دونوں نے مل کر لیبارٹری بنانا شروع کر دی‘ یہ لیبارٹری سرن کہلاتی ہے‘ یہ کام دو ملکوں اور چند سو سائنس دانوں کے بس کی بات نہیں تھی چنانچہ آہستہ آہستہ دنیا کے 38 ممالک کی 177 یونیورسٹیاں اور فزکس کے تین ہزار پروفیسر اس منصوبے میں شامل ہو گئے‘سائنس دانوں نے پہلے حصے میں زمین سے 100 میٹر نیچے 27کلو میٹر لمبی دھاتی سرنگ بنائی۔

اس سرنگ میں ایسے مقناطیس اتارے گئے جو کشش ثقل سے لاکھ گنا طاقتور ہیں‘ مقناطیس کے اس فیلڈ کے درمیان دھات کا 21 میٹر اونچا اور 14 ہزار ٹن وزنی چیمبر بنایا گیا‘ یہ چیمبر کتنا بھاری ہے آپ اس کا اندازہ آئفل ٹاور سے لگا لیجیے‘ دنیا کے سب سے بڑے دھاتی اسٹرکچر کا وزن 7 ہزار تین سوٹن ہے‘ سرن کا چیمبر اس سے دگنا بھاری ہے‘ اس چیمبر کا ایک حصہ پاکستان کے ہیوی مکینیکل کمپلیکس میں بنا اور اس پر باقاعدہ پاکستان کا جھنڈا چھاپا گیا‘ سائنس دانوں کے اس عمل میں چالیس سال لگ گئے‘ یہ چالیس سال بھی ایک عجیب تاریخ ہیں۔

ملکوں کے درمیان اس دوران عداوتیں بھی رہیں اور جنگیں بھی ہوئیں لیکن سائنس دان دشمنی‘ عداوت‘ مذہب اور نسل سے بالاتر ہو کر سرن میں کام کرتے رہے‘ یہ دن رات اس کام میں مگن رہے‘ سائنس دانوں کے اس انہماک سے بے شمار نئی ایجادات سامنے آئیں مثلاً انٹرنیٹ سرن میں ایجاد ہوا تھا‘ سائنس دانوں کوآپس میں رابطے اور معلومات کے تبادلے میں مشکل پیش آ رہی تھی چنانچہ سرن کے ایک برطانوی سائنس دان ٹم برنرزلی نے 1989ء میں انٹرنیٹ ایجاد کر لیا یوں www(ورلڈ وائیڈ ویب) سرن میں ’’پیدا‘‘ ہوا اور اس نے پوری دنیا کو جوڑ دیا۔

سٹی اسکین اور ایم آر آئی بھی اسی تجربے کے دوران ایجاد ہوئی ‘ سرن میں اس وقت بھی ایسے سسٹم بن رہے ہیں جو اندھوں کو بینائی لوٹا دیں گے‘ ایک چھوٹی سی چپ میں پورے شہر کی آوازیں تمام ڈیٹیلز کے ساتھ ریکارڈ ہو جائیں گی‘ ایک ایسا سپرالٹرا ساؤنڈ بھی مارکیٹ میں آرہا ہے جو موجودہ الٹرا ساؤنڈ سے ہزار گنا بہتر ہوگا ‘ ایک ایسا لیزر بھی ایجاد ہو چکا ہے جو غیر ضروری ٹشوز کو چھیڑے بغیر صرف اس ٹشو تک پہنچے گا جس کا علاج ہو نا ہے‘ ایک ایسا سسٹم بھی سامنے آ جائے گا جو پورے ملک کی بجلی اسٹور کر لے گا اور سرن کا گرڈ کمپیوٹر بھی عنقریب مارکیٹ ہو جائے گا‘ یہ کمپیوٹر پوری دنیا کا ڈیٹا جمع کرلے گا۔

یہ تمام ایجادات سرن میں ہوئیں اور یہ اس بنیادی کام کی ضمنی پیداوار ہیں‘ سرن کے سائنس دان اس ٹنل میں مختلف عناصر کو روشنی کی رفتار (ایک لاکھ 86 ہزار میل فی سیکنڈ) سے لگ بھگ اسپیڈ سے ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں اور پھر تبدیلی کا مشاہدہ کرتے ہیں‘ یہ عناصر ایٹم سے اربوں گنا چھوٹے ہوتے ہیں‘ یہ دنیا کی کسی مائیکرو اسکوپ میں دکھائی نہیں دیتے‘ سائنس دانوں نے 2013ء میں تجربے کے دوران ایک ایسا عنصر دریافت کر لیا جو تمام عناصر کو توانائی فراہم کرتا ہے‘ یہ عنصر ’’گاڈ پارٹیکل‘‘ کہلایا‘ اس دریافت پر دو سائنس دانوں پیٹر ہگس اور فرینکوئس اینگلرٹ کونوبل انعام دیا گیا‘ یہ دنیا کی آج تک کی دریافتوں میں سب سے بڑی دریافت ہے۔

سائنس دانوں کا خیال ہے مادے کی اس دنیا کا آدھا حصہ غیر مادی ہے‘ یہ غیر مادی دنیا ہماری دنیا میں توانائی کا ماخذ ہے‘ یہ لوگ اس غیر مادی دنیا کو ’’اینٹی میٹر‘‘ کہتے ہیں‘یہ اینٹی میٹر پیدا ہوتا ہے‘کائنات کو توانائی دیتا ہے اور سیکنڈ کے اربوں حصے میں فنا ہو جاتا ہے‘ سرن کے سائنس دانوں نے چند ماہ قبل اینٹی میٹر کو 17 منٹ تک قابو رکھا ‘ یہ کسی معجزے سے کم نہیں تھا‘ یہ لوگ اگر ’’اینٹی میٹر‘‘ کو لمبے عرصے کے لیے قابو کر لیتے ہیں تو پھر پوری دنیا کی توانائی کی ضرورت چند سیکنڈز میں پوری ہو جائے گی‘ دنیا کو بجلی اور پٹرول کی ضرورت نہیں رہے گی‘سرن ایک انتہائی مشکل اورمہنگا براجیکٹ ہے اور سائنس دان یہ مشکل کام پچھلے 68سال سے کر رہے ہیں۔[7]

شمولیت اور مالی امداد[ترمیم]

شریک ممالک اور بجٹ[ترمیم]

Member states of CERN and current enlargement agenda
  CERN full members
  Accession in progress
  Associate members and Candidate for Accession

1954ء میں سرن کے قیام کے وقت صرف 12 ممالک اس کے رکن تھے، سرن باقاعدگی سے نئے اراکین کو قبول کرتا رہا ہے۔ تمام نئے اراکین اپنے الحاق کے بعد مسلسل تنظیم میں رہے ہیں، سوائے ہسپانیا (اسپین) اور یوگوسلاویہ کے۔ ہسپانیا پہلی بار 1961ء میں شامل ہوا، اور 1969ء میں نکل گیا، 1983ء میں دوبارہ شمولیت اختیار کی۔ یوگوسلاویہ 12 بانی اراکین میں سے تھا لیکن 1961ء میں نکل گیا۔اسرائیل 6 جنوری 2014ء سے مکمل رکن ہے۔[8] پہلا (اور اب تک کا واحد) غیر یورپی ملک۔[9]

رکن ممالک حیثیت از شراکت
(ملین سی ایچ ایف از 2014)
شراکت
(کل حصہ کے لیے 2014)
Contribution per capita[note 1]
(CHF/person for 2014)
بانی ارکان[note 2]
Flag of Belgium (civil).svg بلجئیم 29 ستمبر 1954 30.5 2.5% 2.7
Flag of Denmark.svg ڈنمارک 29 ستمبر 1954 19.3 1.6% 3.4
Flag of France.svg فرانس 29 ستمبر 1954 169.2 14.0% 2.6
Flag of Germany.svg جرمنی 29 ستمبر 1954 222.9 18.5% 2.8
Flag of Greece.svg یونان 29 ستمبر 1954 18.0 1.5% 1.6
Flag of Italy.svg اطالیہ 29 ستمبر 1954 126.2 10.5% 2.1
Flag of the Netherlands.svg نیدرلینڈز 29 ستمبر 1954 50.6 4.2% 3.0
Flag of Norway.svg ناروے 29 ستمبر 1954 28.0 2.3% 5.4
Flag of Sweden.svg سویڈن 29 ستمبر 1954 28.7 2.4% 3.0
 سوئٹزرلینڈ 29 ستمبر 1954 40.0 3.3% 4.9
Flag of the United Kingdom.svg مملکت متحدہ 29 ستمبر 1954 152.6 12.7% 2.4
Flag of Yugoslavia (1946-1992).svg یوگوسلاویہ 29 ستمبر 1954[13][14] 0 0% 0
منظور اراکین[note 3]
Flag of Austria.svg آسٹریا 1 جون 1959 24.4 2.0% 2.9
Flag of Spain.svg ہسپانیہ 1 جنوری 1983[14][16] 91.1 7.6% 2.0
Flag of Portugal.svg پرتگال 1 جنوری 1986 13.2 1.1% 1.3
Flag of Finland.svg فن لینڈ 1 جنوری 1991 15.3 1.3% 2.8
Flag of Poland.svg پولینڈ 1 جولائی 1991 29.3 2.4% 0.8
Flag of Hungary.svg مجارستان 1 جولائی 1992 7.1 0.6% 0.7
Flag of the Czech Republic.svg چیک جمہوریہ 1 جولائی 1993 11.3 0.9% 1.1
Flag of Slovakia.svg سلوواکیہ 1 جولائی 1993 5.5 0.5% 1.0
Flag of Bulgaria.svg بلغاریہ 11 جولائی 1999 3.1 0.3% 0.4
Flag of Israel.svg اسرائیل 6 جنوری 2014[8] 22.1 1.8% 2.7
رکنیت کے لیے پہلے مرحلے میں ایسوسی ایٹ اراکین[note 4]
Flag of Serbia.svg سربیا 15 مارچ 2012[17] 1.0 0.1% 0.1
ایسوسی ایٹ ارکان
Flag of Turkey.svg ترکی 6 مئی 2015[18] %
Flag of Pakistan.svg پاکستان 31 جولائی 2015[19] %
شمولیت کے لیے امیدوار
Flag of Romania.svg رومانیہ 11 فروری 2010[20] 7.9 0.7% 0.4
zaاراکین کی تعداد، امیدوار اور ایسوسی ایٹ 1,117.3[21] 92.8%
  1. Based on the population in 2014.[10]
  2. 12 founding members drafted the Convention for the Establishment of a European Organization for Nuclear Research which entered into force on 29 ستمبر 1954.[11][12]
  3. Acceded members become CERN member states by ratifying the CERN convention.[15]
  4. Additional contribution from Candidates for Accession and Associate Member States.[15]

توسیع[ترمیم]

ایسوسی ایٹ ارکان، امیدوار:

  • Flag of Turkey.svg ترکی نے 12 مئی 2014ء کو ایسوسی ایٹ رکنیت کے معاہدے پر دستخط کیے۔[22]
  • Flag of Pakistan.svg پاکستان نے 19 دسمبر 2014ء کو ایسوسی ایٹ رکنیت کے معاہدے پر دستخط کیے۔[23][24][25]

بین الاقوامی تعلقات[ترمیم]

A world map highlighting the nature of relations of nations with CERN.
  CERN member states: 21 c.
  Accession in progress: 2 c.
  Associate members and Candidates: 4 c.
  Observers: 4 c. + EU + UNESCO + JINR
  Cooperation agreement: 35 c. + Slovenia, Cyprus, Turkey
  Scientific contacts: 19 c.

چار ممالک مبصر کی حیثیت رکھتے ہیں:[26]

2
The unnamed parameter 2= is no longer supported. Please see the documentation for {{columns-list}}.

اس کے علاوہ مندرجہ ذیل مبصرین بین الاقوامی تنظیمیں ہیں:

غیر رکن ممالک (with dates of Co-operation Agreements) currently involved in CERN programmes are:

2
The unnamed parameter 2= is no longer supported. Please see the documentation for {{columns-list}}.

سرن نے مندرجہ ذیل ممالک کے ساتھ سائنسی رابطے قائم کیے ہیں:[32]

[33]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Professor Sijbrand de Jong elected as next President of CERN Council". CERN press office. CERN. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 18 جنوری 2016. 
  2. "Member States". International relations. CERN. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 25 نومبر 2015. 
  3. The boycott movement is losing the battle – for now
  4. "A global endeavour". CERN. 15 جولائی 2015. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 23 جنوری 2016. 
  5. "CERN Annual Report 2013 – CERN in Figures". CERN. 10 جنوری 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 4 ستمبر 2014. 
  6. استشهاد فارغ (معاونت) 
  7. ^ ا ب "CERN International Relations – Israel". 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 5 جولائی 2014. 
  8. Rahman, Fazlur. (2013-11-11) Israel مئی become first non-European member of nuclear research group CERN – Diplomacy and Defense Israel News۔ Haaretz. Retrieved on 2014-04-28.
  9. فہرست ممالک بلحاظ آبادی
  10. ESA Convention (PDF) (ایڈیشن 6th). European Space Agency. ستمبر 2005. ISBN 92-9092-397-0. 25 دسمبر 2018 میں اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 23 جنوری 2016. 
  11. "CONVENTION FOR THE ESTABLISHMENT OF A EUROPEAN ORGANIZATION FOR NUCLEAR RESEARCH". CERN Council website. CERN. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 16 جولائی 2012. 
  12. "Member States". International relations. CERN. 06 جنوری 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 25 نومبر 2015. 
  13. ^ ا ب "Member States". CERN timelines. CERN. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 25 نومبر 2015. 
  14. ^ ا ب "CERN Member States". CERN Council website. CERN. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 16 جولائی 2012. 
  15. "Member States: Spain". International Relations. CERN. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 25 نومبر 2015. 
  16. "CERN Associate Members". CERN. 16 مارچ 2012. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 5 جولائی 2014. 
  17. "Turkey". cern.ch. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 28 اگست 2015. 
  18. "آرکائیو کاپی". 18 جولا‎ئی 2015 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 23 جنوری 2016. 
  19. International Relations. "Candidate for accession: Romania". CERN website. CERN. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 21 اکتوبر 2015. 
  20. "Member States' Contributions – 2014". CERN website. CERN. 14 مئی 2014 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 6 جولائی 2014. 
  21. "Turkey to become Associate Member State of CERN". CERN press release. CERN. 12 مئی 2014. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 5 جولائی 2014. 
  22. "Pakistan Becomes the First Associate CERN Member from Asia". Government of Pakistan press releases. Ministry of Foreign Affairs, Government of Pakistan. 20 جون 2014. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 5 جولائی 2014. 
  23. "Pakistan becomes Associate Member State of CERN | CERN". home.web.cern.ch. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 01 اگست 2015. 
  24. "Pakistan officially becomes an associate member of CERN – دی ایکسپریس ٹریبیون". 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 01 اگست 2015. 
  25. "Observers". International Relations. CERN. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 15 دسمبر 2015. 
  26. "CERN International Relations – Jordan". International-relations.web.cern.ch. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 4 جولائی 2012. 
  27. "CERN International Relations – SESAME". International-relations.web.cern.ch. 17 اکتوبر 2011. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 4 جولائی 2012. 
  28. "''Macedonia joins CERN (SUP)''". Mia.com.mk. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 20 نومبر 2010. 
  29. "Prime Minister of Malta visits CERN". CERN Bulletin. 10 جنوری 2008. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 23 مئی 2014. 
  30. "Malta signs agreement with CERN". Times of Malta. 11 جنوری 2008. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 23 مئی 2014. 
  31. "Member states". CERN. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 23 مئی 2014. 
  32. Quevedo، Fernando (جولائی 2013). "The Importance of International Research Institutions for Science Diplomacy". Science & Diplomacy 2 (3). doi:ڈی او ئي. http://www.sciencediplomacy.org/perspective/2013/importance-international-research-institutions-for-science-diplomacy.