مندرجات کا رخ کریں

عسکریہ پاکستان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
پاکستان مسلح افواج
پاکستان مسلح افواج
Emblem of Pakistan Armed Forces
پاکستان کی مسلح افواج کا انٹر سروسز نشان
پاکستان کی مسلح افواج کا انٹر سروسز جھنڈا
قیام14 اگست 1947؛ 78 سال قبل (1947-08-14)
خدماتی شاخیںFlag of the Pakistan Army پاک فوج
Naval Jack of Pakistan پاک بحریہ
Ensign of the Pakistan Air Force پاک فضائیہ
صدر دفترجوائنٹ اسٹاف ہیڈ کوارٹر، راولپنڈی
ویب گاہispr.gov.pk
قیادت
کمانڈر ان چیفصدر پاکستان عارف علوی
وزیر اعظم پاکستانشہباز شریف
وزیر دفاع پاکستانخواجہ محمد آصف
وزارت داخلہ (پاکستان)رانا ثناءاللہ
سربراہ عسکریہ پاکستانمنصب جامع ساحر شمشاد مرزا، پاک فوج
افرادی قوت
عسکری مدت16–23[1]
جبری بھرتیکوئی نہیں
فعال اہلکار653,000[2] (درجہ چھٹا)
تعینات اہلکار سعودی عرب — 1,180[3][4][5]
خرچے
بجٹامریکی ڈالر10.3 billion (2019)[6]
جی ڈی پی کا فیصد4.0% (2019)[6]
صنعت
گھریلو سپلائر
غیر ملکی سپلائر
متعلقہ مضامین
تاریخ
درجےپاکستان میں عسکری عہدے
پاک بحریہ کے عہدے اور نشانات
پاک فضائیہ کے عہدے اور نشانات

پاکستان مسلح افواج یا عسکریہ پاکستان پاکستان کی عسکری قوتیں ہیں۔ فعال فوجی اہلکاروں کی تعداد کے لحاظ سے یہ دنیا کی ساتویں بڑی فوج ہے اور تین وردی پوش خدماتفوج، بحریہ اور فضائیہ پر مشتمل ہے، جنھیں متعدد نیم فوجی قوتوں جیسے کہ پاکستان نیشنل گارڈ اور سول مسلح افواج کی حمایت حاصل ہے۔[7] 2025 کی اصلاحات کے مطابق، سب سے اعلیٰ درجہ کا فوجی افسر چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) ہے، جو بیک وقت چیف آف آرمی اسٹاف (سی او اے ایس) کے طور پر بھی خدمات انجام دیتا ہے۔ وہ تینوں شاخوں پر بنیادی کمانڈ اتھارٹی رکھتا ہے اور جنگی حکمت عملی، آپریشنز، مشترکہ فورس کی ترقی اور وسائل کی تقسیم کی نگرانی کرتا ہے۔ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر دیا گیا ہے اور سابقہ بہت سے فرائض اب سی ڈی ایف کے سپرد کر دیے گئے ہیں، تاکہ عسکری کمانڈ کو منظم اور فیصلہ سازی کو تیز تر بنایا جا سکے۔[8]

2025 کی اصلاحات کا ایک اہم حصہ کمانڈر آف نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ (سی این ایس سی) کے عہدے کی تشکیل ہے، جو ایک فور اسٹار آرمی جنرل ہوتا ہے جسے وزیر اعظم سی ڈی ایف کی سفارش پر مقرر کرتے ہیں۔ یہ عہدہ پاکستان کے ایٹمی اور اسٹریٹجک اثاثوں کا ذمہ دار ہے۔ اسٹریٹجک پلانز ڈویژن (ایس پی ڈی) بدستور کلیدی حیثیت رکھتا ہے، جو سی این ایس سی کی نگرانی میں پاکستان کی ایٹمی پالیسی اور قومی دفاعی ڈیٹرنٹ کا انتظام سنبھالتا ہے۔ صدر پاکستان مسلح افواج کے سپہ سالار اعلیٰ (کمانڈر ان چیف) ہیں۔ اب پاکستان مسلح افواج کی تمام شاخوں کے درمیان ہم آہنگی چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) کے ذریعے کی جاتی ہے، جو اسٹریٹجک منصوبہ بندی، وسائل کی تقسیم اور مشترکہ فوجی کارروائیوں کی ہدایت دیتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے جوائنٹ اسٹاف ہیڈ کوارٹرز (جے ایس ایچ کیو) کی تنظیمِ نو کی گئی ہے تاکہ تمام سروسز کے درمیان مربوط کمانڈ کے نظام میں مدد فراہم کی جا سکے۔[9][10]

1947ء میں قیام پاکستان کے بعد سے اب تک بیشتر عرصہ پاکستان پر پاک فوج حکومت کر چکی ہے۔ پاکستانی معاشرے میں پاک عسکریہ کو بے پناہ عزت حاصل ہے۔ عوام اس ادارے کو اپنی حفاظت کا ذمہ دار اور اپنی قربانیوں کا امین تصور کرتی ہے۔ قوم 6 ستمبر کو یوم دفاع مناتی ہے، جو پاک بھارت جنگ 1965 میں پاک عسکریہ کی بے مثال جرات و بہادری کی یاد میں منایا جاتا ہے۔

پاک عسکریہ پر جی ڈی پی کا تقریبا 4.9 فی صد خرچ کیا جاتا ہے۔ جس سے ملکی ترقی اور عام عوامی زندگی متاثر ہوتی ہے۔ پاکستان ایسا اپنی کم سے کم دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کرتا ہے جو اس کی سالمیتی کے لیے ضروی سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان جس خطے میں واقع ہے وہاں دفاعی قوت کی زبردست دوڑ ہے۔

تاریخ

1947ء میں قیام پاکستان سے پہلے پاک عسکریہ، ہندوستانی فوج کا حصہ تھی۔ اس لحاظ سے اس کے تاج برطانیہ کے زیر اثر پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم میں بھی حصہ لیا ہے۔ تقسیم برصغیرکے بعد ہندوستانی فوج پاکستان اور بھارت میں بالترتیب 36% اور 64% کت تناسب میں تقسیم ہو گئی۔ اس وقت اعلان ہوا کہ کوئی بھی فوجی جس بھی فوج میں جانا چاہتا ہے تو اسے مکمل اجازت ہے۔ اس وقت بہت سے مسلمان فوجی، پاک عسکریہ میں شامل ہو گئے۔ تقسیم کے وقت بھارت میں 16 آرڈینس فیکٹریاں تھیں جبکہ پاکستان بھی ایک بھی نہیں تھی۔ الحمد اللہ اب پاکستان کافی حد تک دفاعی اعتبار سے خود کفیل ہو گیا ہے لیکن بھارت کے اپنا دفاعی تباسب برقرار رکھنے کے لیے اس بڑی طاقتوں سے خریداری کرنا پڑتی ہے جس پر خطیر زر مبادلہ خرچ ہوتا ہے۔

تنظیم اور اختیاری نظام

فائل:SSG-03.jpg
ایس ایس جی کمانڈوز کا 23 مارچ، یوم پاکستان کے موقع پر اسلام آباد میں پریڈ کا منظر

مشترکہ رؤسائے عملہ کمیٹی

نام افسر تاریخ تعیناتی عہدہ
جنرل ساحر شمشاد مرزا 27 نومبر،2022ء تا حال چیئرمین مشترکہ رؤسائے عملہ کمیٹی
جنرل عاصم منیر 29 نومبر 2022 ء تا حال رئیسِ عملۂ پاک فوج
ائیر چیف مارشلظہیر احمد بابر سدھو 19 مارچ ،2021ء تا حال رئیسِ عملۂ پاک فضائیہ
ایڈمرل نوید اشرف (پاک بحریہ) 7 اکتوبر 2023ء تا حال رئیسِ عملۂ پاک بحریہ

پاک فوج کی تنظیم

پاک فوج کی تنظیم ایسی ہی ہے جیسا کہ عام طور پر پوری دنیا میں ہے۔ اس کی کمیشنڈ یافتہ عہدے سکینڈ لیفٹینٹ سے شروع ہوتے ہیں۔

پاکستان کا جنرل صدر پاکستان، وزیراعظم پاکستان کے مشورے سے منتخب کرتا ہے۔

افرادی قوت

پاکستانی فوج
پاکستان آرمی کا نشان
قیام14 اگست 1947
ملک پاکستان
قسمفوج
حجم550,000 فعال
500,000 کمک
صدد دفترجی ایچ کیو، راولپنڈی
نصب العینعربی: ایمان، تقویٰ، جہاد فی سبیل اللہ
خدا کے سوا کسی کا پیروکار، خدا کا خوف، خدا کے لئے جدوجہد.
رنگسبز اور سفید
  
برسیاںیوم دفاع: ستمبر 6
معرکےپاک بھارت جنگ 1947
پاک بھارت جنگ 1965ء
جنگ آزادی بنگلہ دیش
پاک بھارت جنگ 1971ء
یرغمالیٔ مسجد حرام
افغانستان میں سوویت جنگ
سیاچن تنازعہ
کارگل جنگ
دہشت کے خلاف جنگ
لال مسجد محاصرہ
شمال مغرب پاکستان میں جنگ
بلوچستان تنازع
ویب گاہباضابطہ ویب سائٹ
کمان دار
سربراہ پاک فوجمنصبِ جامع راحیل شریف
طغرا
پرچمFlag of the Pakistani Army
اڑائے جانے والے طیارے
حملہکوبرا بالگرد
ہیلی کاپٹرBell 412, Bell 407, Bell 206, Bell UH-1 Huey
ٹرانسپورٹMil Mi-8/17, Aérospatiale Alouette III, Bell 412

پاک عسکریہ کے ہر اعضا کی افرادی قوت

اعضا کل مہیا افرادی قوت (متحرک) کل افرادی قوت (مختص)
پاک فوج 550,000 513,000
پاک بحریہ 24,000 5,000
پاک فضائیہ 45,000 10,000
پاکستان نیم فوجی دستے 302,000 0
پاکستان کوسٹل گارڈز Classified Classified
کل 921,000 528,000

عسکری تربیتی ادارے

پاکستان ایشیا کے چند بہترین عسکری تربیتی ادارے رکھتا ہے جن کے نام یہ ہیں۔

بیرونی روابط

حوالہ جات

  1. "South Asia :: Pakistan — The World Factbook"۔ un.org۔ CIA
  2. International Institute for Strategic Studies (14 فروری 2018)۔ The Military Balance 2018۔ Routledge۔ ص 291۔ ISBN:978-1-85743-955-7
  3. "Troops already in Saudi Arabia, says minister"۔ Dawn۔ 11 اپریل 2015۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-06-08۔ Our troops are already present in Tabuk and some other cities of Saudi Arabia.
  4. Baqir Sajjad Syed (22 اپریل 2017)۔ "Raheel leaves for Riyadh to command military alliance"۔ Dawn۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-06-08۔ Pakistan already has 1,180 troops in Saudi Arabia under a 1982 bilateral agreement. The deployed troops are mostly serving there in training and advisory capacity.
  5. Shamil Shams (30 اگست 2016)۔ "Examining Saudi-Pakistani ties in changing geopolitics"۔ Deutsche Welle۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-06-08۔ However, security experts say that being an ally of Saudi Arabia, Pakistan is part of a security cooperation agreement under which about 1,000 Pakistani troops are performing an "advisory" role to Riyadh and are stationed in Saudi Arabia and other Gulf countries.
  6. ^ ا ب Nan Tian؛ Aude Fleurant؛ Alexandra Kuimova؛ Pieter D. Wezeman؛ Siemon T. Wezeman (27 اپریل 2020)۔ "Trends in World Military Expenditure, 2019" (PDF)۔ Stockholm International Peace Research Institute۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-04-27
  7. "Inter-Services Public Relations Pakistan"۔ www.ispr.gov.pk۔ 2020-10-09 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-10-08
  8. Abid Hussain. "How would Pakistan's 27th Amendment reshape its military and courts?". Al Jazeera (بزبان انگریزی). Retrieved 2025-11-22.
  9. Abid Hussain. "How would Pakistan's 27th Amendment reshape its military and courts?". Al Jazeera (بزبان انگریزی). Retrieved 2025-11-22.
  10. Peter R. Blood (1995)۔ Pakistan۔ Washington D.C.: Diane Publishing Co.۔ ISBN:978-0-7881-3631-3۔ 2023-02-05 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-12-04