لال مسجد محاصرہ
| Siege of Lal Masjid آپریشن سن رائس | |||||||
|---|---|---|---|---|---|---|---|
| سلسلہ شمال مغرب پاکستان میں جنگ; دہشت پر جنگ | |||||||
| |||||||
| مُحارِب | |||||||
|
| ||||||
| کمان دار اور رہنما | |||||||
| طاقت | |||||||
|
164 سپیشل سروس گروپ کمانڈوز[3][4] |
1,300 طلبہ 100+ نجی جنگجو[5] | ||||||
| ہلاکتیں اور نقصانات | |||||||
|
11 مارے گئے 44 زخمی[6][7] |
84 مارے گئے[8][9] 50 گرفتار | ||||||
| 14 civilians killed , 204 injured | |||||||
لال مسجد محاصرہ[پ] جولائی 2007ء میں اسلام آباد کی مشہور لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے خلاف پاک فوج کا محاصرہ اور حملہ تھا۔[10][11][12] چھ دن سے زائد جاری رہنے والے اس آپریشن کا کوڈ نام آپریشن سن رائز اور آپریشن سائلنس تھا۔[13]
اس واقعے کے بعد طالبان نے وزیرستان معاہدے کو کالعدم قرار دیا اور پاکستانی حکومت کے ساتھ 10 ماہ کے امن جنگ بندی کے معاہدے کو ختم کیا۔[14][15] اس واقعے کے نتیجے میں پاکستان میں عسکریت پسندی میں اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں 2008 میں 3,000 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔[16] دیوبندی جہادیوں اور پاکستانی فوج کے درمیان "طویل اتحاد" کواس واقعہ نے توڑ دیا۔[17]
پس منظر
[ترمیم]لال مسجد
[ترمیم]لال مسجد کی بنیاد محمد عبداللہ غازی نے 1965 میں رکھی تھی اور صدر ایوب خان نے مسجد کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔ [18]
اس کے قیام کے بعد سے، اس مسجد میں پاکستانی فوج اور حکومت کے رہنما اکثر آتے رہے ہیں جن میں ممتاز پاکستانی رہنما جیسے صدور غلام اسحاق خان اور فاروق لغاری اور وزیر اعظم بلخ شیر مزاری کے ساتھ ساتھ سعودی بادشاہوں فیصل اور خالد سمیت غیر ملکی رہنما اور بنگلہ دیشی صدر ضیاء الرحمن شامل ہیں۔[19][20]
امام مولانا عبداللہ کو 1998 میں مسجد میں قتل کر دیا گیا تھا۔[21] ان کے قتل پر ان کے بیٹوں عبدالعزیز اور عبدالرشید نے پورے مسجد کی ذمہ داری سنبھالی۔[22]
جامعہ حفصہ
[ترمیم]جامعہ حفصہ لال مسجد سے متصل خواتین کا مدرسہ ہے۔ یہ دنیا میں خواتین کے لیے سب سے بڑا اسلامی مذہبی ادارہ سمجھا جاتا ہے، جس میں 6000 سے زیادہ طالبات ہیں۔[23]
اسے مولانا محمد عبداللہ نے 1989 میں تعمیر کیا تھا۔ ان کے قتل کے بعد، نگرانی ان کے بیٹے عبدالعزیز اور ان کی اہلیہ ام حسان کے سپرد ہوئی،[24][25] جبکہ عبدالرشید لڑکوں کے لیے ایک ادارہ چلاتے تھے جسے جامعہ فریدیہ کہا جاتا ہے۔[26]
محاصرہ اور آپریشن
[ترمیم]2007ءمیں حکومت پاکستان اور مسجد کے عبدالرشید غازی اور عبدالعزیز کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی، جو اپنے طلبہ کے ساتھ شریعت کو نافذ کر رہے تھے اور ریاستی اتھارٹی کو کھلے عام چیلنج کر رہے تھے۔ [27]
سیکورٹی فورسز نے 3 جولائی کو مسجد اور مدرسہ جامعہ حفصہ کو گھیرے میں لے لیا۔ وقفے وقفے سے جھڑپوں ہونے لگی اور پھر4 جولائی 2007ء کو لال مسجد کے امام مولانا عبد العزیز برقع میں فرار ہوتے ہوئے پکڑے گئے۔[28] [29]
10 جولائی کو مکمل فوجی حملہ ہوا اس دوران لال مسجد کے خطیب عبدالرشید غازی سمیت 100 سے زائد افراد مارے گئے۔[30][31]
مسجد اور مدرسہ کو نقصان
[ترمیم]مسجد کو کافی نقصان پہنچا۔[32] داخلی دروازہ مکمل طور پر جل گیا، چھت جھلس گئی اور باہر کی سرخ دیواریں سیاہ پڑ گئیں۔ تاہم مسجد کو جامعہ حفصہ کے مدرسے سے کم نقصان پہنچا۔ مینار مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔[33]
12 جولائی 2007ء کو بالاخر ذرائع ابلاغ کو لال مسجد اور جامعہ حفصہ کا دورہ کروایا گیا۔[34][35][36]
آپریشن کے بعد مسجد کی مرمت سی ڈی اے نے کی اور اکتوبر 2007 میں اسے باضابطہ طور پر نماز کے لیے کھول دیا گیا۔[37][38]
جامعہ حفصہ کو آپریشن میں استعمال ہونے والے بموں کے نقصان کی وجہ سے ساختی طور پر غیر محفوظ قرار دے کر منہدم کر دیا گیا۔[39][40]
رد عمل
[ترمیم]پاکستان
[ترمیم]| بیرونی وڈیو | |
|---|---|
ایک ٹیلی ویژن خطاب میں، مشرف نے اعلان کیا کہ وہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں اور دعویٰ کیا کہ وہ پاکستان بھر میں انتہا پسندوں اور لال مسجد جیسے مذہبی مدارس کو کچل دیں گے۔[41]
لیفٹیننٹ جنرل جمشید گلزار کیانی نے مسجد پر حملے کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حملے میں سفید فاسفورس بم استعمال کیے گئے۔[42] بعد ازاں تصدیق کرتے ہوئے، سابق وفاقی وزیر برائے مذہبی امور اعجاز الحق نے کہا کہ فوجیوں نے فوجی کارروائی کے دوران واقعی فاسفورس بم استعمال کیے تھے۔[43]
آئی ایس آئی کے سابق ڈائریکٹر جنرل، اسد درانی نے اپنی کتاب اسپائی کرونیکلز میں، لال مسجد آپریشن کو "غلط مہم جوئی" کے طور پر بیان کیا ہے، اس کے خراب ہینڈلنگ پر حکام کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔[44] انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس حملے کے نتیجے مسجد کو آگ لگ گئی اور بہت سی خواتین اور بچوں سمیت بہت زیادہ جانی نقصان ہوا۔[45][46]
بین الاقوامی
[ترمیم]
امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے "ان انتہا پسندوں کے خلاف جنگ میں ایک مضبوط اتحادی" کے طور پر مشرف کی حمایت کی۔[47][48]
چین کی حکومت نے لال مسجد کے خلاف حملہ پرمشرف کا ساتھ دیا۔[49] چین کے وزیر برائے پبلک سیکیورٹی ژو یونگ کانگ نے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ ملک میں کام کرنے والے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے مزید سختی سے کام کرے۔[50]
اثرات
[ترمیم]اس محاصرے نے پاکستان میں بہت سے لوگوں کو ایک ریلینگ پوائنٹ دیا اور القاعدہ، جیش محمد، لشکر جھنگوی اور طالبان نے پاکستان میں جوابی حملے شروع کر دیے۔[51]
اگلے پانچ ماہ میں خودکش بمباروں نے 56 حملے کیے جن میں 2729 پاکستانی ہلاک ہوئے۔ اس واقعہ نے دیوبندی جہادیوں اور پاکستانی فوج کے درمیان "طویل اتحاد" کو بھی توڑ دیا۔[52]
امریکی صحافی ڈیبورا اسکروگنز کے مطابق مسجد پر حملہ پاکستان کے لیے ایک اہم موڑ بن گیا۔ وزیرستان اور کشمیر کے بہت سے لوگوں کے رشتہ دار مسجد اور مدرسے میں پڑھتے تھے اور انھوں نے مسجد پر حملے کے بدلے میں فوج پر حملے شروع کر دیے۔[53]
تحقیقات
[ترمیم]2012 میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک عدالتی کمیشن قائم کیا۔[54] کمیشن کا مینڈیٹ فوجی کارروائی کی قانونی حیثیت اور عبدالرشید غازی کے قتل سمیت شہری ہلاکتوں کی زیادہ تعداد کا جائزہ لینا تھا۔[55][56]
ستمبر 2013 میں، اسلام آباد عدالت عالیہ کی طرف سے پرویز مشرف کے خلاف عبدالرشید غازی کے قتل میں ملوث ہونے کے لیے ایف آئی آر درج کی گئی۔[57][58]
مزید دیکھیے
[ترمیم]حواشی
[ترمیم]
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ "'Assault neither victory nor defeat'"۔ The News۔ 15 جولائی 2007۔ 2009-02-24 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2008-05-10
- ↑ "' Lal Masjid operation not a matter of victory or defeat: Musharraf'"۔ آج ٹی وی۔ 14 جولائی 2007۔ 2009-03-18 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2008-05-10
- ↑ Declan Walsh (11 جولائی 2007)۔ "Red Mosque siege declared over"۔ London: دی گارڈین۔ 2018-12-26 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2008-05-10
- ↑ Griff Witte (12 جولائی 2007)۔ "Mosque siege ends, and grim cleanup begins"۔ San Francisco Chronicle۔ 2018-12-26 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2008-05-10
- ↑ Syed Mohsin Naqvi (4 جولائی 2007)۔ "Red Mosque students surrender slowly"۔ سی این این۔ 2018-12-26 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2008-05-10
- ↑ Griff Witte (12 جولائی 2007)۔ "Pakistani Forces Kill Last Holdouts in Red Mosque"۔ واشنگٹن پوسٹ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2008-05-10
- ↑ "Bodies not kept in I-9 storage, SC told"۔ Dawn۔ 14 جولائی 2007۔ 2018-12-26 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2007-07-14
- ↑ "Court demands Red Mosque answers"۔ BBC۔ 28 اگست 2007۔ 2018-12-26 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2007-08-29
- ↑ "Lal Masjid women, children also killed: G-6 curfew to be lifted today"۔ Dawn۔ 14 جولائی 2007۔ 2018-12-26 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2007-07-14
- ↑ "[1] آرکائیو شدہ (غیرموجود تاریخ) بذریعہ globalbearings.net (نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل) [Video Series] The Rise of the Pakistani Taliban," Global Bearings, October 27, 2011.
- ↑ Qudssia Akhlaque (12 جولائی 2007)۔ "It's 'Operation Sunrise' not 'Silence'"۔ Dawn۔ 2008-03-04 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2008-05-14
- ↑ "Silence of the Dead in Islamabad"۔ The Statesman۔ 11 جولائی 2007۔ 2007-09-29 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2007-07-11
- ↑ ڈیلی ایکسپریس، لاہور، 7 جولائی 2007ء، عبد القادر حسن کا کالم، "ملا اور مجاہد"
- ↑ Lindsay Goldwert (16 جولائی 2007)۔ "Pakistan Militants End Peace Agreement"۔ CBS News۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-05-31
- ↑ "Cease-fire is over, say Pakistani militants"۔ Los Angeles Times۔ 16 جولائی 2007۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-05-31
- ↑ "Militants burn down girls' school in northwest Pakistan"۔ M&C News۔ 4 مئی 2008۔ 2008-05-08 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2008-05-13
- ↑ Deborah Scroggins (17 Jan 2012). Wanted Women: Faith, Lies, and the War on Terror: The Lives of Ayaan Hirsi Ali and Aafia Siddiqui (بزبان انگریزی). Harper Collins. p. 376. ISBN:9780062097958.
- ↑ "شہیداسلام مولانا عبداللہ شہید شخصیت و کردار۔۔۔تحریر مولاناتنویراحمداعوان"۔ Shaffak۔ 18 اکتوبر 2016۔ 2021-02-08 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2021-02-08
- ↑ "Lal Masjid at 40". www.thenews.com.pk (بزبان انگریزی). Retrieved 2022-02-22.
- ↑ Syed Shoaib Hasan (27 جولائی 2007)۔ "Profile: Islamabad's Red Mosque"۔ BBC News۔ اخذ شدہ بتاریخ 2008-05-21
- ↑ "Islamabad Red Mosque Cleric Killed"[قابض ] پاکستان ٹائمز, 11 July 2007, retrieved 27 July 2009
- ↑ "Editorial; October 04, 2007". Dawn (بزبان انگریزی). 4 Oct 2007.
- ↑ "Introduction"۔ Jamia Hafsa۔ 2022-03-17 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2008-05-24
- ↑ "Introduction"۔ Jamia Hafsa۔ 2022-03-17 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2008-05-24
- ↑ "Islamabad's Umme Hassan: Female Mobilizer and Jihadist Inspirer at the Red Mosque". Jamestown Foundation (بزبان امریکی انگریزی).
- ↑ "Maktaba Faridia"۔ 2022-07-15 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2022-07-19
- ↑ "At Pakistan's Red Mosque, a Return of Islamic Militancy"۔ TIME۔ 17 اپریل 2009۔ 2009-04-20 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2013-01-31
- ↑ بی بی سی اردو
- ↑ بی بی سی 8 جولائی 2007ء
- ↑ Griff Witte (12 جولائی 2007)۔ "Mosque siege ends, and grim cleanup begins"۔ The Washington Post۔ اخذ شدہ بتاریخ 2008-05-10 – بذریعہ San Francisco Chronicle[مردہ ربط]
- ↑ Aziz Malik۔ "Cleric Ghazi, Scores Killed: Islamabad Red Mosque Operation in Decisive Phase"۔ پاکستان ٹائمز۔ اصل سے آرکائیو شدہ بتاریخ 2007-07-12۔ اخذ شدہ بتاریخ 2008-05-12
{{حوالہ خبر}}: اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: ناموزوں یوآرایل (link) - ↑ Griff Witte (12 جولائی 2007)۔ "Mosque siege ends, and grim cleanup begins"۔ The Washington Post۔ اخذ شدہ بتاریخ 2008-05-10 – بذریعہ San Francisco Chronicle[مردہ ربط]
- ↑ Griff Witte (12 جولائی 2007)۔ "Mosque siege ends, and grim cleanup begins"۔ The Washington Post۔ اخذ شدہ بتاریخ 2008-05-10 – بذریعہ San Francisco Chronicle[مردہ ربط]
- ↑ روزنامہ ڈان، 13 جولائی 2007ء، "Charred remains speak of fierce battles"
- ↑ بی بی سی، 12 جولائی 2007ء، "لال مسجد: سوالوں کے جواب ندار"
- ↑ انڈیپنڈنٹ، برطانیہ، 13 جولائی 2007ء، آرکائیو شدہ (غیرموجود تاریخ) بذریعہ news.independent.co.uk (نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل) " Pakistan quick to clean the blood from Red Mosque "
- ↑ "Lal Masjid re-opened on Pak SC order"۔ im.rediff.com
- ↑ "Lal Masjid to reopen in time for Friday prayers"۔ Daily Times (Pakistan)۔ 24 جولائی 2007۔ 2007-09-27 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2008-05-10
- ↑ Syed Irfan Raza (26 Jul 2007). "Jamia Hafsa, children's library razed". DAWN.COM (بزبان انگریزی). Retrieved 2012-08-13.
- ↑ "Pakistan to demolish part of Red Mosque complex". ABC News (بزبان آسٹریلیائی انگریزی). 23 Jul 2007. Retrieved 2011-06-21.
- ↑ "Musharraf vows war on militants"۔ BBC News۔ 12 جولائی 2007۔ اخذ شدہ بتاریخ 2008-05-12
- ↑ "Jamshed Gulzar Kiani dies". DAWN.COM (بزبان انگریزی). 2 Nov 2008. Retrieved 2022-04-06.
- ↑ Mian Saifur Rehman (27 Jul 2007). "Phosphorus bombs used in Jamia Hafsa operation: Ejaz". www.thenews.com.pk (بزبان انگریزی).
- ↑ Muhammad Saleh Zaafir, Former ISI, RAW chiefs co-author book, The News, May 21, 2018
- ↑ Asad Durani (2018)۔ The Spy Chronicles: RAW, ISI and the Illusion of Peace۔ ہارپر کولنز۔ ص 34۔ ISBN:978-9352779253
- ↑ "Durrani's book is not a conspiracy but mere foolishness: Musharraf". Brecorder (بزبان انگریزی). 31 May 2018.
- ↑ Bill Van Auken (11 جولائی 2007)۔ "Mosque massacre: Washington's "war on terror" shakes Pakistan"۔ WSWS۔ اخذ شدہ بتاریخ 2008-05-14
- ↑ "Bush pleased as Gen. Musharraf yields to U.S. pressure"۔ www.workers.org۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-10-24
- ↑ "China calls on Pakistan to better protect Chinese"۔ Shanghai Daily۔ 27 جون 2007۔ 2007-09-27 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2008-05-13
- ↑ "China calls on Pakistan to better protect Chinese"۔ Shanghai Daily۔ 27 جون 2007۔ 2007-09-27 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2008-05-13
- ↑ Deborah Scroggins (17 Jan 2012). Wanted Women: Faith, Lies, and the War on Terror: The Lives of Ayaan Hirsi Ali and Aafia Siddiqui (بزبان انگریزی). Harper Collins. p. 376. ISBN:9780062097958.
- ↑ Deborah Scroggins (17 Jan 2012). Wanted Women: Faith, Lies, and the War on Terror: The Lives of Ayaan Hirsi Ali and Aafia Siddiqui (بزبان انگریزی). Harper Collins. p. 376. ISBN:9780062097958.
- ↑ Deborah Scroggins (17 Jan 2012). Wanted Women: Faith, Lies, and the War on Terror: The Lives of Ayaan Hirsi Ali and Aafia Siddiqui (بزبان انگریزی). Harper Collins. p. 376. ISBN:9780062097958.
- ↑ "SC forms judicial commission to probe Lal Masjid operation". Dawn (بزبان انگریزی). 4 Dec 2012.
- ↑ "Musharraf held responsible for Lal Masjid operation". The Nation (بزبان امریکی انگریزی). 20 Apr 2013.
- ↑ azam.khan (5 Dec 2012). "Five years on …: Lal Masjid controversy rises from the dead". The Express Tribune (بزبان انگریزی).
- ↑ "Pakistani police investigate Musharraf in mosque raid"۔ The Boston Globe۔ 2 ستمبر 2013۔ 2014-12-17 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
- ↑ "New murder charge brought against Musharraf". Al Jazeera (بزبان انگریزی). Retrieved 2014-11-09.
- سانچہ جات برائے بیرونی روابط
- 2007ء کے تنازعات
- 2007ء میں پاکستان
- 2007ء میں قتل عام
- اسلام آباد میں اکیسویں صدی
- پاک فوج
- عبادت کے مقامات پر قتل عام
- پاک فوج کے مشہور آپریشن
- پاکستان کی عسکری تاریخ
- پاکستان میں اسلامیت
- پاکستان میں عبادت گاہوں پر حملے
- پاکستان نیم فوجی قوتیں
- تاریخ اسلام آباد
- جولائی 2007ء کی سرگرمیاں
- حکومت شوکت عزیز
- شمال مغرب پاکستان میں فوجی آپریشن
- ضلع سوات
- پاکستانی سیاست میں 2007ء
- 2007ء میں خون ریزیاں
- اسلامیت
- پاکستان میں خون ریزیاں
- پاکستانی سیاست
- پاکستان میں اسکولوں پر حملے