20 دسمبر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
18 دسمبر 19 دسمبر 20 دسمبر 21 دسمبر 22 دسمبر

واقعات[ترمیم]

  • 1971ء -نور الامین پاکستان کے 8 ویں وزیر اعظم کا عہدہ ختم۔
  • 1971ء -پاکستان میں مارشل لا نافذ۔
  • 2001ء -امریکی کانگریس نے افغانستان میں جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے 20ارب ڈالرکامالی پیکج منظور کیا ۔[1]
  • 1976ء -پاکستان ٹیلی ویژن نے رنگین نشریات کا آغاز کیا ۔[1]
  • 1972ء -حکومت پاکستان نے 18سال اور زائد عمر کے تمام شہریوں کو شناختی کارڈ جاری کرنے کا اعلان کیا ۔[1]
  • 1971ء -جنرل یحیی خان نے نظام حکومت ذو الفقار علی بھٹوکے حوالے کردی جو پہلے صدر اور سویلین مارشل لا ایڈمنسٹریٹر مقررہوئے ۔[1]
  • 1963ء -برلن دیوار کو پہلی بار دو ہفتوں کے لیے عوام کے لیے کھولا گیا ۔[1]

ولادت[ترمیم]

وفات[ترمیم]

تعطیلات و تہوار[ترمیم]

2005ء - انسانوں کے ساتھ یکجہتی کا عالمی دن

تاریخ کے آئینے میں[ترمیم]

1757ء کلائیو لائیڈ بنگال کے گورنر بنے۔

1780ء انگلینڈ نے ہالینڈ کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔

1830ء انگلینڈ، فرانس، فارس، آسٹریلیا اور روس نے بلیجیم کو منظوری دی۔

1876ء مسٹر بکنگھم جند چٹوا پادھیائے نے بھارتی قومی ترانہ ’وندے ماترم‘ لکھا۔

1907ء امریکا کے البامہ صوبے میں کوئلے کی ایک کان میں دھماکا سے 19 کانکن مارے گئے۔

1933ء بولیویا اور پراگوے نے امن سمجھوتے پر دستخط کیے۔

1942ء جاپان نے پہلی بار کلکتہ پر ہوائی حملہ کیا۔

1955ء انڈین گولف فیڈریشن کا قیام عمل میں آیا۔

1963ء برلن دیوار کو پہلی بار دو ہفتوں کے لیے عوام کے لیے کھولا گیا۔

1971ء جنرل یحیی خان نے 8ویں وزیر اعظم نورالامین کو برطرف کر کے نظام حکومت ذو الفقار علی بھٹو کے حوالے کر دیا۔ بھٹو نے ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا اور خود پہلے صدر اور سویلین مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بن بیٹھے۔20 دسمبر 1971ء کو صبح پونے گیارہ بجے پی آئی اے کا ایک طیارہ اسلام آباد ایر پورٹ پر اترا۔ اس طیارے میں ذو الفقار علی بھٹو وطن واپس پہنچے۔ وہ ایرپورٹ سے سیدھے ایوان صدر پہنچے جہاں انہوں نے دو گھنٹے تک یحییٰ خان سے مذاکرات کیے‘ شام ساڑھے چار بجے وہ ایوان صدر سے واپس نکلے تو ان کی کار پر صدر پاکستان کا پرچم لہرا رہا تھا۔ تفصیلات کے مطابق یحییٰ‘ بھٹو مذاکرات کے بعد‘ یحییٰ خان عہدہ صدارت اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر دونوں عہدوں سے مستعفی ہو گئے۔ غلام اسحق خان نے انتقال اقتدار کی رسوم ادا کیں اور ذو الفقار علی بھٹو نے صدر اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر‘ دونوں عہدے سنبھال لیے۔ حلف اٹھانے کے بعد رات دس بجے صدر بھٹو نے قوم سے خطاب کیا۔ اس خطاب میں انہوں نے کہا ’’ہم اپنی زندگی کے بدترین بحران سے دوچار ہیں‘ ہمیں ٹکڑے جمع کرنے ہیں‘ بہت چھوٹے چھوٹے ٹکڑے‘ ہم نیا پاکستان بنائیں گے‘ ایک ایسا پاکستان جس کا خواب قائد اعظم نے دیکھا تھا۔‘‘ اپنے اس خطاب میں انہوں نے مشرقی پاکستان سے مصالحت‘ سماجی اور اقتصادی انصاف کی ضرورت‘ بیرونی ممالک سے پاکستانی سرمائے کی واپسی‘ عوامی اصلاحات اور نیشنل عوامی پارٹی پر سے پابندی کے خاتمے کا اعلان کیا۔ اسی تقریر میں انہوں نے سابق صدر یحییٰ خان کے ساتھ ساتھ جنرل عبدالحمید خان‘ جنرل ایم ایم پیرزادہ‘ میجر جنرل عمر‘ میجر جنرل خداداد خان‘ میجر جنرل کیانی اور میجر جنرل مٹھا کو فوج سے سبکدوش کرنے اور لیفٹیننٹ جنرل گل حسن کو بری فوج کا قائم مقام کمانڈر انچیف مقرر کرنے کا اعلان کیا۔ اگلے روز بھٹو نے مختلف عہدوں پر تقرریاں کیں۔ انتقال اقتدار کے منتظم غلام اسحق خان‘ شاکر اللہ درانی کی جگہ اسٹیٹ بنک کے گورنر بنا دیے گئے۔ غلام مصطفی کھر کو پنجاب کا‘ ممتاز بھٹو کو سندھ کا، حیات محمد خان شیر پائو کو سرحد کا اور سردار غوث بخش رئیسانی کو بلوچستان کا گورنر مقرر کیا گیا اور نور الامین نائب صدر کے عہدے پر فائز کردیے گئے۔ دو دن بعد 23 دسمبر 1971ء کو صدر ذو الفقار علی بھٹو کی 10 رکنی کابینہ کے وزرا نے اپنے عہدوں کے حلف اٹھا لیے۔ ان وزرا میں جے اے رحیم‘ میاں محمود علی قصوری‘ جسٹس فیض اللہ کندی‘ ڈاکٹر مبشر حسن‘ غلام مصطفی جتوئی‘ ملک معراج خالد‘ شیخ محمد رشید‘ رانا محمد حنیف‘ عبدالحفیظ پیرزادہ اور راجا تری دیو رائے شامل تھے۔29 دسمبر 1971کو غوث بخش رئیسانی صوبہ بلوچستان کے گورنر مقرر کردیے گئے۔

لیفٹیننٹ جنرل گل حسن (20 دسمبر 1971ء تا 3 مارچ 1972ء) پاکستان کے چھٹے آرمی چیف لیفٹننٹ جنرل گل حسن خان 1921ء میں کوئٹہ میں پیدا ہوئے۔ 1940ء میں انڈین آرمی میں کمیشن حاصل کیا اور قیام پاکستان کے بعد پاک فوج سے وابستہ ہو گئے اور کچھ دنوں تک قائد اعظم کے اے ڈی سی رہے۔ 1969ء میں وہ پاکستان کی بری فوج کے چیف آف جنرل اسٹاف مقرر ہوئے اور20 دسمبر1971ء کوکمانڈر انچیف کے عہدے پر فائز ہوئے۔ آپ کا بطور آرمی چیف دورانیہ بہت کم رہا کیونکہ 3 مارچ 1972ء کو وزیر اعظم ذو الفقار علی بھٹو نے آپ کو آرمی چیف کے عہدے سے سبکدوش کر دیا۔ چند ماہ بعد انہیں آسٹریا اور پھر یونان میں سفیر مقرر کر دیا گیا۔ اسی دوران انھوں نے آسٹریا کی ایک خاتون سے شادی کر لی اور ریٹائرمنٹ کے بعداکثر وقت آپ نے ویانا ، راولپنڈی اورپبی میں گزارا۔ لیفٹننٹ جنرل گل حسن خان کا انتقال 9 اکتوبر 1999ء کو راولپنڈی میں ہوا اور وہ پبی ضلع نوشہرہ میں آسودہ خاک ہوئے۔ لیفٹننٹ جنرل گل حسن خان کی خودنوشت سوانح عمری انگریزی میں میمائرز آف جنرل گل حسن خان اور اردو میں آخری کمانڈر انچیف کے نام سے شائع ہو چکی ہے ۔

1972ء حکومت پاکستان نے 18سال اور زائد عمر کے تمام شہریوں کو شناختی کارڈ جاری کرنے کا اعلان کیا۔

1976ء پاکستان ٹیلی ویژن نے رنگین نشریات کا آغاز کیا۔

1985ء بھارت میں تروپتی میں وینکٹ یشور کی مورتی میں 5 کروڑ 20 لاکھ روپے مالیت کا ہیرا لگایا گیا۔

1987ء فلپائن کے ایک جہاز ڈوناپاز اور ایک ٹینکر کی ٹکر میں 4300 افراد مارے گئے۔

1989ء امریکا نے پاناما پر حملہ کیا اور نئی سرکار بنائی۔

1995ء شمالی بحری اوقیانوس معاہداتی تنظیم (ناٹو) نے بوسنیا میں امن مہم شروع کی۔

1995ء امریکا کا ایک طیارہ کولمبیا میں حادثے کا شکار ہوا جس میں 159 مسافر مارے گئے۔

1999ء پرتگال نے مکاوَ کو چین کے سپرد کیا۔

2001ء امریکی کانگریس نے افغانستان میں جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے 20 ارب ڈالر کا مالی پیکج منظور کیا۔

20دسمبر 2006ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے بلتت ہیریٹیج ٹرسٹ کے دس سال مکمل ہونے پر ایک خوبصورت یادگاری ڈاک ٹکٹ کا اجرأ کیا جس پر قلعہ بلتت(ہنزہ) کی تصویر اور بلتت ہیریٹیج ٹرسٹ کا لوگو شائع کیا گیا تھا۔ اس ڈاک ٹکٹ پرانگریزی میں Celebrating 10 YEARS OF BALTIT HERITAGE TRUST اورBALTIT FORT کے الفاظ تحریر تھے۔ اس ڈاک ٹکٹ کی مالیت پندرہ روپے تھی اور اسے فیضی امیر صدیقی نے ڈیزائن کیا تھا۔

20 دسمبر 1980ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے منی آرڈر سروس کے سو سال مکمل ہونے پر ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس پر ’’منی آرڈر فارم ‘‘ شائع کیا گیا تھا۔ 40 پیسے مالیت کا یہ یادگاری ڈاک ٹکٹ اخلاق احمد نے ڈیزائن کیا تھا۔

20دسمبر 1986ء کواسلام آباد میں زرعی ترقیاتی بنک کے صدر دفتر میں ڈاک ٹکٹوں کی ایک پانچ روزہ نمائش ECO PHILEX' 86کا آغاز ہوا۔اس نمائش میں ای سی او سے وابستہ تینوں ممالک پاکستان ، ایران اور ترکی کے 2600شائقین نے اپنے ڈاک ٹکٹ نمائش کے لیے پیش کیے۔ اس سلسلے میں پاکستان کے محکمہ ڈاک نے تین ڈاک ٹکٹوں کا ایک سیٹ جاری کیاجن پر پاکستان کی بھونگ مسجد، ایران کی مسجدگوہر شاد اور ترکی کی مسجد سلیمانیہ کی تصاویر بنی تھیں۔ ان تمام ڈاک ٹکٹو ں کی مالیت تین، تین روپے تھی اور ان پر ECOPHILEX 86 ISLAMABAD 20-24 DECEMBER 1986 کے الفاظ اور مساجد کے نام طبع کیے گئے تھے۔یہ خوب صورت سیٹ پاکستان سیکیورٹی کارپوریشن کے ڈیزائنر عادل صلاح الدین نے ڈیزائن کیا تھا۔

20 دسمبر2001ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے نشتر میڈیکل کالج، ملتان کے قیام کی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر پانچ روپے مالیت کا ایک ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ اس ڈاک ٹکٹ پر کالج کی عمارت کی تصویربنی تھی اور انگریزی میں 1951-2001 GOLDEN JUBILEE NISHTER MEDICAL COLLEGE MULTAN کے الفاظ تحریر تھے۔ اس ڈاک ٹکٹ کا ڈیزائن غلام عباس خاصخیلی نے تیار کیا تھا۔

20 دسمبر2002ء کوپاکستان کے محکمہ ڈاک نے پاکستان کے ممتاز حکیم، حکیم محمد حسن قرشی کی یاد میں ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جو ان کی تصویر سے مزین تھا۔ اس ڈاک ٹکٹ کا ڈیزائن مسعود الرحمٰن نے بنایا تھا اور اس کی مالیت چار روپے تھی۔اس ڈاک ٹکٹ پر انگریزی میں SHIFA-UL-MULK HAKIM MUHAMMAD HASSAN QARSHI 1896-1974 کے الفاظ تحریر تھے۔

20دسمبر 1987ء کو لاہور میں واقع کیتھڈرل چرچ آف ری سرنکشن کے قیام کی صدسالہ سالگرہ کے موقع پر پاکستان کے محکمہ ڈاک نے ایک ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس پراس کیتھڈرل کی عمارت کی خوب صورت تصویر طبع کی گئی تھی ۔ اس ڈاک ٹکٹ کی مالیت تین روپے تھی اور اس پرCATHEDRAL CHURCH OF THE RESURRENCTION LAHORE 1887-1987کے الفاظٖ شائع کیے گئے تھے اور اس کا ڈیزائن پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ پیپرز کے ڈیزائنر جناب عادل صلاح الدین نے تیار کیا تھا۔

=ولادت[ترمیم]

1724ء گوپیکا بائی ، وائی کے باشندے بھیکاجی نائک راستے کی بیٹی اور مرہٹہ سلطنت کے پیشوا بالاجی باجی راؤ (جو بعد میں نانا صاحب پیشوا کے نام سے مشہور ہوئے) کی بیوی (وفات: 1778ء)

1841ء فرڈیننڈ بوئسوں نوبل امن انعام (1927ء) یافتہ فرانسیسی سیاست دان، تعلیم دان، امن کا حامی، تبدیلی پسند حامی (وفات: 1932ء)

1851ء کنوت وکسیل ، سوئیڈش ماہر معاشیات و استاد جامعہ (وفات: 1926ء)

1873ء محمد عاکف ارصوی ، ترکی کے معروف شاعر، ادیب، دانشور، رکن پارلیمان اور ترکی کے قومی ترانے "استقلال مارشی” کے خالق ، یہ ترانہ اور محمد عاکف کی تصویر ● 1983ء سے 1989ء تک رائج 100 ترک لیرا کے بینک نوٹ پر بھی موجود رہی۔ (وفات: 1936ء)

1890ء جاروسلیو ہیروسکی ، نوبل انعام برائے کیمیا (1959ء) یافتہ چیک کیمیادان، طبیعیات دان، موجد ، ان کا شعبہ پیلوریلوگرافی تھا۔ (وفات: 1967ء)

1912ء مولانا محفوظ الرحمن نامی ، بھارت سے تعلق رکھنے والے ممتاز عالمِ دین و خطیب (وفات: 1963ء)

1915ء محمد نصرت بمعروف عزیز نیسن ، بیسویں صدی کا ترکی کا مشہور ادیب، شاعر، ڈراما نگار، مزاح نگار، 100 سے زائد کتابوں کے مصنف اور جدید ترکی ادب کا معروف ترین نام ہے۔ (وفات: 1995ء)

1942ء رانا بھگوان داس ، نصیر آباد قمبر شہداد کوٹ میں پیدا ہونے والے پاکستانی وکیل و منصف ، (1994ء تا 3 فروری 2000ء) منصف عدالتِ عالیہ سندھ اور (4 فروری 2000ء تا 19 دسمبر 2008ء) منصف عدالت عظمیٰ رہے اور (25 مارچ 2007ء تا 20 جولائی 2007ء) نگران منصف اعظم عدالت عظمیٰ بھی رہے ۔ جسٹس رانا بھگوان داس اعلیٰ عدلیہ میں ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے پہلے جج تھے۔ (وفات: 2015ء)

1947ء مدنلال ورما 'كرانت' ، بھاارتی سابق بینکر، مفت لانس رایٹر ، ہندی شاعر اور مصنف

1955ء بن علی یلدرم ، تُرک انجینئر و سیاست دان ، 24 مئی 2016ء سے اٹھائیسواں وزیر اعظم ترکی

1956ء ڈاکٹر فہمیدہ مرزا ، ڈاکٹر ماہر امراضِ نسواں ، زرعی ماہر ، ماہرِ معاشیات و سیاست دان، (19 مارچ 2008ء تا 3 جون 2013ء) اٹھارہویں اسپیکر قومی اسمبلی پاکستان ، فہمیدہ مرزا پاکستان میں پہلی خاتون ہیں جو قومی اسمبلی کی اسپیکر منتخب ہوئیں ، 20 اگست 2018ء سے وزیر بین الصوبائی رابطہ ہیں۔

1956ء محمد ولد عبد العزیز ، موریطانوی فوجی افسر و سیاست دان ، 5 اگست 2009ء سے صدر موریتانیہ ہیں ۔ وہ (30 جنوری 2014ء تا 30 جنوری 2015ء) سربراہ افریقی اتحاد بھی رہے۔

1960ء تریویندر سنگھ راوت ، بھارتی سیاست دان ۔ ان کا تعلق سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی سے ہے۔ 18 مارچ 2017ء سے آٹھویں وزیر اعلیٰ اتراکھنڈ

1976ء کامران اعظم سوہدروی ، پاکستانی شاعر، سیرت نگار و مصنف

1978ء تنویر احمد ، کوئیت سٹی میں پیدا ہونے والے پاکستانی کرکٹ کھلاڑی

1982ء محمد آصف ، پاکستانی کرکٹ کھلاڑی ، جسے بدنام زمانہ برطانوی اخبار "نیوز آف دی ورلڈ" نے سٹے بازی کے مقدمہ میں پھنسوا کر برطانوی عدالت سے سزا دلوائی۔

1983ء ڈیرن جولیس گاروی سیمی بمعروف ڈیرن سیمی ، سینٹ لوسیا کا ایک کرکٹ کھلاڑی ہے جو ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کے لیے بین الاقوامی کرکٹ کھیلتا ہے۔

1984ء سنجیدہ شیخ ، کائیت میں پیدا ہونے والی بھارتی اداکارہ ، رقاصہ، نمونہ کار و ٹیلی وژن پیشکار

1992ء مختار احمد ، پاکستانی کرکٹ کھلاڑی ، اس نے اپنے ٹوئنٹی/20 بین الاقوامی کا آغاز بنگلہ دیش قومی کرکٹ ٹیم کے خلاف 24 اپریل، 2015ء کو کیا۔

1994ء نظریہ ناظم ، بھارتی فلمی اداکارہ ، پس پردہ گلوکارہ ، پیشکارہ ، نمونہ کارہ

1998ء کلیان مباپے ، فرانسیسی پیشہ ور فٹ بالر


20 دسمبر 1935ء پاکستان کے ایک ٹیسٹ کرکٹ کھلاڑی خالد عباداللہ کی تاریخ پیدائش ہے۔ خالد عبد اللہ لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے 4 ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی اور مجموعی طور پر 253 رنز اسکور کیے ، تاہم اس مختصر سے ٹیسٹ کیریئر کے باوجود پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں ان کا نام اس حوالے سے یادگار ہے کہ وہ پاکستان کے پہلے کھلاڑی تھے جنھوں نے اپنے پہلے ٹیسٹ میچ میں سنچری اسکور کرنے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ خالد عباد اللہ نے جس ٹیسٹ میچ میں سنچری اسکور کی تھی وہ 24 اکتوبر سے 29 اکتوبر 1964ء کے دوران کراچی میں آسٹریلیا کے خلاف کھیلا گیا تھا۔ اس ٹیسٹ میچ میں انہوں نے 166 رنز اسکور کیے تھے۔ خالد عباد اللہ کے علاوہ پاکستان کے جو کھلاڑی اپنے پہلے ٹیسٹ میچ میں سنچری اسکور کرنے کا اعزاز حاصل کرچکے ہیں ان میں جاوید میاں داد، سلیم ملک، محمد وسیم، علی نقوی، اظہر محمود، یونس خان، توفیق عمر، یاسر حمید، فواد عالم اور عمر اکمل کے نام شامل ہیں۔

سورن لتا 20 دسمبر 1924ء کو راولپنڈی کے ایک سکھ گھرانے میں پیدا ہوئی تھیں۔ سورن لتا کے فنی کیریئر کا آغاز 1942ء میں رفیق رضوی کی فلم آواز میں ایک ثانوی کردار سے ہوا تھا۔ 1943ء میںوہ نجم نقوی کی فلم تصویر میں پہلی مرتبہ بطور ہیروئن جلوہ گر ہوئیں، اس فلم کے ہیرو نذیر تھے۔نذیر کے ساتھ ان کی اگلی فلم لیلیٰ مجنوں تھی۔ یہی وہ فلم تھی جس کے دوران انہوں نے اسلام قبول کرکے نذیر سے شادی کرلی۔ ان کا اسلامی نام سعیدہ بانو رکھا گیا۔ اس زمانے میں انہوں نے جن فلموں میں کام کیا ان میں رونق، رتن، انصاف، اس پار اور وامق عذرا کے نام سرفہرست ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد وہ اپنے شوہر نذیر کے ہمراہ پاکستان آگئیں جہاں انہوں نے اپنے ادارے کے بینر تلے فلم سچائی بنائی۔ اس فلم میں ہیرو اور ہیروئن کا کردار نذیر اور سورن لتا نے ادا کیا۔ اسی سال پاکستان کی پہلی سلور جوبلی فلم پھیرے ریلیز ہوئی۔ اس فلم کے فلم ساز ، ہدایت اور ہیرو نذیر تھے جبکہ ہیروئن سورن لتا تھیں۔ پھیرے کی کامیابی کے بعد نذیر اور سورن لتا کی پنجابی فلم لارے اور اردو فلم انوکھی داستان ریلیز ہوئیں۔ 1952ء میں نذیر نے شریف نیر کی ہدایت میں فلم بھیگی پلکیں تیار کی جس میں سورن لتا نے الیاس کاشمیری کے ساتھ ہیروئن کا کردار ادا کیا۔ اس فلم میں نذیر نے ولن کا کردار ادا کیا تھا۔ 1953ء میں سورن لتا کی چار مزید فلمیں شہری بابو، خاتون،نوکراور ہیرریلیز ہوئیں۔ اس کے بعد بھی سورن لتا کی کئی اور فلمیں نمائش پزیر ہوئیں جن میں سوتیلی ماں، صابرہ، نور اسلام، شمع، بلو جی اورعظمت اسلام شامل تھیں۔ عظمت اسلام سورن لتا کی بطور ہیروئن اور نذیر کی بطور فلم ساز اور ہدایت کار آخری فلم تھی۔ اس کے بعد سورن لتا نے چند مزید فلموں میں کریکٹر ایکٹر کردار ادا کیے تاہم چند برس فلمی صنعت سے کنارہ کش ہوگئیں۔ سورن لتا ایک تعلیم یافتہ اداکارہ تھیں ، انہوں نے لاہور میں جناح پبلک گرلز اسکول کی بنیاد رکھی اور آخری وقت تک اس کی روح و رواں اور سربراہ رہیں۔ 8 فروری 2008ء کو برصغیر پاک و ہند کی نامور ہیروئن سورن لتا لاہور میں وفات پاگئیں۔ وہ لاہور میں آسودۂ خاک ہیں۔

=وفیات[ترمیم]

1170ء یوسف بن متقفی بمعروف المستنجد باللہ ، (11 مارچ 1160ء تا 18 دسمبر 1170ء) بتیسواں عباسی خلیفہ (پیدائش: 1124ء)

1915ء اپیندر کشور رائے چودھری ، بنگال کے مشہور مصنف، بچوں کے ادیب، مصور، طابع، وائلن نواز اور نغمہ نگار(پیدائش: 1863ء)

1928ء میر کرم علی خان ٹالپور، والی سندھ

1973ء ایڈمرل لوئس کیریرو بلان، وزیر اعظم اسپین، کو کامیڈرڈ میں کار بم دھماکا کر کے قتل کر دیا گیا۔

1976ء چوہدری غلام عباس، بانی مسلم کانفرنس، راولپنڈی میں انتقال کر گئے۔

1982ء آرٹ روبنسن، امریکی مصور

1998ء ایلن لائیڈ ہاجکین ، نوبل انعام برائے فزیالوجی اور طب (1963ء) یافتہ ماہر حیاتیات، حیاتی کیمیا دان، طبیب، عصبیات دان و استادِ جامعہ (پیدائش: 1914ء)

2009ء حسین علی منتظری ، شیعہ ایرانی عالم اور ایرانی حکومت کے نقاد (پیدائش: 1922ء)

2009ء برٹنی مرفی ، امریکی اداکارہ (پیدائش: 1977ء)

2017ء محمد مصطفٰی اعظمی ، عالمی شاہ فیصل اعزاز برائے مطالعہ اسلامیات (1980ء) یافتہ بھارتی نژاد سعودی محدث ، مصطفی اعظمی ایگناز گولڈزیہر، ڈیوڈ مارگولیوتھ اور جوزف شاخت کے نظریات پر تحقیقی تنقید کے لیے مشہور تھے۔ (پیدائش: 1932ء)

20 دسمبر 1991ء کو ممتاز عالم دین، ماہر قانون، دانشور، مصنف اور سابق رکن قومی اسمبلی مولانا ظفر احمد انصاری اسلام آباد وفات پاگئے۔ مولانا ظفر احمد انصاری 1908ء میں منڈارہ ضلع الہ آبادی میں پیدا ہوئے تھے۔ 1930ء میں انہوں نے الہ آباد یونیورسٹی گریجویشن اور 1933ء اسی یونیورسٹی فلسفے میں ایم اے کیا اور سرکاری ملازمت سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔ 1942ء میں ان کی ملاقات نوابزادہ لیاقت علی خان سے ہوئی جن کی تحریک پر آپ نے سرکاری ملازمت سے مستعفی ہوکر خود کو قیام پاکستان کی جدوجہد کے لیے وقف کر دیا۔ وہ آل انڈیا مسلم لیگ کے سینٹرل پارلیمانی بورڈ کے سیکریٹری اور آل انڈیا مسلم لیگ کے اسسٹنٹ سیکریٹری کے عہدوں پر فائز رہے۔ قیام پاکستان کے بعد انہیں قرارداد مقاصد کا متن تیار کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ 1951ء میں ملک کے تمام مکاتب فکر کے جید علمائے کرام کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے اور انہیں مشہور 22نکات پر متفق کرنے کا مشکل کام بھی ان کا زندہ جاوید کارنامہ ہے۔ 1956ء اور 1973ء کے دساتیر کی تدوین اور تسوید میں بھی انہوں نے فعال کردار کیا۔ 1970ء کے عام انتخابات میں وہ قومی اسمبلی کے آزاد رکن منتخب ہوئے۔ 1983ء میں انہیں پاکستان کے سیاسی نظام کے تعین کے لیے دستوری کمیشن کا سربراہ مقرر کیا، ضعیف العمری کے باوجود انہوں نے دن رات ایک کرکے یہ رپورٹ مکمل کی جو انصاری کمیشن رپورٹ کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس رپورٹ میں انہوں نے ان اقدامات کی سفارش کی جو مستقبل کی حکومت کے لیے بنیاد بن سکتے تھے مگر اس وقت کے صدر، صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے اس کمیشن کی رپورٹ سے کوئی استفادہ نہیں کیا اور یوں مولانا ظفر احمد انصاری کی یہ محنت رائیگاں گئی۔ مولانا ظفر احمد انصاری نے اسلامی آئین اور ہمارے دستوری مسائل :نظریاتی پہلو کے نام سے دو کتابیں بھی تصنیف کیں۔ وہ اسلام آباد کے مرکزی قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔⁦©️⁩

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ ت ٹ "آج کا دن تاریخ میں". اردو ڈاٹ کو.