24 نومبر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

24 نومبر تاریخ کے آئینے میں

1974ء۔۔لوسی ( Lucy) انسانی ڈھانچے کے قدیم ترین فوسلز ہیں جو ایتھوپیا سے 24 نومبر 1974 کو دریافت ہوئے تھے۔اسے لوسی کا نام دیا گیاتھا۔ یہ ڈھانچہ 3.2 ملین سال پرانا ہے

2007ء راولپنڈی میں دو خودکش کار بم دھماکوں میں تیس افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے .

2007ء سابق وزیر اعظم شوکت عزیزنے آئندہ انتخابات میں حصہ نہ لینے کا انکار کرتے ہوئے بیرون ملک منتقل ہونے کی تردید کی .

24 نومبر 1961ء کو ملکہ ترنم نور جہاں کی بہ حیثیت اداکارہ آخری فلم غالب ریلیز ہوئی۔ فلم غالب کے فلم ساز اور ہدایت کار سید عطاء اللہ شاہ ہاشمی تھے، اس کی موسیقی تصدق حسین نے ترتیب دی تھی.

1964ء اٹھارہ سو کے بعد پہلی بار واشنگٹن کے شہریوں کو رائے دہی کا حق حاصل ہوا .
24نومبر 1966ء کوپاکستان کے محکمہ ڈاک نے یونیسکو کی بیسویں سالگرہ کے موقع پر 15پیسے مالیت کا ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس پر یونیسکو کا خوب صورت مونوگرام طبع کیا گیا تھا 
1922ء اٹلی کی پارلیمنٹ نے مسولینی کو ایک سال کے لیے آمرانہ اختیارات تفویض کیے .

ولادت

1632ء بارخ سپینوز المعروف اسپینوزا، سترھویں صدی کا ولندیزی فلسفی اور سکالر, اخلاقیات (Ethics) اس کی اہم تصنیف ہے۔ (وفات: 1677ء)

1784ء جان لوئیس برکھارٹ، عرب کا مشہور" سفر نامہ حجاز " کا مصنف (وفات: 1817ء)

1784ء زیکری ٹیلر، امریکی جنرل اور سیاست دان، (4 مارچ 1849ء تا 9 جولا‎ئی 1850ء) بارہواں صدر ریاستہائے متحدہ امریکا (وفات: 1850ء)
1899ء ثریا طرزی المعروف ملکہ ثریا، (28 فروری 1919ء تا 14 جنوری 1929ء) افغانستان کی ملکہ اور امان اللہ خان کی بیوی تھیں۔ (وفات: 1968ء)

1925ء سم ونڈر میر، نوبل انعام برائے طبیعیات (1984ء) یافتہ ڈچ-سوئس ماہر طبیعیات ، انجینئر اور موجد ، یہ انعام انھیں اٹلی کے سائنس دان کارلو روبیا کے ہمراہ ڈبلیو زیڈ زرات کی دریافت پر یہ انعام ملا۔ (وفات: 2011ء)

1926ء سونگ داو لی، نوبل انعام برائے طبیعیات (1957ء) یافتہ چینی نژاد امریکی ماہر طبیعیات استاد جامعہ، نظری طبیعیات ، انہوں نے یہ انعام چن نینگ یانگ کے ساتھ مشترکہ جیتا جس کی وجہ پاریٹی والیشن کی دریافت تھی ۔ 
1936ء سیدہ انورہ تیمور، انڈین نیشنل کانگریس کی سیاست دان، (6 دسمبر 1980ء تا 30 جون 1981ء) وزیر اعلیٰ آسام ، آسام کی تاریخ میں وہ واحد خاتون اور اقلیتی وزیر اعلیٰ کے طور پر اپنی مفوضہ ذمے داری کو نبھایا ہے۔ بھارت کی تاریخ میں انورہ تیمور کسی بھی ریاست کی کی پہلی وزیر اعلٰی رہی ہے۔ ان کی وزارت اعلٰی کا دور اس وقت ختم ہوا جب ریاست کو چھ ماہ کے لیے صدر راج کے تحت رکھا گیا تھا۔ 1983ء سے 1985ء کے بیچ وہ اسی ریاست میں عوامی تعمیرات کی وزیر رہیں۔ 1991ء میں وہ آسام میں وزیر برائے زراعت بنائی گئیں۔ وہ آل انڈیا یونائیٹیڈ ڈیموکریٹیک فرنٹ میں 2011ء میں شامل ہوئیں۔ 
1944ء امول پالیکر، بھارتی ہندی اور مراٹھی سنیما کے اداکار، ہدایت کار اور تخلیق کار
1952ء پروین شاکر، اردو کی مشہور و معروف پاکستانی شاعرہ و مصنفہ ، نو سال شعبہ تدریس سے منسلک رہیں اور 1986ء میں کسٹم ڈیپارٹمنٹ، سی۔ بی۔ آر اسلام آباد میں سیکرٹری دوم کے طور پر اپنی خدمات انجام دینے لگیں۔ پروین کی شادی ڈاکٹر نصیر علی سے ہوئی جس سے بعد میں طلاق لے لی۔ پروین شاکر 24 نومبر 1952ء کو کراچی میں پیدا ہوئی تھیں۔ 1977ء میں ان کا پہلا مجموعہ کلام خوشبو شائع ہوا۔ اس مجموعہ کی غیر معمولی پذیرائی ہوئی اور پروین شاکر کا شمار اردو کے صف اول کے شعرامیں ہونے لگا۔ خوشبو کے بعد پروین شاکر کے کلام کے کئی اور مجموعے صد برگ، خود کلامی اور انکار شائع ہوئے۔ ان کی زندگی میں ہی ان کے کلام کی کلیات ’’ماہ تمام‘‘ بھی شائع ہوچکی تھی جبکہ ان کا آخری مجموعہ کلام کف آئینہ ان کی وفات کے بعد اشاعت پذیر ہوا۔ 26 دسمبر 1994ء کو اس خبر نے ملک بھر کے ادبی حلقوں ہی نہیں عوام الناس کو بھی افسردہ او6-ر ملول کردیا کہ ملک کی ممتاز شاعرہ پروین شاکر اسلام آباد میں ٹریفک کے ایک اندوہناک حادثے میں وفات پاگئی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق پروین شاکر صبح اپنے گھر سے اپنے دفتر جارہی تھیں کہ ان کی کار ایک ٹریفک سگنل پر موڑ کاٹتے ہوئے سامنے سے آتی ہوئی ایک تیزرفتار بس سے ٹکرا گئی۔ اس حادثے کے نتیجے میں پروین شاکر شدید زخمی ہوئیں، انہیں فوری طور پر اسپتال پہنچایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنے خالق حقیقی سے جاملیں۔ پروین شاکر کو اگر اردو کے صاحب اسلوب شاعروں میں شمار کیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ انہوں نے اردو شاعری کو ایک نیا لب و لہجہ دیا اور شاعری کو نسائی احساسات سے مالا مال کیا۔ ان کا یہی اسلوب ان کی پہچان بن گیا۔ آج بھی وہ اردو کی مقبول ترین شاعرہ تسلیم کی جاتی ہیں۔ پروین شاکر نے کئی اعزازات حاصل کئے تھے جن میں ان کے مجموعہ کلام خوشبو پر دیا جانے والا آدم جی ادبی انعام، خود کلامی پر دیا جانے والا اکادمی ادبیات کا ہجرہ انعام اور حکومت پاکستان کاصدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سرفہرست تھے۔ پروین شاکر اسلام آباد کے مرکزی قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں.

1952ء برجیش پٹیل، بھارتی کرکٹ کھلاڑی

1955ء ایئن بوتھم، انگلش آل راؤنڈر کرکٹ کھلاڑی
1957ء ڈینس کراسبی، امریکی اداکارہ اور پروڈیوسر
1960ء ابراہیم مشتاق عبد الرزاق ندیم میمن المعروف ٹائیگر میمن، بمبئی بم دھماکے، 1993ء کا ملزم

1978ء عامر علی، پاکستانی کرکٹ کھلاڑی

1981ء سیلنا جیٹلی، بھارتی فلمی اداکارہ

وفات

1675ء گرو تیغ بہادر، سکھ گرو , 9ویں نانک کے طور پر جانا جاتا ہے۔ وہ سکھ مذہب کے 10 میں سے 9ویں گرو تھے (پیدائش: 1621ء)
1929ء جورجس کلیمنکیو، فرانسیسی معالج، ناشر اور سیاست دان (پیدائش: 1841ء)
1961ء روتھ چاٹرٹون، امریکی اداکارہ (پیدائش: 1892ء)
1963ء لی ہاروے اوسوالڈ، کمال نشانچی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس وقت کے امریکی صدر جان ایف کینیڈی کو گولی مار کر قتل کر دیا۔ (پیدائش: 1939ء)
2004ء آرتھر ہیلی، انگریز کینیڈین صحافی اور مصنف (پیدائش: 1920ء)
2012ء آردیشر کاؤسجی، پاکستانی صحافی، اشرافیہ ، کراچی کے کاروباری شخص اور ڈان اخبار کے کالم نگار (پیدائش: 1926ء)
2015ء مریم مختار، پاک فضائیہ کی پہلی پاکستانی خاتون جنکجو پائلٹ ، میانوالی کے قریب ایک ایئرکرافٹ کریش میں شہید ہوئی۔ (پیدائش: 1992ء)
2016ء فلورنس ہینڈرسن امریکی اداکارہ (پیدائش: 1934ء)

٭24 نومبر 1949ء اردو کے معروف شاعر ثاقب لکھنوی کی تاریخ وفات ہے۔ ثاقب لکھنوی کا اصل نام مرزا ذاکر حسین قزلباش تھا اور وہ 2 جنوری 1869ء کو آگرہ میں پیدا ہوئے تھے۔ شاعری کا ایک دیوان ’’ دیوان ثاقب‘‘ یادگار چھوڑا۔ ثاقب لکھنوی کے بعض اشعار اردو شاعری میں ضرب المثل کی حیثیت رکھتے ہیں.

تعطیلات و تہوار[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]